ان کے جود و سخا کا تذکرہ
علی محمد الصلابیعبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما فیاض، خوش مزاج، بردبار، پاکباز اور سخی تھے، آپ کا لقب بحر الجود
(الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 881)
اور قطب السخا تھا
(الإصابۃ: جلد 4 صفحہ 37)
کہا جاتا ہے کہ ان کے زمانے میں مسلمانوں میں ان سے زیادہ سخی کوئی نہیں تھا، لوگوں کا خیال ہے: اسلام میں زیادہ سخاوت کرنے والے عرب دس تھے، اہل حجاز میں سب سے زیادہ سخی عبداللہ بن جعفر، عبید اللہ بن عباس بن عبدالمطلب اور سعید بن عاص رضی اللہ عنہم تھے، اور اہل کوفہ میں بنورباح بن یربوع کے عتاب بن ورقاء، اسماء بن خارجہ بن حصن فزاری رضی اللہ عنہ، بنوتیم اللہ بن ثعلبہ کے عکرمہ بن ربعی فیاض تھے، اہل بصرہ میں عمرو بن عبید بن معمر، طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہما بن خلف خزاعی، بنوملیح کے طلحۃ الطلحات اور عبید اللہ بن ابوبکرہ تھے، اہل شام میں خالد بن عبداللہ بن خالد بن اسد بن ابوالعاص بن امیہ بن عبدشمس تھے، ان تمام لوگوں میں عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے زیادہ سخی کوئی نہیں تھا، جود و سخا میں کوئی بھی مسلمان ان کے مرتبے کو نہیں پہنچتا تھا، اس پر ان کی سرزنش کی گئی تو کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک عادت کا عادی بنا دیا ہے اور میں نے لوگوں کو ایک عادت کا عادی بنا دیا ہے، مجھے خوف ہے کہ اگر لوگوں کے ساتھ اپنی عادت کو ختم کر دوں تو میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عادت نہ ختم ہوجائے۔
(الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 882)
علی بن حسین رحمۃاللہ سے مروی ہے وہ حسین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے ہمیں جود و سخا سکھلایا ہے۔
(تاریخ دمشق: جلد 29 صفحہ 187)
یہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو تواضع ہے، ورنہ وہ اور ان کے بھائی حسن رضی اللہ عنہ جود و سخا اور خرچ کرنے میں بہت آگے تھے، جود و سخا میں عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کے بعض واقعات درج ذیل ہیں: