Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تمھیں دینے کے لیے ہمارے پاس نہیں ہے، لیکن تم ابن جعفر کے پاس جاؤ

  علی محمد الصلابی

تاریخ میں اس بات کا تذکرہ آتا ہے کہ ایک بدوی موسم حج میں مدینہ میں مروان کے پاس پہنچا، مانگا تو انھوں نے کہا: تمھیں دینے کے لیے ہمارے پاس نہیں ہے، لیکن ابن جعفر کے پاس جاؤ، چنانچہ آپ کے پاس بدوی آیا تو سامانِ تجارت جاچکا تھا، دروازے پر ایک سواری تھی، جس پر اس کا ساز و سامان اورایک تلوار تھی، بدوی یہ اشعار پڑھنے لگا:

أبوجعفر من أہل بیت نبوۃ صلاتہم للمسلمین طہور

’’ابوجعفر نبوی گھرانے کے ہیں، جن پر درود بھیجنا مسلمانوں کے لیے پاکیزگی ہے۔‘‘

أبا جعفر ضن الامیر بمالہ و أنت علی ما فی یدیک امیر

’’اے ابوجعفر! امیر نے اپنے مال میں بخل کیا اور تو جو کچھ تیرے پاس ہے اس کا امیر ہے۔‘‘

أبا جعفر یا ابن الشہید الذی لہ جناحان فی أعلی الجنان یطیر

’’اے ابوجعفر! اے اس شہید کے بیٹے جن کے دو بازو ہیں جن سے وہ فردوس اعلیٰ میں اڑتے رہتے ہیں۔‘‘

أبا جعفر ما مثلک الیوم أرتجی فلا تترکنی بالفلاۃ أدور 

(تاریخ الإسلام حوادث و وفیات: 61-80، صفحہ 31)

’’اے ابوجعفر! آج کے دن آپ جیسا کوئی نہیں جس سے میں مانگوں، اس لیے مجھے چٹیل میدانوں میں حیراں و سرگرداں نہ چھوڑیے۔‘‘

آپ نے کہا: اے بدوی! سامان تجارت جا چکا ہے، اس لیے یہ سواری مع ساز و سامان لے لو، تلوار کے بارے میں تمھیں دھوکہ نہیں ہونا چاہیے میں نے اسے ایک ہزار دینار میں لیا ہے ۔

(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 459)