Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

آٹھواں طعن

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

ابوبکرؓ نے اپنے نفاق کا خود اقرار کیا ہے اور ایسا شخص قابلِ خلافت نہیں ہو سکتا۔ 

جواب: متقدمین شیعہ کس قدر شرم و حیا سے بھی کام لیتے تھے۔ لیکن آج کل کے شیعہ:

بے حیا باش ہرچہ خواہی گو! 

کے مصداق ہو کر ایسی بے تکی ”عربی نہ فارسی نہ ترکی، نہ تال کی نہ سُر کی“ ہانک دیا کرتے ہیں اس لیے ہم اصل حقیقت کو بے نقاب کرنا ضروری سمجھتے ہیں تاکہ ناظرین کو معلوم ہو کہ معترض اس طعن میں کہاں تک حق بجانب ہے، ترمذی میں ایک حدیث یوں لکھی ہے:

عن حنظلة الاسدی وما کان من کتاب رسول اللہﷺ انہ مر بابی بکر وھو یبکی فقال مالک یا حنظلة قال نافق حنظلة يا ابابكر فكون عند رسول اللہﷺ يذكرنا بالنار والجنة كانا راى عين فاذا رجعنا عافسنا الازواج والضيعة ونسينا كثيرا قال فو اللہ انا كذلك فانطلقنا فلما راه رسول اللہ رسول اللہﷺ قالا مالك حنظلة قال مالك حنظلة قال نافق حنطلة يا رسول اللہ تكون عندك تذكرنا بالنار والجنة كان راي عين فانا رجعنا عافسنا الازواج والضيغة ونسينا كثيرا قال فقال رسول اللہﷺ لا تدومون على الحال التی تقومون بها من عندي لصفاحتكم المئكة في مجالسكم وعلى فرشكم وفي ترقكم ولكن يا حنظلة ساعة وساعة (جامع ترمذی: صفحہ 413) 

“حنظلہ اسدی سے مروی ہے جو حضورﷺ کے کاتبوں میں سے تھا کہ وہ ابوبکرؓ کے پاس سے گزرا جب کہ وہ رو رہا تھا۔ ابوبکرؓ نے پوچھا تجھے کیا ہوا۔ کہا حنظلہ منافق ہو گیا ہے۔ اے ابوبکرؓ ہم رسولِﷺ کے پاس ہوتے ہیں جب کہ آپ ہمیں دوزخ و بہشت کی یاد دلاتے ہیں۔ گویا ہم دوزخ کو جنت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ پھر جب گھروں میں آتے ہیں عورتوں اور کام کاج کے شغل میں ہو جاتے ہیں اور بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔ ابوبکرؓ نے کہا بخدا میرا بھی یہی حال ہے، چل رسول اللہﷺ کے پاس چلیں۔ ہم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے۔ آپﷺ نے دریافت کیا حنظلہ کیا بات ہے، میں نے کہا حضورﷺ! حنظلہ منافق ہو گیا ہے۔ ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں، آپ ہمیں دوزخ و بہشت کی یاد دلاتے ہیں۔ گویا ہم آنکھوں سے مشاہدہ کر لیتے ہیں، پھر جب ہم گھر جاتے ہیں۔ بال بچوں اور کام کاج میں مصروف ہو کر بہت کچھ بھول جاتے ہیں، حضورﷺ نے فرمایا: اگر تم اسی حال پر رہو جو میرے پاس تمہاری حالت ہو جاتی ہے تو فرشتے تم سے تمہاری مجلسوں میں آ کر بلکہ تمہارے بستروں پر اور راستوں میں مصافحہ کریں۔ لیکن اے حنظلہ ساعت بساعت حالات بدلتے رہتے ہیں۔“

نادان معترض نے اس حدیث سے ٹھوکر کھا کر یہ طعن پیدا کیا ہے حالانکہ اس قسم کی احادیث ان کے مستند کتابوں میں بھی پائی جاتی ہیں جیسا کہ آگے بھی بیان ہوگا۔ 

اب اہلِ انصاف غور کریں کہ اس واقعہ سے حنظلہؓ اور سیدنا ابوبکرؓ کے نفاق کا ثبوت ملتا ہے یا ان کا کمالِ ایمان اور خوف و خشیت الٰہی ثابت ہوتی ہے کہ باوجود ان انوار و برکات کے لوٹنے کے جو حضورﷺ کی مجلس سے اٹھ کر اپنے گھروں میں آتے ہیں تو دنیا کے کام دھندوں میں مشغول ہو جاتے ہیں، ڈر ہے کہ اس کا مواخذہ نہ ہو۔ 

اب شیعہ سوچیں کہ کیا تمہارے بڑے بڑے لمبے القاب و خطاب والے مجتہد بھی یہی خشیتِ الٰہی دل میں رکھتے ہیں،حاشا و کلا زردے پلاؤ کھا کر رات ہے تو غفلت میں پڑے رہتے ہیں۔ دن ہے تو مریدوں میں بیٹھے حقہ ٹرخاتے رہتے ہیں:

نا آدابِ قرآن نہ آدابِ اصلاح 

دھواں یکطرف یکطرف ہیں ریاح

بھائی ہم تو دعا کرتے ہیں کہ ایسا نفاق ہم کو بھی نصیب ہو:

ایں سعادت بزورِ بازو نیست

تانہ بخشند خدائے بخشذہ

کاش جاہل معترض کو اپنی کتابوں پر عبور ہوتا تو ایسا بےہودہ اعتراض کرنے کی جرأت نہ کرتا، اسی مضمون کی حدیثیں اصولِ کافی میں بھی موجود ہیں۔ چناچہ صفحہ 573 میں ہے: 

دخل علي ابي جعفر حمران بن اعين فلما هم حمران بالقيام قال لابي جعفر علیہ السلام اخبرني اطال اللہ بقاءك لنا ومتعنا بك انا ناتيك فما تخرج من عندك حتىٰ ترق قلوبنا واتسئلوا انفسنا عن الدنيا ويهون علينا ما في ايدي الناس من هذهٖ الاموال ثم نخرج من عندك فاذا صرنا مع الناس والتجار اجبنا الدنيا قال فقال ابو جعفر عليه السلام انما هي القلوب مرة تصعب ومرة تسهل ثم قال ابو جعفر عليه السلام اما ان اصحاب محمدﷺ قالوا يا رسول الليه النخان علینا النفاق قال فقال ولم تخافون ذلك قالوا اذا كنا عندك وذكرتنا ورغبتنا، رغبنا ونسينا الدنيا وزهدنا حتىٰ كانا نعاين الآخرة والجنۃ والنار ونحن عندك فاذا خرجنا من عندك ودخلنا هذه البيوت شممنا الاولاد راينا العيال والاهل نكاد ان نحول عن الحالة التي كنا عليها عندك حتىٰ كان لم تكن على شيء افتخاف علينا ان يكون ذلك نفاقا فقال لهم رسول اللہ صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم كل ان هذه خطوات الشيطٰن فيسرغبكسم في الدنيا واللہ ولو تدومون على الحالة وصفتم انفسكم بها لصافعت كم الملئكۃ ومشيتم على الماء

”حمران بن اعین امام محمد باقر کے گھر گیا جب اٹھنے لگا تو کہا کہ اے امام! خدا آپ کی عمر دراز کرے اور ہمیں آپ کی ذات سے نفع بخشے۔ ہم آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کی خدمت سے اٹھتے وقت ہمارے دل بڑے نرم ہوئے ہوتے ہیں اور دلوں کو دنیا سے کتنا تعلق ہو جاتا ہے اور مال و متاع دنیا کو ہم حقیر سمجھتے ہیں جب آپ کے پاس سے نکل کر لوگوں اور بیو پاریوں سے ملتے ہیں پھر ہمیں مال دنیا سے محبت ہو جاتی ہے۔ امام باقر نے فرمایا دل کبھی سخت ہو جاتے ہیں اور کبھی نرم، پھر کہا اصحابِؓ رسولﷺ کہتے تھے یا رسول اللہ ہمیں اپنے منافق ہو جانے کا اندیشہ ہے آپ نے فرمایا، کیوں اصحاب نے کہا جب آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں اور آپ ہمیں پند و نصیحت کرتے ہیں ترغیب و ترہیب کرتے ہیں، ہم ڈر جاتے ہیں اور دنیا بھول جاتے ہیں حتیٰ کہ اپنی آنکھوں سے آخرت اور بہشت اور دوزخ کو دیکھ لیتے ہیں، پھر جب آپ سے اٹھ کر نکلتے ہیں اور گھروں میں داخل ہوتے ہیں اور اولاد کو پیار کرتے ہیں اور اہل و عیال کو دیکھتے ہیں تو یہ حالت ہو جاتی ہے کہ گویا ہماری وہ حالت جو آپ کے حضور میں ہوتی ہے تبدیل ہونے کو ہے کیا آپ ہم پر نفاق کا اندیشہ کرتے ہیں؟ حضورﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں، یہ شیطانی وسوسے ہیں جو تمہیں دنیا کی رغبت دیتے ہیں، بخدا اگر تم اس حالت پر نہ ہو جو تم نے ذکر کیا ہے تو آسمان کے فرشتے تم سے مصافحہ کرے اور تم پانی پر چلنے لگو۔

دوسری حدیث کتاب مذکور کے صفحہ 574 میں ہے: 

عن حمران انا ابي جعفر عليه السلام قال ان رجلا اتى رسول اللہﷺ فقال يا رسول اللہ اني نافقت فقال واللہ نافقت ولو نافقت ما ايتنی فعلمني ما الذي رابك الظن العدو الحاضر اتك فقال لك من خلقك فقلت اللہ خلقني فقال من خلق اللہ فقال اي والذي بعثك بالحق لكان كذا فقال ان الشيطان اتاكم من قبل الاعمال فلم يقوا عليكم فاتكم من هذا الوجه لك يستزلكم فاذا كان كذلك فليذكر احدكم اللہ وحده 

”حمران روایت کرتا ہے امام باقر سے، ایک شخص ان آنحضرتﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا، حضورﷺ میں نے نفاق کیا ہے آپ نے فرمایا ”خدا کی قسم تو نے نفاق نہیں کیا اور اگر تو نفاق کرتا تو میرے پاس نہ آتا پھر فرمایا بتا کس چیز نے تجھ کو شک میں ڈالا ہے؟ میں گمان کرتا ہوں کہ شیطان تیرے پاس آیا ہے اور تجھے کہا ہے کہ کس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اور تو نے کہا، خدا نے پھر کہا خدا کو کس نے پیدا کیا ہے۔ وہ شخص کہنے لگا بخدا حضورﷺ اور یہی بات ہے آپ نے فرمایا شیطان نے اعمال کے بارے میں تم ایک گمراہ کرنا چاہا تو اس بات پر قادر نہیں ہو سکا پھر اس نے یہ طریق اختیار کیا ہے تاکہ تمہیں لغزش دے جب ایسا ہو تو تم خدائے وحدہ کا ذکر کیا کرو تاکہ شیطان رفع ہو جائے۔“

ان دو احادیث نے جو شیعہ کی مستند کتاب اصولِ کافی سے با روایت ائمہ اہلِ بیت مذکور ہیں، حدیث حنظلہؓ کی تشریح کر دی ہے، جن کا مضمون بعینہٖ وہی ہے بلکہ اس سے بھی کچھ زائد ہے کہ اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کمال خوفِ الہٰی سے ذرا ذرا باتوں سے کانپ جاتے تھے اور آنحضرتﷺ کہ حضور میں حاضر ہو کر استفسار کیا کرتے تھے کہ ایسے وسوسوں سے ہماری ایمانی حالت میں کچھ خلل تو نہیں آ جاتا۔ حضورﷺ ان کی تشفی فرمایا کرتے تھے کہ خدا کی قسم تمہاری ایمانی حالت میں ان باتوں سے تغیر نہیں ہوتا۔ اور جن کے ایمان میں کچھ خلل ہو ان کو ہماری سرکار میں آنے اور استفسار کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ یہ معمولی شیطان کی حرکات ہیں جو ایک ڈاکو چور کی طرح تمہارے خزانہ ایمان کو غارت کرنا چاہتا ہے اعمال کی وجہ سے تو تم پر اس کا کوئی بس نہیں چل سکتا کہ تمہیں پھسلا سکے نا چار دلوں میں وسوسہ ڈالنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ لیکن ایسی خفیف حرکات سے اس کو کس طرح کامیابی ہو سکتی ہے۔ تم لوگ راسخ الایمان صالح الاعمال ہو اور یہی تمہارے کامل ایمان کی علامت ہے کہ شیطان کے ایسے حملوں کے وقت تم حصن حصین دربارِ رسالتﷺ کی پناہ لے لیتے ہو۔

 امید ہے کہ معترض کی کسی قدر تشفی ہو گئی ہوگی۔ ہاں ہم یہ بھی لکھ دیں کہ خاصانِ خدا کا یہ خاصہ ہوتا ہے کہ باوجود عدم صدور ذنب کے وہ خود کو گنہگار کہتے ہیں۔ اصولِ کافی میں صفحہ 573 میں ایک حدیث ہے کہ واللہ ان ینجر من الذنب الا من اقربہ (بخدا گناہ سے وہ شخص نجات پاتا ہے جو گناہ کا اقراری ہو) دیکھو حضرت یوسف علیہ السلام جو پیغمبر معصوم تھے کہتے ہیں مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ(میں اپنے نفس کو بری نہیں سمجھتا کیونکہ نفس بدی کی رغبت دلاتا ہے) کیا معترض اس سے یہ استدلال کیا کرے گا کہ حضرت یوسف علیہ السلام معاذ اللہ گناہ سے مبرّا نہ تھے بلکہ نفس کے تابع حُکم تھے؟ ایسا خیال کرنا ایک نبی کی نسبت کفر ہے۔ 

ہاں یہ بتاؤ کہ نبی آخر الزمانﷺ کو تو تم معصوم مانتے ہو لیکن اصول کافی صفحہ 202 میں ایک حدیث ہے:

عن ابی عبداللہ علیہ السلام قالا کان رسول اللہ یستغفر اللہ عزوجل کل یوم سبعین مرۃ 

” حضرت جعفر صادق رحمۃاللہ کا قول ہے کہ رسولﷺ دن میں 70 دفعہ اللہ سے طلبِ مغفرت کرتے تھے۔“

کیا اس سے یہ قیاس ہو سکتا ہے کہ العیاذ باللہ آپ گنہگار تھے، اس لیے طلب مغفرت فرماتے تھے۔ پھر جناب امیرؓ جن کو شیعہ معصوم سمجھتے ہیں اپنی خطاؤں کا زیل میں اقرار فرما کر طلب مغفرت کرتے ہیں:

ذنوبی بلانی فما حیلتی اذا

اذا کنت فی الحشر حما لھا

اتیتک باکیا فارھم بکائی

رجائی منک اکثر خطائی

یظن الناس بی خیر وانی

اشر الناس ان لم یعف عنی 

ترجمہ: میرے گناہ میرے لیے مصیبت ہیں، اور میرا چارہ کیا ہوگا جب کہ قیامت میں ان کا بوجھ میرے سر پر ہوگا، الٰہی تیرے حضور میں روتا ہوا آیا ہوں، میری گریۂ زاری پر رحم کیجیو، تیرے فضل کے امید میری خطا سے بڑھ کر ہے، لوگ مجھے اچھا سمجھتے ہیں اور سب سے برا ہوں اگر تو مجھے معاف نہ کرے۔“

اب بتاؤ ان اشعار سے خارجی یہ استدلال کر سکتا ہے کہ اس کی منطق کی زد اُلٹی اس کے مذہب پر اور پیشوائے مذہب حضرت علی المرتضیؓ پر پڑتی ہے، ذرا ہوش کیجیے: 

اے چشمِ اشکبار! ذرا دیکھ تو سہی

یہ گھر جو بہہ رہا ہے کہیں تیرا گھر نہ ہو 

بات یہ ہے کہ محبوبانِ حضور کبریائی اپنی عبادت کو بھی بمقابلہ نعمت ہائے غیر متناہی جو وہب العطایا سے انہیں حاصل ہیں، گناہ سمجھ کر ہر وقت باعتراف قصور اس کی بارگاہ سے طلب مغفرت کیا کرتے ہیں جیسا کہ باقر مجلسی نے حیات القلوب صفحہ 54 میں اس مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے: 

حسنات الابرار سیئات المقربین

”نیک لوگوں کی نیکیاں مقربین کی بدیاں متصور ہوں گی“

اب اس طعن کا ہر طرح سے دفعیہ ہو چکا ہے یہ مطاعن حضرت صدیق اکبرؓ کے متعلق تھے۔ اب وہ مطاعن لکھے جاتے ہیں جو شیعہ صاحبان اپنی جہالت سے فاروق اعظمؓ کی نسبت کیا کرتے ہیں۔