Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ہم نے اسے فنا ہونے والی چیز دی ہے اور اس نے ہماری تعریف کی ہے جو بیان کی جائے گی اور ایسی ستائش کی ہے جو باقی رہے گی

  علی محمد الصلابی

ایک شاعر نے آپ کی تعریف کی، آپ نے اسے اونٹ، گھوڑے، کپڑے، دراہم اور دنانیر دیے، آپ سے کہا گیا: اس مقدار میں اس کالے کلوٹے کو دے رہے ہیں؟ آپ نے کہا: اگر وہ کالا ہے تو اس کے اشعار سفید ہیں، اپنے اشعار کے بدلے جو کچھ پایا ہے اس سے زیادہ کا وہ حقدار ہے، ہم نے تو اسے فنا ہونے والی چیز دی ہے اور اس نے ہماری تعریف کی ہے جو بیان کی جائے گی، ایسی ستائش کی ہے جو باقی رہے گی، ایک قول کے مطابق یہ معاملہ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما اور عبید اللہ بن قیس الرقیات کے درمیان کا ہے۔

(الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 882)

 نیز انھوں نے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کے بارے میں درج ذیل اشعار بھی کہے ہیں:

و ما کنت إلا کالأغر بن جعفر رأی المال لا یبقی فأبقی لہ ذکرا

(الإصابۃ: جلد 4 صفحہ 38)

’’اے ابن جعفر! آپ اس معزز شخص کی طرح ہیں جس کا خیال ہے کہ مال باقی رہنے والا نہیں، اس خیال کے باعث اس نے اپنی یاد کو باقی رکھا ۔‘‘

نیز یہ بھی انھی کے اشعار ہیں:

نفذت بی الشہباء نحو ابن جعفر سواء علیہا لیلہا و نہارھا

’’اونٹنی نے مجھے رات و دن سفر کر کے ابن جعفر تک پہنچایا۔‘‘

تزور امرأ قد یعلم اللّٰہ انہ تجود لہ کف قلیل غرارہا

’’ایسے شخص سے ملاقات کرنے پہنچی جس کا دستِ سخاوت اللہ کے علم میں دھوکہ نہیں دیتا۔‘‘

فو اللّٰہ لولا أن تزور ابن جعفر لکان قلیلا فی دمشق قرارہا

’’اللہ کی قسم اگر وہ ابن جعفر سے نہ ملاقات کرتی تو دمشق میں بہت کم ٹھہر پاتی۔‘‘

أتیتک أثنی بالذی أنت أہلہ علیک کما أثنی علی الروض جارہا

’’میں آپ کے پاس آ کر آپ کی شایانِ شان تعریف کر رہا ہوں، جیسا کہ خوبصورت باغ کا پڑوسی اس کی تعریف کرتا ہے۔‘‘

ذکرتک إذ فاض الفرات بارضنا وجلل اعلی الرقتین بحارہا

’’آپ کی سخاوت کا سیلاب مجھے یاد آیا جب جب دریائے فرات میں سیلاب اور سمندروں میں طوفان آیا ہے۔‘‘

فإن مت لم یوصل صدیق و لم تقم طریق من المعروف أنت منارہا

’’آپ کے مرجانے پر نہ تو دوستوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے گا، اور نہ ہی بھلائی و احسان کا وہ راستہ باقی رہے گا جس کی علامت آپ ہیں۔‘‘

مصعب بن عبداللہ کا قول ہے کہ عبدالملک بن مروانؒ نے کہا: اے ابن قیس تیرے لیے بربادی ہو ، ابن جعفر کے بارے میں یہ شعر کہتے ہوئے ڈرا نہیں:

اتت رجلا قد یعلم اللّٰہ أنّہ یجولہ کف قلیل غرارہا

’’وہ اونٹنی ایسے شخص کے پاس پہنچی جس کا دستِ سخاوت اللہ کے علم میں دھوکہ نہیں دیتا۔‘‘

تو نے’’قد یعلم اللّٰہ‘‘ کے بجائے ’’قد یعلم الناس‘‘ کیوں نہیں کہا؟ ابن قیس نے ان سے کہا: اللہ کی قسم یہ چیز اللہ کو معلوم ہے، تمھیں بھی معلوم ہے اور لوگوں کو بھی معلوم ہے۔

(الإصابۃ: جلد 4 صفحہ 38)

عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کی تعریف میں شماخ بن ضرار نے کہا:

إنک یا ابن جعفر نعم الفتی و نعم ماوی طارق إذا أتی

(تاریخ دمشق: جلد 29 صفحہ 185)

’’اے ابن جعفر! آپ کتنے اچھے نوجوان ہیں، اور رات کو آنے والے کے لیے کتنی اچھی پناہ گاہ ہیں۔‘‘

و رب ضیف طرق الحی سری صادف زادا و حدیثا ما اشتہی

(الإصابۃ: جلد 4 صفحہ 39)

’’بہت سے مہمان جو رات میں قبیلے میں پہنچتے ہیں تو وہ من پسند کھانا اور اچھی گفتگو پاتے ہیں۔‘‘

ایک بدوی عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا جب کہ انھیں بخار تھا، چنانچہ کہنے لگا:

کم لوعۃ للندی و کم قلق للجود والمکرمات من قلقک

’’آپ کی پریشانی و تپش کے باعث جود و سخا اور داد و دہش کو کتنی پریشانی و تپش ہے۔‘‘

البسک اللّٰہ منہ عافیۃ فی نومک المعتری و فی أرقک

’’سوتے جاگتے ہر حال میں اللہ تعالیٰ آپ کو اس سے عافیت عطا کرے۔‘‘

أخرج من جسمک السقام کما أخرج ذم الفعال من عنقک

’’آپ کی جسمانی بیماری آپ سے دور کردے جس طرح بری عادتوں کو آپ سے دور کردیا ہے۔‘‘

چنانچہ آپ نے اسے ایک لاکھ دینار دینے کا حکم صادر کردیا۔

(تاریخ دمشق: جلد 29 صفحہ 194)

ایک دن عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سفر میں تھے، آپ کا گزر چند نوجوانوں کے پاس سے ہوا جو ہانڈی میں کچھ پکا رہے تھے، ان میں سے ایک نے آپ کے پاس پہنچ کر کہا:أقول لہ حین ألفیتہ علیک السلام أبا جعفر

’’ان سے ملنے پر میں نے کہا: اے ابوجعفر آپ پر سلامتی ہو۔‘‘

چنانچہ انھو ں نے رک کر جواب دیا: علیک السلام و رحمۃاللہ، پھر اس نے کہا:

و ہذی ثیابی قد أخلقت و قد عقّنی زمن منکر

’’یہ میرے کپڑے بوسیدہ ہوچکے ہیں، اجنبی زمانے نے مجھ سے تعلق توڑ لیا ہے۔‘‘

کہا: ان کے بدلے میرا یہ ریشمی جوڑا لے لو، یہ تمھاری پریشانی میں کام آئے گا، اس پر اس نے کہا:

فأنت کریم بنی ہاشم و فی البیت منہا الذی یذکر

’’آپ بنوہاشم کے اچھے آدمی ہیں، اور اس کے مشہور خاندان سے آپ کا تعلق ہے۔‘‘

اس پر آپ نے کہا: ارے بھائی،ایسی ذات تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔

(تاریخ دمشق: جلد 29 صفحہ 199)

ایک شخص نے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کو ایک رقعہ لکھ کر ان کے گاؤ تکیہ کے نیچے رکھ دیا، عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تکیہ کو پلٹا تو رقعہ پر نظر پڑی، پڑھ کر اسی جگہ رکھ دیا، نیز اسی کے ساتھ ایک تھیلی میں پانچ ہزار دینار بھی رکھ دیے، وہ آدمی آپ کے پاس آیا، آپ نے اس سے کہا: گاؤ تکیہ پلٹو، دیکھو اس کے نیچے جو ہے لے لو، چنانچہ وہ تھیلی لے کر یہ کہتے ہوئے جانے لگا:

زاد معروفک عندی عظما أنہ عندک مستور حقیر

’’آپ کے احسان کی عظمت اس سے بڑھ جاتی ہے کہ وہ آپ کے نزدیک حقیر ہے اور آپ نے اس کا اعلان نہیں کیا ہے۔‘‘

تتناساہ کأنہ لم تأتہ و ہو عند اللّٰہ مشہور کبیر

(تاریخ دمشق: جلد 29 صفحہ 189)

’’آپ اس کو اس طرح بھلا دیتے ہیں گویا آپ نے اسے انجام نہیں دیا جب کہ وہ عنداللہ عظیم و معروف ہے۔‘‘