نواں طعن (حدیثِ قرطاس)
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہقال ابن عباس يوم الخميس ما يوم الخميس اشتد به وبرسول اللہﷺ وجعه فقال ائتونى اكتب لكم كتابا لن تضلوا بعده ابدا فتنازعوا ولا يبتغی عند نبي تنازع فقالوا ما شانہ احجر استفهموا فذهبوا يردون عنده فقال دعونی فالذي انا فيه خير مما تدعونی اليہ وا وصاهم بثلٰث قال اخرجو المشركين من جزيرۃالعرب اجيز والموفد بنحو ما كنت اجزيهم وسكت عن الثالثۃ او قال نسيتها
ابنِ عباسؓ نے کہا، جمعرات کا دن اور وہ کیسا دن
تھا کہ اس میں رسول اللہﷺ کو درد کی شدت تھی پس فرمایا لاؤ میرے پاس تمہیں ایک تحریر لکھ دوں کہ تم کبھی اس کے بعد گمراہ نہ ہو سکو۔ حاضرین آپس میں جھگڑنے لگے اور کہنے لگے آپ کا کیا حال ہے کیا آپ ہجرت (دنیا سے) کرنے کو ہیں آپ سے دریافت کرو، ان لوگوں نے آپ سے سوالات شروع کیے، پھر آپ نے فرمایا مجھے چھوڑ دو کیونکہ جس حالت میں، میں ہوں اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو پھر آپ نے تین وصیتیں کی:
1ـ یہ کفار مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو
2ـ کہ وفدوں کو میری طرح عطیے دیتے رہنا
3ـ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سکوت فرمایا کہا اس سے بھول گیا
توضیح
بخاری میں یہ حدیث با اختلاف الفاظ معتدد جگہ مذکور ہے۔ کسی جگہ ہے ایتونی بالکتف واللوح والدوات (میرے پاس شانہ اور دوات یا تختی اور دوات لاؤ) فقال بعضهم ان رسول اللہ غلبہ الوجع وعندكم القرآن حسبنا كتاب اللہ (بعض نے کہا حضورﷺ کو اس وقت تکلیف ہے اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے اور ہمیں کتاب اللہ کافی ہے) ایک جگہ ہے:
فقال عمر ان رسول اللہﷺ غلبه الوجع وعندكم القرآن حسبنا كتاب اللہ فاختلف اهل البيت فاختصموا منهم من يقول ما قال تربو يكتب رسول اللہﷺ كتابا لن تضلوا بعده منهم من يقول ما قال عمر فلما اكثرا واللغو والاختلاف عند رسول اللہ قال رسول اللہ قوموا قال عبد الله فكان ابن عباس ان الرزيۃ ما حال بين رسول اللہ وبين ان يكتب لهم ذلك الكتب من اختلافهم وبغطهم
”عمرؓ نے کہا، حضورﷺ کو اس وقت تکلیف ہے اور تمہارے پاس قرآن ہے کتاب اللہ ہمیں کافی ہے، پس گھر والوں نے اختلاف شروع کر دیا، بعض کہتے تھے کہ حضورﷺ کو کاغذ دو، ایسی تحریر لکھ دیں کہ اس کے بعد تم کہیں گمراہ نہ ہو جاؤ، بعض وہ بات کہتے تھے جو عمرؓ کہتے تھے جب شور و غل پڑ گیا تو حضورﷺ نے فرمایا چلے جاؤ عبداللہ کہتے ہیں مصیبت بڑی مصیبت تھی جو حضورﷺ اور لوگوں میں تحریر کے متعلق رکاوٹ پڑ گئی کیونکہ شور و غل زیادہ ہو گیا تھا۔“
خلاصہ طعن شیعہ
اس حدیث کے متعلق شیعہ صاحبان حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر حسب ذیل طعن کرتے ہیں:
1: عمرؓ نے قول آنحضرتﷺ کو رد کیا، حالانکہ آپ کا قول بحکم آیت وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى سراسر وحی تھا اور ردِ وحی کفر تھا۔
2: عمرؓ نے قول آنحضرتﷺ کو ہذیان سے تعبیر کیا، یہ کمال گستاخی اور بے ادبی ہے۔
3: عمرؓ نے رسول اللہﷺ کے حضور میں رفع صوت کیا، جو بحکمِ آیت لَاتَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ ممنوع تھا۔
4: وصیت میں رکاوٹ ڈال کر حق اُمت تلف کیا، وصیت لکھی جاتی تو اُمت کی بھلائی ہوتی۔
الجواب
اوّل: یہ حدیث جتنے طرق سے مروی ہے سب میں آخری راوی عبداللہ بن عباسؓ ہیں۔ حالانکہ جس وقت کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے اس وقت ان کی عمر 13 سال کی تھی کیونکہ آپ ہجرت سے تین سال پہلے یعنی 619ء میں پیدا ہوئے اور 68ھ مطابق 688ء طائف میں فوت ہو گئے تھے اور 13 سال کے نابالغ بچے کے اکیلی شہادت کب قابلِ قبول ہو سکتی ہے جب کہ حضور کی مرض الموت کے وقت تمام اصحاب اور اہلِ بیت رسولﷺ کا موجود ہونا ضروری ہے۔ ناممکن ہے کہ ایسے نازک وقت میں یہ سب لوگ موجود نہ ہوں۔ پھر جب ان اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جن میں سیدنا علی المرتضیؓ بھی شامل ہیں کوئی بھی اس واقعہ کی روایت نہیں کرتا تو ایک نابالغ بچے کی شہادت کس طرح قابلِ سماعت ہو سکتی ہے؟ یہ ظاہر ہے کہ ایسے موقعہ پر بڑے بڑے حضوری اشخاص پاس ہوا کرتے ہیں اور چھوٹے بچوں کو وہاں جگہ ملنی مشکل ہوتی ہے پھر جب ورائیت کے لحاظ سے یہ حدیث صرف عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہونے کے باعث جو اس وقت بالغ بھی نہ تھے۔ ناقابلِ اعتبار ہے تو اس پر شیعہ صاحبان کی اس قدر ہوائی قلعے تعمیر کر کے سیدنا عمرؓ جیسے جلیل الشان خلیفہ کے خلاف الزام قائم کرنا کیا وقعت رکھتا ہے۔
دوم: الزامات میں جو حضرت عمرؓ کے ذمہ عائد کیے جاتے ہیں، الفاظ حدیث میں ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ سب سے بڑا الزام جو سیدنا عمرؓ کے ذمے تھوپا جاتا ہے یہ ہے کہ انہوں نے قول آنحضرتﷺ کو ہزیان سے نسبت دی لیکن حدیث سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ جس لفظ سے شیعہ صاحبان خوش فہمی سے ہذیان کا معنیٰ لیتے ہیں، وہ اھجر ہے لیکن حدیث میں یہ نہیں ہے کہ یہ لفظ حضرت عمرؓ نے کہا حدیث فقالوا ما شانہ اھجر استفھموہ لکھا ہے۔ یعنی حاضرین نے یہ لفظ کہا پھر اس جمع کے صیغے کا فاعل واحد (عمرؓ) کو قرار دینا شیعہ حضرات کی بے علمی کی دلیل ہے۔
اے ترک من منازکہ ترکی تمام شد
نیز اھجر کا معنیٰ ہذیان کرنا شیعوں کی ڈبل جہالت کی دلیل ہے۔ معنیٰ عبارت یہ ہے کہ حضورﷺ کا کیا حال ہے کیا آپ دنیا سے ہجرت فرمانے لگے ہیں۔ آپ سے دریافت تو کرو۔ اگر ہجرت کے معنے ہذیان کیے جائیں تو استفہموا کا معنیٰ صحیح نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جس شخص کی نسبت یہ ہے گمان ہو کے اس کے حواس مختل ہو گئے ہیں اور ہذیان (بہکی باتیں) کہ رہا ہے تو کوئی پاگل بھی یہ نہیں کہے گا کہ اس سے پوچھو تو صحیح کہ تمہارے اس کلام کا مفہوم کیا ہے۔ کیا مجنون کو مجنون یقین کرنے کے بعد کوئی عقلمند کہ سکتا ہے کہ بتلاؤ تو صحیح تمہاری اس بڑ کا مطلب کیا ہے۔ غرض لفظ استفھموا اہلِ فہم کو سمجھانے کے لیے کافی ہے یہاں اھجر کا معنیٰ وہ نہیں جو شیعہ کرتے ہیں بلکہ اس کا معنیٰ یہی ہے کہ کہ آپ کا یہ وقت دنیا سے ہجرت (رحلت) کا ہے کہ آپ ایسی شدت درد کی حالت میں لکھنے کی تکلیف برداشت فرمانا چاہتے ہیں کہ یہ پھر یہ موقعہ نہیں مل سکتا۔ جب اس لفظ کا وہ معنیٰ ہی نہیں ہے جو ہمارے شیعہ دوست سمجھ رہے ہیں تو پھر سارے ہوائی قلعے جو اسی لفظ کی بنیاد پر تعمیر کیے جاتے ہیں یکسر مسمار ہو جاتے ہیں۔
علاوہ ازیں اگر ہجر کا معنیٰ بفرض محال ہذیان بھی کیے جائیں تو چونکہ اہجر میں ہمزہ استفہام موجود ہے اور یہ استفہام انکاری ہوگا تو پھر بھی شیعوں کا مدعا پورا نہیں ہو سکتا۔ مطلب قائل کا یہ ہے کہ جو کچھ حضورﷺ فرما رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ آپ ہذیان نہیں کہ رہے ہیں۔ اس لیے آپ سے دریافت کرنا چاہیے کہ اس تحریر سے بحکمِ وحی کسی ضروری مسئلہ بتلانا مقصود ہے۔ یا بطور استحسان حضورﷺ کچھ ارشاد فرمانا چاہتے ہیں تو زبانی بھی ہو سکتا ہے یا اس کے بعد بھی ہو سکتا ہے جب حضورﷺ کو کچھ افاقہ ہو جائے۔
اور احادیث سے یہ ظاہر ہے کہ اس معاملہ میں حاضرین دو فریق میں منقسم ہو گئے تھے۔ بعض اصرار کرتے تھے کہ قلم دوات کاغذ حاضر کیا جائے۔ بعض قول عمرؓ سے اتفاق کر کے کہتے تھے کہ مسائل دین و دنیا کی تکمیل بذریعہ قرآنِ کریم ہو چکی ہے۔ کوئی امر باقی نہیں ہے اس لیے حضورﷺ کو ایسے تکلیف میں ڈالنا عشاقِ ذات احمدی گوارا نہیں کر سکتے۔ پھر ان دو فریق میں ایک طرف سیدنا علیؓ اور بنو ہاشم بھی ضرور ہوں گے اور وہ الزامات جو بلاوجہ سیدنا عمرؓ کہ ذمے لگائے جاتے ہیں۔ ان کے ذمہ دار حضرت علیؓ اور جملہ بنو ہاشم بطریق اولیٰ ہوں گے۔ اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے طرف داروں نے کاغذ قلم دوات حاضر نہ کر کے فرمانِ نبویﷺ کی تعمیل نہ کی تو حضرت علیؓ کا فرض تھا کہ فوراً اشیاء مطلوبہ حاضر کر کے تحریر لے لیتے۔
*کیا وہ تحریر ضروری تھی؟*
اب سوال یہ ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے جس امر کے لیے کاغذ قلم دوات طلب فرمائے تھے، وہ کوئی ضروری امر تھا اور وہی حق کے ذریعہ اس کا حکم تھا یا ویسے مصلحتاً حضورﷺ لکھنا چاہتے تھے اور پھر وہ اصلاح ملتوی ہو گئی۔ شیعہ کہتے ہیں کہ اس وقت رسولﷺ خلافتِ علی المرتضیٰؓ کے متعلق وصیت لکھنا چاہتے تھے لیکن یہ بات شیعہ کے سخت بر خلاف ہے، کیونکہ وہ اس سے شیعہ کے باقی تمام استدلالات پر پانی پھر جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ بروز خم غدیر حضورﷺ نے خلافتِ علیؓ کا اعلان فرمایا اور نہ کوئی حدیث یا آیت اس وقت خلافتِ علیؓ پر نص تھی۔ تب ہی تو آپ کو یہ فکر دامنِ گیر ہوئی کے خلافت علیؓ کی وصیت لکھ دی جائے۔ شیعہ نے اپنا یہ خیال ظاہر کر کے حضورﷺ خلافت کا فیصلہ کرنا چاہتے تھے، باقی استدلالات کی خود تردید کر دی اور وصیت تحریر ہی نہیں ہوئی شیعہ حضرات کو ناکامی پر ناکامی کا سامنا ہوا۔
نہ خدا ہی ملا نا وصالِ صنم
نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے
علاوہ ازیں اگر تحریر ضروری اور بحکم وحی تھی اور محض چند اشخاص کے اختلاف رائے کے باعث حضورﷺ اس ضروری حکمِ الٰہی کی تعمیل سے قاصر رہے تو آپ کے ذمہ سخت الزام عائد ہوتا ہے کہ آپ نے فرض تبلیغ رسالت میں کوتاہی کی اور سیدنا علیؓ اور دیگر اہلِ بیتؓ کے ذمے الزام ہے کہ انہوں نے چند اجنبی اشخاص کی مخالفت کی وجہ سے رسول اللہﷺ کی امداد نہ کی کہ وہ گھر کے لوگ ہو کر کاغذ، قلم دوات حاضر نہ کر سکے اور اس بات کی شکایت حضورﷺ کو بنسبت حضرت عمرؓ وغیرہ کے سیدنا علیؓ اور ان کے متعلقین پر زیادہ ہونی چاہیے:
مردم از دست غیر نالہ کنند
سعدی از دست خویشتن فریاد
اور اس بات کا قطعی ثبوت کہ وہ تحریر کوئی ضروری امر نہ تھا، یہ کہ حضورﷺ اس کے بعد چار روز تک زندہ رہے اور افاقہ بھی ہوتا رہا۔ لیکن پھر نہ کاغذ قلم دوات طلب فرمایا، نہ کوئی تحریر کی۔ دوسرا ثبوت اس کا حدیث میں موجود ہے کہ ان دو فریق سے حضورﷺ نے اس فریق کی رائے سے اتفاق فرمایا جو حضورﷺ کو یہ تکلیف دینا چاہتے تھے۔ دوسرے فریق کو آپﷺ نے ڈانٹ دیا کے مجھے بے وجہ تکلیف نہ دو: فذھبو یردون عندہ فقال دعونی فالذی انا فیہ خیر مما تدعوننی الیہ (حاضرین نے آپ سے بار بار سوال شروع کیے، آپﷺ نے فرمایا مجھے چھوڑ دو، جس حال میں ہوں، اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے مدعو کرتے ہو، یعنی تم مجھے تحریر کرنے کے لیے بار بار مجبور کرتے ہو، یہ مجھے پسند نہیں ہے) الفاظ حدیث شیعہ کے مدعا کے سخت برخلاف ہیں جس سے بصراحت معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ کچھ تحریر کرنا نہ چاہتے تھے تو شیعہ اس حدیث سے کس طرح دلیل پکڑ سکتے ہیں کہ خلافت علیؓ کی ہی وصیت لکھنا مقصود تھی۔ ممکن ہے کہ خلافت صدیقؓ کا لکھنا منظور ہوا اور چونکہ بنو ہاشم کو حضورﷺ کا رجحان معلوم تھا کہ امامتِ نماز پر بھی آخری وقت ابوبکر صدیقؓ کو ہی مامور کیا گیا اس لیے کاغذ، قلم دوات پیش کرنے سے اہل بیتؓ نے تامل کیا۔
حدیث میں اختلاف اور شور و غل کو اہلِ بیت کی طرف منسوب کیا گیا ہے، الفاظ ذیل ملاحظہ ہوں: فاختلف اھل البیت فاختصموا (اہلِ بیت نے اختلاف کیا اور جھگڑنے لگے) پھر تعجب ہے اور تو سب جگہ اہلِ بیتؓ سے سیدنا علیؓ، فاطمہؓ، حسنینؓ مراد لیے جاتے ہیں۔ لیکن یہاں اہلِ بیتؓ سے حضرت عمرؓ اور ان کی طرف داران مراد لیے جا کر اختلاف اور جھگڑے کا انہی کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے یاللعجب! غرض الزامات مذکورہ کو سیدنا عمرؓ کی طرف منسوب کرنا شیعہ کی سخت بے انصافی ہے جب کہ حدیث میں تنازعوا، اختصموا، قالوا، وغیرہ سب جمع کے صیغے استعمال ہوئے ہیں اور اس تنازعہ جھگڑا اور رفع الصوت ردِ رسولﷺ حق تلفی اُمت میں جملہ حاضرین حجرہ جن میں علیؓ اور بنو ہاشم وغیرہ بھی تھے۔ سب یکساں شریک ہیں۔ اگر قصور ہے تو سب کا نہیں تو کسی کا بھی نہیں۔
حَسْبُنَا کِتَابُ اللہ
ہاں یہ قصور سیدنا عمرؓ کا ہے کہ انہوں نے عشق و محبت رسولﷺ کی وجہ سے یہ رائے پیش کر دی جب کہ یہ مُسَلَّمْ امر ہے کہ دن کا کوئی ایسا امر باقی نہیں ہے کہ قرآن میں مذکور نہ ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے بالصراحت فرما دیا ہے: اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ(سورۃ المائدہ: آیت 03)(آج تمہارا دین کامل مکمل ہو گیا ہے) تو پھر حضورﷺ کو ایسی نازک حالت شدت مرض میں تکلیف میں ڈالنا شیدایان ذات والا کو مناسب نہیں ہے۔ چنانچہ حضرت عمرؓ کی رائے زریں سے نہ صرف اکثر حاضرین نے بلکہ حضورﷺ نے بھی اتفاق فرمایا کہ تحریر کی اصلاح ملتوی فرما دی۔ اور باوجود یہ کہ چار یوم تک حضورﷺ زندہ رہے اور مرض سے افاقہ بھی ہوتا رہا، پھر بھی اس کا ارادہ نہیں فرمایا۔ کیا حَسْبُنَا کِتَابُ اللہ کہنا کوئی جرم تھا؟ اگر یہ کوئی کبیرہ جرم ہے تو تمام مسلمان اس کے مرتکب ہیں۔ جو کتاب اللہ کو ایک کامل و مکمل کتاب ہدایت اور مسائل دین و دنیا کے لیے کافی وافی سمجھتے ہیں۔ افسوس دشمن کی نگاہ میں ہنر بھی بڑا عیب ہے:
ہنر بحشتم عداوت بزر گتر عیبے است
ردِ قول حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
اگرچہ ردِ قول رسولﷺ یہ ذمہ داری زیادہ تر اہل بیت رسولﷺ کہ ذمہ عائد ہوتی ہے لیکن اگر بفرض محال اس کا مجرم سیدنا عمرؓ کوہی قرار دیا جائے۔ تو چونکہ اقتضائے محبت و عشق اور نیک نیتی پر مبنی تھا اس لیے یہ داخل جرم نہیں ہو سکتا۔ اور اگر ہر حالت میں خواہ کسی نیت سے ہو، ردِ قول جرم ہے۔ تو اس جرم کے مرتکب حضرت علیؓ بھی متعدد دفعہ ہو چکے ہیں چنانچہ شیعہ کی مستند کتاب حیات القلوب جلد 2، صفحہ: 399ء میں ہے کہ جب غزوۂ حدیبیہ میں صلح نامہ لکھنا تجویز ہوا۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اس کے لکھنے کا حکم دیا گیا اور آپ نے محمد رسول اللہﷺ لکھا تو دوسری طرف سے اعتراض ہوا کہ اگر ہم آپ کو رسول مانتے ہیں تو جھگڑا ہی کیا تھا۔ آپ محمدﷺ بن عبداللہ لکھیں اس پر حضورﷺ نے فرمایا:
یا علی محو کن آنرا محمد بن عبداللہ بنویس۔ چنانچہ اُومی گوید۔ حضرت علی فرمود کہ من نام ترا از پیغمبری ہر گز محو نخوا ہم کرد، حضرت رسول بدست خود گرفتہ محو کر
ترجمہ: اے علی! فقط محمد رسول اللہﷺ کو مٹا کر بجائے اس کے محمد بن عبداللہ لکھ دو، جیسا کہ مخالف کہتا ہے، علیؓ نے کہا، کہ میں آپ کا نام پیغمبری سے محو نہ کروں گا، تو آپﷺ نے کاغذ لے کر اپنے ہاتھ سے اس کو مٹا دیا۔
اب شیعہ حضرات انصاف سے بتائیں کہ کیا ردِ قول رسولﷺ اور آپﷺ کا عدول حکم نہ تھا۔ اگر علیؓ اقتضائے عقیدت و محبت سے اس کی تعمیل حکم سے انکار کرنے پر مجرم نہیں بن سکتے تو سیدنا عمرؓ کو کیوں اس پر الزام دیا جاتا ہے؟ حالانکہ وہاں تو رسولﷺ نے اپنے طرزِ عمل سے سیدنا عمرؓ کی رائے سے اتفاق ظاہر فرمایا۔ اور یہاں حضرت علیؓ کے خلاف رائے آپﷺ نے کاغذ لے کر خود اس لفظ کو جس کو مٹانے سے حضرت علیؓ نے انکار کیا تھا۔ قلمزن کر دیا۔
دوسرا واقعہ شریف مرتضیٰ (علم الہدیٰ) اپنی کتاب در الغرر میں یوں لکھتے ہیں:
عن محمد بن حنفيہ عن ابيہ امير المؤمنين علي عليہ السلام انہ قال قد اكثر الناس على ماريہ القبطيہ ام ابراهيم ابن النبی فی ابن عم لها قبطی كان يزور لها ويختلف اليها فقال لی النبیﷺ خذ هذا السيف انطلق فان وجدتہ عندها فاقتلہ فلما اقبلت نحوہ علم اني اريده فاتیٰ نخلۃ فرمیٰ عليها ثم رمىٰ بنفسہ على قفاه وشغر برجليہ فاذا محيوب امسح ليس لہ مال للرجال لا قليل ولا كثير قال فغمدت السيف ورجعت الى النبیﷺ فاخبرتہ فقال الحمد للہ الذی يصرف عما الرجس اهل البيت
ترجمہ: محمد بن حنفیہ اپنے پدر بزرگوار علی المرتضیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ لوگوں نے ماریہ قبطیہ ام ابراہیم بن نبی پر نسبت ان کے چچا زاد بھائی قبطی نے اعتراض کیا، جو اکثر ان کے پاس آتا جاتا تھا، حضورﷺ نے مجھے حکم دیا کہ تلوار لو، وہ اگر تجھے اس کے پاس ملے اس کو قتل کر دو، جب میں اس قبطی کے پاس گیا، اور اس نے میرا ارادہ سمجھا تو ایک کھجور کے درخت پر چڑھ کر نیچے سر کے بل گر پڑا، اور پاؤں اوپر کی طرف اٹھا لیے، میں نے اسے دیکھا کہ وہ صاف مجبوب (مقطوع النسل) ہے، مردوں کی اس میں کچھ بھی علامت نہیں ہے۔ پس میں نے تلوار نیام میں کر دی اور واپس ہو کر حضورﷺ کے پاس گیا اور ماجرا بیان کیا، تو حضورﷺ فرمانے لگے، خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہم اہلِ بیت کو رجس سے پاک کیا ہے۔“
اس حدیث سے پایا جاتا ہے کہ حضرت علیؓ نے حکمِ رسول کی تعمیل نہ کی، اور قبطی کو تلوار سے نہ قتل کیا۔ جب اس کی صورت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ پر نافرمانی رسول اللہﷺ کا الزام عائد نہیں ہو سکتا، کیونکہ وہ مصلحت اس میں سمجھتے تھے کہ تعمیل حکم میں ایک بے گناہ کی مفت جان جاتی ہے تو سیدنا عمرؓ نے جب مصلحت اس نازک حالت میں یہی سمجھی کہ حضورﷺ کو بے وجہ تکلیف نہ دی جائے تو انہوں نے کیا قصور کیا؟
نوٹ
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ حضورﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ اہلِ بیت ہیں۔ چنانچہ ماریہ قبطیہ ہے کہ حق میں یہ لفظ استعمال فرمایا۔
تیسرا واقعہ
شیعہ کی معتبر کتاب ارشاد القلوب دیلمی نے اور محمد بن بایویہ نے ”امالی“ روایت لکھی ہے:
ان رسول اللہ اعطى فاطمہ سبعۃ دراهم قال اعطيها علیا ومريه ان يشتری لاهلی بيتہ طعاما فقد غلبهم الجوع فاعطٰنها عليا وقالت ان رسول اللہﷺ امرك ان تبتاع لنا طعاما من فاخذها علي وخرج من بيتہ ليبتاع طعاما لاهل بيتہ فسمعہ رجلا يقول من يقرض الملی الوفي فاعطاه الدراهم
ترجمہ: رسول اللہﷺ نے سیدہ فاطمہؓ کو سات دراہم دیے۔ اور فرمایا کہ علی کو دو تاکہ اپنے اہل و عیال کے لیے غلہ خرید لائے کہ وہ گر سنہ شکم ہیں۔ حضرت فاطمہؓ نے حضرت علی کو وہ درہم دے کر فرمائش رسول اللہﷺ کی اطلاع دی۔ آپ وہ درہم لے کر غلہ خریدنے گئے تو ایک شخص کو یہ آواز کرتے سنا کہ کوئی شخص ہے جو غنی راست وعدہ کو قرض دے دے۔ آپؓ نے وہ درہم اس کے حوالے کر دیے۔
اس روایت سے ظاہر ہے کہ رسول اللہﷺ کے اس ارشاد کی کہ ان دراہم سے گھر کے آدمیوں کے لیے غلہ خرید لیا جائے جب بھوک سے لاچار ہیں۔ تعمیل نہ کرتے ہوئے وہ درہم ایک سائل کو دے دیے۔ کیا یہ فرمانِ نبویﷺ کی مخالفت نہیں ہے؟ اور ردِ قول رسولﷺ کا جرم حضرت علیؓ پر عائد پر نہیں ہوتا؟ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ فعل ایثار نیک نیتی پر مبنی تھا ان کو معلوم تھا کہ صاحبِ حق فاطمہ اور حسنین اس سے ناراض نہ ہوں گے نہ رسولﷺ ناخوش ہوں گے تو انہوں نے تعمیل حکمِ رسولﷺ کے بجائے مصلحت اسی میں سمجھی کہ سائل کی حاجت روائی کی جائے۔ تو پھر حضرت عمرؓ نے یہ مصلحت سمجھ کر کے رسولﷺ کو اس تعمیل حکم کی خوشی کی بجائے تکلیف اور دقت ہوگی۔ اور اس تکلیف کے ٹالنے پر جناب والا آخر کار خوش ہوں گے۔ ایسا کر دیا تو کون سی خطا کی؟ غرض شیعہ ہر چند ہاتھ پاؤں مارتے ہیں۔ نخلِ امید بار آور نہیں ہوتا۔ جو ان پاک نفوس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعن ہیں اس کے مورد خود بنتے ہیں، آخر ان کو کہنا پڑتا ہے:
نخلِ امید نہ ایک بار بھی سر سبز ہوا
لاکھ ارمان کیے پُھولنے پھلنے والا
خلاصہ جواب
اول: تو حدیث صرف ایک نابالغ طفل سے مروی ہونے کی وجہ سے درایتہ حجت نہیں ہو سکتی۔
دوم: حدیث سے یہ مفہوم نہیں ہوتا کہ حضرت عمرؓ نے رسول اللہﷺ کو ہذیان کی نسبت دی کیونکہ لفظ ہجر میں ہجر بمعنیٰ ہذیان لینا سیاق و سباق عبارت کے مخالف ہے۔ بلکہ سیاق و سباق کا بھی اقتضاء ہے کہ یہاں دنیا سے ہجرت کرنا مراد ہے۔ اور اگر ہجر کا معنی ہذیان ہی لیا جائے تو یہاں استفہام انکاری ہونے کی وجہ سے نفی ہذیان ہو رہی ہے۔ اور کسی حدیث میں ایسا کوئی لفظ نہیں ہے جس سے سمجھا جائے کہ قائل اس لفظ کے حضرت عمرؓ ہیں حسبنا کتاب اللہ کہنا کوئی جرم نہیں ہے نبیﷺ کا یہ فرمانا، فیصلۂ خلافت لکھنے کے لیے نہ تھا۔ ایسا ہو تو شیعہ کا اِدّعا نص خلافتِ علیؓ کی تمام عمارت گر جاتی ہے۔ یہ درست نہیں ہے کہ رسولﷺ کوئی دینی ضروری امر کے متعلق کچھ لکھنا چاہتے تھے۔ اور حضورﷺ پر الزام اتا ہے کہ آپﷺ نے تبلیغ حکم الٰہی میں قصور کیا۔ حضورﷺ کی رائے میں، رائے عمرؓ زیادہ پسند تھی۔ اسی وجہ سے دوسرے فریق کو ڈانٹ کر کہا کہ مجھے دِق نہ کرو۔ اور پھر چار یوم زندہ رہ کر کچھ تحریر نہیں فرمائی۔ اگر کاغذ قلم دوات تھا حاضر نہ کرنا نافرمانی حکمِ رسولﷺ میں داخل ہے۔ تو اس کے مجرم بہ نسبت سیدنا عمرؓ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر اہلِ بیت زیادہ ہیں کہ اس وقت نہیں تو بعد میں ہی یہ چیزیں مہیا کر کے تحریر حاصل کر لیتے۔ اگر ہر بات میں قول رسول اللہﷺ کہ ظاہری الفاظ پر عمل کرنا ضروری ہے تو حضرت علیؓ نے متعدد دفعہ فرمانِ نبویﷺ کی مخالفت کی۔ اس لیے اس بھاری جرم کے مرتکب ہونے کی وجہ سے آپ خلافت و امامت کے اہل نہیں رہتے۔ شیعہ حدیثِ قرطاس سے خلافتِ علیؓ پر دلیل قائم کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ یہ حدیث ان کے تمام استدلالات کی تردید کرتی ہے۔ شیعہ بیچارے قدم قدم پر ٹھوکر کھاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ایسی خرافات سے باز نہیں آتے۔ افسوس!
ہرگز نہ ہوئے مغز سخن سے آگاہ
لا حول ولا قوۃ الا باللہ