نواں طعن (حدیثِ قرطاس) - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

نواں طعن (حدیثِ قرطاس)

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 4

قال ابن عباس يوم الخميس ما يوم الخميس اشتد به وبرسول اللہﷺ وجعه فقال ائتونى اكتب لكم كتابا لن تضلوا بعده ابدا فتنازعوا ولا يبتغی عند نبي تنازع فقالوا ما شانہ احجر استفهموا فذهبوا يردون عنده فقال دعونی فالذي انا فيه خير مما تدعونی اليہ وا وصاهم بثلٰث قال اخرجو المشركين من جزيرۃالعرب اجيز والموفد بنحو ما كنت اجزيهم وسكت عن الثالثۃ او قال نسيتها  

ابنِ عباسؓ نے کہا، جمعرات کا دن اور وہ کیسا دن

تھا کہ اس میں رسول اللہﷺ کو درد کی شدت تھی پس فرمایا لاؤ میرے پاس تمہیں ایک تحریر لکھ دوں کہ تم کبھی اس کے بعد گمراہ نہ ہو سکو۔ حاضرین آپس میں جھگڑنے لگے اور کہنے لگے آپ کا کیا حال ہے کیا آپ ہجرت (دنیا سے) کرنے کو ہیں آپ سے دریافت کرو، ان لوگوں نے آپ سے سوالات شروع کیے، پھر آپ نے فرمایا مجھے چھوڑ دو کیونکہ جس حالت میں، میں ہوں اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو پھر آپ نے تین وصیتیں کی:

1ـ یہ کفار مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو 

2ـ کہ وفدوں کو میری طرح عطیے دیتے رہنا

3ـ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سکوت فرمایا کہا اس سے بھول گیا

توضیح

بخاری میں یہ حدیث با اختلاف الفاظ معتدد جگہ مذکور ہے۔ کسی جگہ ہے ایتونی بالکتف واللوح والدوات (میرے پاس شانہ اور دوات یا تختی اور دوات لاؤ) فقال بعضهم ان رسول اللہ غلبہ الوجع وعندكم القرآن حسبنا كتاب اللہ (بعض نے کہا حضورﷺ کو اس وقت تکلیف ہے اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے اور ہمیں کتاب اللہ کافی ہے) ایک جگہ ہے: 

فقال عمر ان رسول اللہﷺ غلبه الوجع وعندكم القرآن حسبنا كتاب اللہ فاختلف اهل البيت فاختصموا منهم من يقول ما قال تربو يكتب رسول اللہﷺ كتابا لن تضلوا بعده منهم من يقول ما قال عمر فلما اكثرا واللغو والاختلاف عند رسول اللہ قال رسول اللہ قوموا قال عبد الله فكان ابن عباس ان الرزيۃ ما حال بين رسول اللہ وبين ان يكتب لهم ذلك الكتب من اختلافهم وبغطهم

 ”عمرؓ نے کہا، حضورﷺ کو اس وقت تکلیف ہے اور تمہارے پاس قرآن ہے کتاب اللہ ہمیں کافی ہے، پس گھر والوں نے اختلاف شروع کر دیا، بعض کہتے تھے کہ حضورﷺ کو کاغذ دو، ایسی تحریر لکھ دیں کہ اس کے بعد تم کہیں گمراہ نہ ہو جاؤ، بعض وہ بات کہتے تھے جو عمرؓ کہتے تھے جب شور و غل پڑ گیا تو حضورﷺ نے فرمایا چلے جاؤ عبداللہ کہتے ہیں مصیبت بڑی مصیبت تھی جو حضورﷺ اور لوگوں میں تحریر کے متعلق رکاوٹ پڑ گئی کیونکہ شور و غل زیادہ ہو گیا تھا۔“ 

خلاصہ طعن شیعہ

اس حدیث کے متعلق شیعہ صاحبان حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر حسب ذیل طعن کرتے ہیں:

1: عمرؓ نے قول آنحضرتﷺ کو رد کیا، حالانکہ آپ کا قول بحکم آیت وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى سراسر وحی تھا اور ردِ وحی کفر تھا۔ 

2: عمرؓ نے قول آنحضرتﷺ کو ہذیان سے تعبیر کیا، یہ کمال گستاخی اور بے ادبی ہے۔ 

3: عمرؓ نے رسول اللہﷺ کے حضور میں رفع صوت کیا، جو بحکمِ آیت لَاتَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ ممنوع تھا۔ 

4: وصیت میں رکاوٹ ڈال کر حق اُمت تلف کیا، وصیت لکھی جاتی تو اُمت کی بھلائی ہوتی۔ 

الجواب

اوّل: یہ حدیث جتنے طرق سے مروی ہے سب میں آخری راوی عبداللہ بن عباسؓ ہیں۔ حالانکہ جس وقت کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے اس وقت ان کی عمر 13 سال کی تھی کیونکہ آپ ہجرت سے تین سال پہلے یعنی 619ء میں پیدا ہوئے اور 68ھ مطابق 688ء طائف میں فوت ہو گئے تھے اور 13 سال کے نابالغ بچے کے اکیلی شہادت کب قابلِ قبول ہو سکتی ہے جب کہ حضور کی مرض الموت کے وقت تمام اصحاب اور اہلِ بیت رسولﷺ کا موجود ہونا ضروری ہے۔ ناممکن ہے کہ ایسے نازک وقت میں یہ سب لوگ موجود نہ ہوں۔ پھر جب ان اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جن میں سیدنا علی المرتضیؓ بھی شامل ہیں کوئی بھی اس واقعہ کی روایت نہیں کرتا تو ایک نابالغ بچے کی شہادت کس طرح قابلِ سماعت ہو سکتی ہے؟ یہ ظاہر ہے کہ ایسے موقعہ پر بڑے بڑے حضوری اشخاص پاس ہوا کرتے ہیں اور چھوٹے بچوں کو وہاں جگہ ملنی مشکل ہوتی ہے پھر جب ورائیت کے لحاظ سے یہ حدیث صرف عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہونے کے باعث جو اس وقت بالغ بھی نہ تھے۔ ناقابلِ اعتبار ہے تو اس پر شیعہ صاحبان کی اس قدر ہوائی قلعے تعمیر کر کے سیدنا عمرؓ جیسے جلیل الشان خلیفہ کے خلاف الزام قائم کرنا کیا وقعت رکھتا ہے۔ 

دوم: الزامات میں جو حضرت عمرؓ کے ذمہ عائد کیے جاتے ہیں، الفاظ حدیث میں ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ سب سے بڑا الزام جو سیدنا عمرؓ کے ذمے تھوپا جاتا ہے یہ ہے کہ انہوں نے قول آنحضرتﷺ کو ہزیان سے نسبت دی لیکن حدیث سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ جس لفظ سے شیعہ صاحبان خوش فہمی سے ہذیان کا معنیٰ لیتے ہیں، وہ اھجر ہے لیکن حدیث میں یہ نہیں ہے کہ یہ لفظ حضرت عمرؓ نے کہا حدیث فقالوا ما شانہ اھجر استفھموہ لکھا ہے۔ یعنی حاضرین نے یہ لفظ کہا پھر اس جمع کے صیغے کا فاعل واحد (عمرؓ) کو قرار دینا شیعہ حضرات کی بے علمی کی دلیل ہے۔ 

اے ترک من منازکہ ترکی تمام شد 

نیز اھجر کا معنیٰ ہذیان کرنا شیعوں کی ڈبل جہالت کی دلیل ہے۔ معنیٰ عبارت یہ ہے کہ حضورﷺ کا کیا حال ہے کیا آپ دنیا سے ہجرت فرمانے لگے ہیں۔ آپ سے دریافت تو کرو۔ اگر ہجرت کے معنے ہذیان کیے جائیں تو استفہموا کا معنیٰ صحیح نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جس شخص کی نسبت یہ ہے گمان ہو کے اس کے حواس مختل ہو گئے ہیں اور ہذیان (بہکی باتیں) کہ رہا ہے تو کوئی پاگل بھی یہ نہیں کہے گا کہ اس سے پوچھو تو صحیح کہ تمہارے اس کلام کا مفہوم کیا ہے۔ کیا مجنون کو مجنون یقین کرنے کے بعد کوئی عقلمند کہ سکتا ہے کہ بتلاؤ تو صحیح تمہاری اس بڑ کا مطلب کیا ہے۔ غرض لفظ استفھموا اہلِ فہم کو سمجھانے کے لیے کافی ہے یہاں اھجر کا معنیٰ وہ نہیں جو شیعہ کرتے ہیں بلکہ اس کا معنیٰ یہی ہے کہ کہ آپ کا یہ وقت دنیا سے ہجرت (رحلت) کا ہے کہ آپ ایسی شدت درد کی حالت میں لکھنے کی تکلیف برداشت فرمانا چاہتے ہیں کہ یہ پھر یہ موقعہ نہیں مل سکتا۔ جب اس لفظ کا وہ معنیٰ ہی نہیں ہے جو ہمارے شیعہ دوست سمجھ رہے ہیں تو پھر سارے ہوائی قلعے جو اسی لفظ کی بنیاد پر تعمیر کیے جاتے ہیں یکسر مسمار ہو جاتے ہیں۔ 

صفحہ 1 از 4