نواں طعن (حدیثِ قرطاس) - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

نواں طعن (حدیثِ قرطاس)

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 4

علاوہ ازیں اگر ہجر کا معنیٰ بفرض محال ہذیان بھی کیے جائیں تو چونکہ اہجر میں ہمزہ استفہام موجود ہے اور یہ استفہام انکاری ہوگا تو پھر بھی شیعوں کا مدعا پورا نہیں ہو سکتا۔ مطلب قائل کا یہ ہے کہ جو کچھ حضورﷺ فرما رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ آپ ہذیان نہیں کہ رہے ہیں۔ اس لیے آپ سے دریافت کرنا چاہیے کہ اس تحریر سے بحکمِ وحی کسی ضروری مسئلہ بتلانا مقصود ہے۔ یا بطور استحسان حضورﷺ کچھ ارشاد فرمانا چاہتے ہیں تو زبانی بھی ہو سکتا ہے یا اس کے بعد بھی ہو سکتا ہے جب حضورﷺ کو کچھ افاقہ ہو جائے۔ 

اور احادیث سے یہ ظاہر ہے کہ اس معاملہ میں حاضرین دو فریق میں منقسم ہو گئے تھے۔ بعض اصرار کرتے تھے کہ قلم دوات کاغذ حاضر کیا جائے۔ بعض قول عمرؓ سے اتفاق کر کے کہتے تھے کہ مسائل دین و دنیا کی تکمیل بذریعہ قرآنِ کریم ہو چکی ہے۔ کوئی امر باقی نہیں ہے اس لیے حضورﷺ کو ایسے تکلیف میں ڈالنا عشاقِ ذات احمدی گوارا نہیں کر سکتے۔ پھر ان دو فریق میں ایک طرف سیدنا علیؓ اور بنو ہاشم بھی ضرور ہوں گے اور وہ الزامات جو بلاوجہ سیدنا عمرؓ کہ ذمے لگائے جاتے ہیں۔ ان کے ذمہ دار حضرت علیؓ اور جملہ بنو ہاشم بطریق اولیٰ ہوں گے۔ اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے طرف داروں نے کاغذ قلم دوات حاضر نہ کر کے فرمانِ نبویﷺ کی تعمیل نہ کی تو حضرت علیؓ کا فرض تھا کہ فوراً اشیاء مطلوبہ حاضر کر کے تحریر لے لیتے۔ 

*کیا وہ تحریر ضروری تھی؟*

اب سوال یہ ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے جس امر کے لیے کاغذ قلم دوات طلب فرمائے تھے، وہ کوئی ضروری امر تھا اور وہی حق کے ذریعہ اس کا حکم تھا یا ویسے مصلحتاً حضورﷺ لکھنا چاہتے تھے اور پھر وہ اصلاح ملتوی ہو گئی۔ شیعہ کہتے ہیں کہ اس وقت رسولﷺ خلافتِ علی المرتضیٰؓ کے متعلق وصیت لکھنا چاہتے تھے لیکن یہ بات شیعہ کے سخت بر خلاف ہے، کیونکہ وہ اس سے شیعہ کے باقی تمام استدلالات پر پانی پھر جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ بروز خم غدیر حضورﷺ نے خلافتِ علیؓ کا اعلان فرمایا اور نہ کوئی حدیث یا آیت اس وقت خلافتِ علیؓ پر نص تھی۔ تب ہی تو آپ کو یہ فکر دامنِ گیر ہوئی کے خلافت علیؓ کی وصیت لکھ دی جائے۔ شیعہ نے اپنا یہ خیال ظاہر کر کے حضورﷺ خلافت کا فیصلہ کرنا چاہتے تھے، باقی استدلالات کی خود تردید کر دی اور وصیت تحریر ہی نہیں ہوئی شیعہ حضرات کو ناکامی پر ناکامی کا سامنا ہوا۔

نہ خدا ہی ملا نا وصالِ صنم 

نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے 

علاوہ ازیں اگر تحریر ضروری اور بحکم وحی تھی اور محض چند اشخاص کے اختلاف رائے کے باعث حضورﷺ اس ضروری حکمِ الٰہی کی تعمیل سے قاصر رہے تو آپ کے ذمہ سخت الزام عائد ہوتا ہے کہ آپ نے فرض تبلیغ رسالت میں کوتاہی کی اور سیدنا علیؓ اور دیگر اہلِ بیتؓ کے ذمے الزام ہے کہ انہوں نے چند اجنبی اشخاص کی مخالفت کی وجہ سے رسول اللہﷺ کی امداد نہ کی کہ وہ گھر کے لوگ ہو کر کاغذ، قلم دوات حاضر نہ کر سکے اور اس بات کی شکایت حضورﷺ کو بنسبت حضرت عمرؓ وغیرہ کے سیدنا علیؓ اور ان کے متعلقین پر زیادہ ہونی چاہیے:

مردم از دست غیر نالہ کنند 

سعدی از دست خویشتن فریاد

اور اس بات کا قطعی ثبوت کہ وہ تحریر کوئی ضروری امر نہ تھا، یہ کہ حضورﷺ اس کے بعد چار روز تک زندہ رہے اور افاقہ بھی ہوتا رہا۔ لیکن پھر نہ کاغذ قلم دوات طلب فرمایا، نہ کوئی تحریر کی۔ دوسرا ثبوت اس کا حدیث میں موجود ہے کہ ان دو فریق سے حضورﷺ نے اس فریق کی رائے سے اتفاق فرمایا جو حضورﷺ کو یہ تکلیف دینا چاہتے تھے۔ دوسرے فریق کو آپﷺ نے ڈانٹ دیا کے مجھے بے وجہ تکلیف نہ دو: فذھبو یردون عندہ فقال دعونی فالذی انا فیہ خیر مما تدعوننی الیہ (حاضرین نے آپ سے بار بار سوال شروع کیے، آپﷺ نے فرمایا مجھے چھوڑ دو، جس حال میں ہوں، اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے مدعو کرتے ہو، یعنی تم مجھے تحریر کرنے کے لیے بار بار مجبور کرتے ہو، یہ مجھے پسند نہیں ہے) الفاظ حدیث شیعہ کے مدعا کے سخت برخلاف ہیں جس سے بصراحت معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ کچھ تحریر کرنا نہ چاہتے تھے تو شیعہ اس حدیث سے کس طرح دلیل پکڑ سکتے ہیں کہ خلافت علیؓ کی ہی وصیت لکھنا مقصود تھی۔ ممکن ہے کہ خلافت صدیقؓ کا لکھنا منظور ہوا اور چونکہ بنو ہاشم کو حضورﷺ کا رجحان معلوم تھا کہ امامتِ نماز پر بھی آخری وقت ابوبکر صدیقؓ کو ہی مامور کیا گیا اس لیے کاغذ، قلم دوات پیش کرنے سے اہل بیتؓ نے تامل کیا۔

حدیث میں اختلاف اور شور و غل کو اہلِ بیت کی طرف منسوب کیا گیا ہے، الفاظ ذیل ملاحظہ ہوں: فاختلف اھل البیت فاختصموا (اہلِ بیت نے اختلاف کیا اور جھگڑنے لگے) پھر تعجب ہے اور تو سب جگہ اہلِ بیتؓ سے سیدنا علیؓ، فاطمہؓ، حسنینؓ مراد لیے جاتے ہیں۔ لیکن یہاں اہلِ بیتؓ سے حضرت عمرؓ اور ان کی طرف داران مراد لیے جا کر اختلاف اور جھگڑے کا انہی کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے یاللعجب! غرض الزامات مذکورہ کو سیدنا عمرؓ کی طرف منسوب کرنا شیعہ کی سخت بے انصافی ہے جب کہ حدیث میں تنازعوا، اختصموا، قالوا، وغیرہ سب جمع کے صیغے استعمال ہوئے ہیں اور اس تنازعہ جھگڑا اور رفع الصوت ردِ رسولﷺ حق تلفی اُمت میں جملہ حاضرین حجرہ جن میں علیؓ اور بنو ہاشم وغیرہ بھی تھے۔ سب یکساں شریک ہیں۔ اگر قصور ہے تو سب کا نہیں تو کسی کا بھی نہیں۔ 

حَسْبُنَا کِتَابُ اللہ

صفحہ 2 از 4