نواں طعن (حدیثِ قرطاس) - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

نواں طعن (حدیثِ قرطاس)

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 4

ہاں یہ قصور سیدنا عمرؓ کا ہے کہ انہوں نے عشق و محبت رسولﷺ کی وجہ سے یہ رائے پیش کر دی جب کہ یہ مُسَلَّمْ امر ہے کہ دن کا کوئی ایسا امر باقی نہیں ہے کہ قرآن میں مذکور نہ ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے بالصراحت فرما دیا ہے: اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ(سورۃ المائدہ: آیت 03)(آج تمہارا دین کامل مکمل ہو گیا ہے) تو پھر حضورﷺ کو ایسی نازک حالت شدت مرض میں تکلیف میں ڈالنا شیدایان ذات والا کو مناسب نہیں ہے۔ چنانچہ حضرت عمرؓ کی رائے زریں سے نہ صرف اکثر حاضرین نے بلکہ حضورﷺ نے بھی اتفاق فرمایا کہ تحریر کی اصلاح ملتوی فرما دی۔ اور باوجود یہ کہ چار یوم تک حضورﷺ زندہ رہے اور مرض سے افاقہ بھی ہوتا رہا، پھر بھی اس کا ارادہ نہیں فرمایا۔ کیا حَسْبُنَا کِتَابُ اللہ کہنا کوئی جرم تھا؟ اگر یہ کوئی کبیرہ جرم ہے تو تمام مسلمان اس کے مرتکب ہیں۔ جو کتاب اللہ کو ایک کامل و مکمل کتاب ہدایت اور مسائل دین و دنیا کے لیے کافی وافی سمجھتے ہیں۔ افسوس دشمن کی نگاہ میں ہنر بھی بڑا عیب ہے:

ہنر بحشتم عداوت بزر گتر عیبے است

ردِ قول حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اگرچہ ردِ قول رسولﷺ یہ ذمہ داری زیادہ تر اہل بیت رسولﷺ کہ ذمہ عائد ہوتی ہے لیکن اگر بفرض محال اس کا مجرم سیدنا عمرؓ کوہی قرار دیا جائے۔ تو چونکہ اقتضائے محبت و عشق اور نیک نیتی پر مبنی تھا اس لیے یہ داخل جرم نہیں ہو سکتا۔ اور اگر ہر حالت میں خواہ کسی نیت سے ہو، ردِ قول جرم ہے۔ تو اس جرم کے مرتکب حضرت علیؓ بھی متعدد دفعہ ہو چکے ہیں چنانچہ شیعہ کی مستند کتاب حیات القلوب جلد 2، صفحہ: 399ء میں ہے کہ جب غزوۂ حدیبیہ میں صلح نامہ لکھنا تجویز ہوا۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اس کے لکھنے کا حکم دیا گیا اور آپ نے محمد رسول اللہﷺ لکھا تو دوسری طرف سے اعتراض ہوا کہ اگر ہم آپ کو رسول مانتے ہیں تو جھگڑا ہی کیا تھا۔ آپ محمدﷺ بن عبداللہ لکھیں اس پر حضورﷺ نے فرمایا:

یا علی محو کن آنرا محمد بن عبداللہ بنویس۔ چنانچہ اُومی گوید۔ حضرت علی فرمود کہ من نام ترا از پیغمبری ہر گز محو نخوا ہم کرد، حضرت رسول بدست خود گرفتہ محو کر

ترجمہ: اے علی! فقط محمد رسول اللہﷺ کو مٹا کر بجائے اس کے محمد بن عبداللہ لکھ دو، جیسا کہ مخالف کہتا ہے، علیؓ نے کہا، کہ میں آپ کا نام پیغمبری سے محو نہ کروں گا، تو آپﷺ نے کاغذ لے کر اپنے ہاتھ سے اس کو مٹا دیا۔

اب شیعہ حضرات انصاف سے بتائیں کہ کیا ردِ قول رسولﷺ اور آپﷺ کا عدول حکم نہ تھا۔ اگر علیؓ اقتضائے عقیدت و محبت سے اس کی تعمیل حکم سے انکار کرنے پر مجرم نہیں بن سکتے تو سیدنا عمرؓ کو کیوں اس پر الزام دیا جاتا ہے؟ حالانکہ وہاں تو رسولﷺ نے اپنے طرزِ عمل سے سیدنا عمرؓ کی رائے سے اتفاق ظاہر فرمایا۔ اور یہاں حضرت علیؓ کے خلاف رائے آپﷺ نے کاغذ لے کر خود اس لفظ کو جس کو مٹانے سے حضرت علیؓ نے انکار کیا تھا۔ قلمزن کر دیا۔ 

دوسرا واقعہ شریف مرتضیٰ (علم الہدیٰ) اپنی کتاب در الغرر میں یوں لکھتے ہیں: 

عن محمد بن حنفيہ عن ابيہ امير المؤمنين علي عليہ السلام انہ قال قد اكثر الناس على ماريہ القبطيہ ام ابراهيم ابن النبی فی ابن عم لها قبطی كان يزور لها ويختلف اليها فقال لی النبیﷺ خذ هذا السيف انطلق فان وجدتہ عندها فاقتلہ فلما اقبلت نحوہ علم اني اريده فاتیٰ نخلۃ فرمیٰ عليها ثم رمىٰ بنفسہ على قفاه وشغر برجليہ فاذا محيوب امسح ليس لہ مال للرجال لا قليل ولا كثير قال فغمدت السيف ورجعت الى النبیﷺ فاخبرتہ فقال الحمد للہ الذی يصرف عما الرجس اهل البيت 

ترجمہ: محمد بن حنفیہ اپنے پدر بزرگوار علی المرتضیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ لوگوں نے ماریہ قبطیہ ام ابراہیم بن نبی پر نسبت ان کے چچا زاد بھائی قبطی نے اعتراض کیا، جو اکثر ان کے پاس آتا جاتا تھا، حضورﷺ نے مجھے حکم دیا کہ تلوار لو، وہ اگر تجھے اس کے پاس ملے اس کو قتل کر دو، جب میں اس قبطی کے پاس گیا، اور اس نے میرا ارادہ سمجھا تو ایک کھجور کے درخت پر چڑھ کر نیچے سر کے بل گر پڑا، اور پاؤں اوپر کی طرف اٹھا لیے، میں نے اسے دیکھا کہ وہ صاف مجبوب (مقطوع النسل) ہے، مردوں کی اس میں کچھ بھی علامت نہیں ہے۔ پس میں نے تلوار نیام میں کر دی اور واپس ہو کر حضورﷺ کے پاس گیا اور ماجرا بیان کیا، تو حضورﷺ فرمانے لگے، خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہم اہلِ بیت کو رجس سے پاک کیا ہے۔“

اس حدیث سے پایا جاتا ہے کہ حضرت علیؓ نے حکمِ رسول کی تعمیل نہ کی، اور قبطی کو تلوار سے نہ قتل کیا۔ جب اس کی صورت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ پر نافرمانی رسول اللہﷺ کا الزام عائد نہیں ہو سکتا، کیونکہ وہ مصلحت اس میں سمجھتے تھے کہ تعمیل حکم میں ایک بے گناہ کی مفت جان جاتی ہے تو سیدنا عمرؓ نے جب مصلحت اس نازک حالت میں یہی سمجھی کہ حضورﷺ کو بے وجہ تکلیف نہ دی جائے تو انہوں نے کیا قصور کیا؟

نوٹ

اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ حضورﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ اہلِ بیت ہیں۔ چنانچہ ماریہ قبطیہ ہے کہ حق میں یہ لفظ استعمال فرمایا۔

تیسرا واقعہ

شیعہ کی معتبر کتاب ارشاد القلوب دیلمی نے اور محمد بن بایویہ نے ”امالی“ روایت لکھی ہے:

ان رسول اللہ اعطى فاطمہ سبعۃ دراهم قال اعطيها علیا ومريه ان يشتری لاهلی بيتہ طعاما فقد غلبهم الجوع فاعطٰنها عليا وقالت ان رسول اللہﷺ امرك ان تبتاع لنا طعاما من فاخذها علي وخرج من بيتہ ليبتاع طعاما لاهل بيتہ فسمعہ رجلا يقول من يقرض الملی الوفي فاعطاه الدراهم 

ترجمہ: رسول اللہﷺ نے سیدہ فاطمہؓ کو سات دراہم دیے۔ اور فرمایا کہ علی کو دو تاکہ اپنے اہل و عیال کے لیے غلہ خرید لائے کہ وہ گر سنہ شکم ہیں۔ حضرت فاطمہؓ نے حضرت علی کو وہ درہم دے کر فرمائش رسول اللہﷺ کی اطلاع دی۔ آپ وہ درہم لے کر غلہ خریدنے گئے تو ایک شخص کو یہ آواز کرتے سنا کہ کوئی شخص ہے جو غنی راست وعدہ کو قرض دے دے۔ آپؓ نے وہ درہم اس کے حوالے کر دیے۔

صفحہ 3 از 4