نواں طعن (حدیثِ قرطاس) - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

نواں طعن (حدیثِ قرطاس)

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 4 از 4

اس روایت سے ظاہر ہے کہ رسول اللہﷺ کے اس ارشاد کی کہ ان دراہم سے گھر کے آدمیوں کے لیے غلہ خرید لیا جائے جب بھوک سے لاچار ہیں۔ تعمیل نہ کرتے ہوئے وہ درہم ایک سائل کو دے دیے۔ کیا یہ فرمانِ نبویﷺ کی مخالفت نہیں ہے؟ اور ردِ قول رسولﷺ کا جرم حضرت علیؓ پر عائد پر نہیں ہوتا؟ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ فعل ایثار نیک نیتی پر مبنی تھا ان کو معلوم تھا کہ صاحبِ حق فاطمہ اور حسنین اس سے ناراض نہ ہوں گے نہ رسولﷺ ناخوش ہوں گے تو انہوں نے تعمیل حکمِ رسولﷺ کے بجائے مصلحت اسی میں سمجھی کہ سائل کی حاجت روائی کی جائے۔ تو پھر حضرت عمرؓ نے یہ مصلحت سمجھ کر کے رسولﷺ کو اس تعمیل حکم کی خوشی کی بجائے تکلیف اور دقت ہوگی۔ اور اس تکلیف کے ٹالنے پر جناب والا آخر کار خوش ہوں گے۔ ایسا کر دیا تو کون سی خطا کی؟ غرض شیعہ ہر چند ہاتھ پاؤں مارتے ہیں۔ نخلِ امید بار آور نہیں ہوتا۔ جو ان پاک نفوس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعن ہیں اس کے مورد خود بنتے ہیں، آخر ان کو کہنا پڑتا ہے:

نخلِ امید نہ ایک بار بھی سر سبز ہوا 

لاکھ ارمان کیے پُھولنے پھلنے والا 

خلاصہ جواب

اول: تو حدیث صرف ایک نابالغ طفل سے مروی ہونے کی وجہ سے درایتہ حجت نہیں ہو سکتی۔ 

دوم: حدیث سے یہ مفہوم نہیں ہوتا کہ حضرت عمرؓ نے رسول اللہﷺ کو ہذیان کی نسبت دی کیونکہ لفظ ہجر میں ہجر بمعنیٰ ہذیان لینا سیاق و سباق عبارت کے مخالف ہے۔ بلکہ سیاق و سباق کا بھی اقتضاء ہے کہ یہاں دنیا سے ہجرت کرنا مراد ہے۔ اور اگر ہجر کا معنی ہذیان ہی لیا جائے تو یہاں استفہام انکاری ہونے کی وجہ سے نفی ہذیان ہو رہی ہے۔ اور کسی حدیث میں ایسا کوئی لفظ نہیں ہے جس سے سمجھا جائے کہ قائل اس لفظ کے حضرت عمرؓ ہیں حسبنا کتاب اللہ کہنا کوئی جرم نہیں ہے نبیﷺ کا یہ فرمانا، فیصلۂ خلافت لکھنے کے لیے نہ تھا۔ ایسا ہو تو شیعہ کا اِدّعا نص خلافتِ علیؓ کی تمام عمارت گر جاتی ہے۔ یہ درست نہیں ہے کہ رسولﷺ کوئی دینی ضروری امر کے متعلق کچھ لکھنا چاہتے تھے۔ اور حضورﷺ پر الزام اتا ہے کہ آپﷺ نے تبلیغ حکم الٰہی میں قصور کیا۔ حضورﷺ کی رائے میں، رائے عمرؓ زیادہ پسند تھی۔ اسی وجہ سے دوسرے فریق کو ڈانٹ کر کہا کہ مجھے دِق نہ کرو۔ اور پھر چار یوم زندہ رہ کر کچھ تحریر نہیں فرمائی۔ اگر کاغذ قلم دوات تھا حاضر نہ کرنا نافرمانی حکمِ رسولﷺ میں داخل ہے۔ تو اس کے مجرم بہ نسبت سیدنا عمرؓ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر اہلِ بیت زیادہ ہیں کہ اس وقت نہیں تو بعد میں ہی یہ چیزیں مہیا کر کے تحریر حاصل کر لیتے۔ اگر ہر بات میں قول رسول اللہﷺ کہ ظاہری الفاظ پر عمل کرنا ضروری ہے تو حضرت علیؓ نے متعدد دفعہ فرمانِ نبویﷺ کی مخالفت کی۔ اس لیے اس بھاری جرم کے مرتکب ہونے کی وجہ سے آپ خلافت و امامت کے اہل نہیں رہتے۔ شیعہ حدیثِ قرطاس سے خلافتِ علیؓ پر دلیل قائم کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ یہ حدیث ان کے تمام استدلالات کی تردید کرتی ہے۔ شیعہ بیچارے قدم قدم پر ٹھوکر کھاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ایسی خرافات سے باز نہیں آتے۔ افسوس! 

ہرگز نہ ہوئے مغز سخن سے آگاہ 

لا حول ولا قوۃ الا باللہ


صفحہ 4 از 4