Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

زبیر بن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے مابین قرض

  علی محمد الصلابی

عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے زبیر کو دس لاکھ قرض دیا، جب ان کی وفات ہوگئی تو زبیر کے بیٹے نے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے کہا: مجھے اپنے والد کے نوشتہ میں ملا ہے کہ ان کا آپ پر دس لاکھ درہم باقی ہے، آپ نے کہا: انھوں نے سچ لکھا ہے، چاہو تو لے لو، پھر جب بعد میں ملاقات ہوئی تو کہا: مجھ سے غلطی ہوئی ہے، مذکورہ قرض آپ کا ان پر ہے، آپ نے کہا: میں ان کے حق میں دست بردار ہوتا ہوں، انھوں نے کہا میں ایسا نہیں چاہتا۔

(تاریخ الإسلام حوادث و وفیات: 61-80ھـ، صفحہ 431)

ابن عساکر کی روایت کے مطابق جب زبیر کے بیٹے نے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے کہا: میں ایسا نہیں چاہتا، تو عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر چاہو تو میں ان کے حق میں معاف کر دیتا ہوں، اور اگر تم اسے ناپسند کرتے ہو تو تم جتنی مہلت چاہو اتنی مہلت ہے، اگر یہ بھی نہیں چاہتے تو اس کے بدلے ان کا کوئی مال مجھ سے بیچ دو، کہا: میں بیچوں گا، لیکن پہلے قیمت کا تخمینہ کر لوں، چنانچہ وہ قیمت کا تخمینہ لگا کر آپ کے پاس آئے اور کہا: میں چاہتا ہوں کہ آپ کے اور میرے علاوہ کوئی دوسرا نہ رہے، ابن جعفر رضی اللہ عنہما نے کہا: حسن و حسین رضی اللہ عنہما رہیں گے جو تمھارے گواہ ہوں گے، انھوں نے کہا: میں چاہتا ہوں کوئی نہ رہے، کہا: چلو، چنانچہ آپ کے ساتھ وہ چل پڑے اور آپ کو ایک بنجر غیرآباد زمین دی، جب خرید و فروخت ہو چکی تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام سے کہا: اس جگہ مصلیٰ بچھاؤ، چنانچہ اس نے اس زمین کے سخت ترین حصے میں مصلیٰ بچھایا، لمبے سجدوں کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھ کر دعا کرنے لگے، جب اپنی مطلوبہ دعا کر چکے تو غلام سے کہا: میرے سجدے کی جگہ کھودو، چنانچہ اس نے کھدائی کی تو ایسا چشمہ ملا کہ کھودے ہوئے حصے کو بھر دیا، اس پر ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: بیع ختم کر کے زمین مجھے واپس کر دیں، آپ نے کہا: میں نے دعا کی، اللہ نے قبول کر لی، اس لیے میں واپس نہیں کروں گا، چنانچہ آپ کے حصے کی زمین ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس باقی رہ جانے والی زمین سے زیادہ کارآمد ہوگئی۔

(تاریخ دمشق: جلد 29 صفحہ 187)