Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دسواں طعن

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

حضرت عمرؓ نے معاذاللہ سیدہ فاطمہؓ کی سخت توہین کی۔ ان پر دروازہ گرا کر پسلیاں توڑ دیں ان کو کوڑوں سے پیٹا، شکم مبارک پر لات مار کر حمل گرا دیا۔ ان کا گھر جلا دیا، حضرت علیؓ کے گلے میں رسی ڈال کر ان کو گھسیٹ لے گئے۔ اور بزور بیعتِ ابوبکرؓ کرائی۔ 

جواب: یہ سب باتیں بیہودہ خرافات ہیں جن کو نقل و عقل دونوں تسلیم نہیں کرتے۔ اگرچہ بظاہر اس یا وہ گوئی سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تنقیص شان مطلوب ہے۔ لیکن درحقیقت یہ توہین اہلِ بیت رسالت کے لیے ایک سخت پاجیانہ حملہ ہے۔ کیا عقلِ سلیم اس بات کو تسلیم کر سکتی ہے کہ حضرت فاطمہؓ خاتونِ جنت لختِ جگر رسولﷺ کی طرف کوئی نظر اٹھا کر بھی دیکھے؟ تو شیرِ خدا میدان حضرت علی المرتضیٰؓ اپنی زوجہ محترمہ جگر گوشہ رسولﷺ کی توہین دیکھ کر خاموش بیٹھے رہیں۔ کیا اس کو صبر کہ سکتے ہیں؟ یا غایت درجہ کے بغیرتی ہے۔ ایک بھنگی تک بھی جیتے جی یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کی عورت کی توہین کی جائے خدانخواستہ ایسا ہوتا تو قیامت برپا ہو جاتی۔ تمام بنو ہاشم دامادِ رسول اللہﷺ اور لختِ جگر رسولﷺ کی حمایت کے لیے تلوار لے کر اٹھ کھڑے ہوتے۔ نہ خلافت رہتی نہ خلفاء۔ نمونۂ محشر برپا ہو جاتا، کیا ایسی حرکت کر کے پھر کوئی شخص اپنے ارادہ تمکن خلافت میں کامیاب رہ سکتا ہے؟ ابھی ابھی رسولِ اللہﷺ جدا ہوئے ہیں۔ طبائع فراقِ رسولﷺ سے پرجوش ہیں۔ کلیجے دہل رہے ہیں۔ پھر خاندان رسالت کی بے ادبی مسلمان برداشت کر سکتا تھا۔ اور حضرت علیؓ تو ایسی ذلت کب گوارا کر سکتے تھے کہ ان کے گلے میں رسی ڈال کر گھسیٹا جائے اور جبراً بیعت لی جائے۔

شیعہ اس بارے میں عجیب و غریب قصے تراش کر لوگوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اہلِ بصیرت ان کی باتوں کو پادر ہوا سمجھ کر ان کو دھتکار دیتے ہیں۔ 

جلاء العیون اردو صفحہ 87 میں درج ہے: 

بسندِ معتبر صادق سے روایت ہے کہ جس وقت سیدنا ابوبکرؓ نہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے خلافت غصب کی، حضرت علیؓ نے فرمایا۔ کیا رسول اللہﷺ نے میری اطاعت کا تجھے حکم دیا۔ ابوبکرؓ نے کہا نہیں، اگر مجھے حکم اطاعت دیتے تو میں اطاعت کرتا۔ حضرت علیؓ نے فرمایا اگر اب پیغمبرﷺ کو دیکھے اور تجھ کو میری اطاعت کا حکم دیں میری اطاعت کرے گا؟ ابوبکرؓ نے کہا ہاں، حضرت علیؓ نے فرمایا: میرے ہمراہ مسجد قبا میں چل۔ جب مسجد قبا میں پہنچے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دیکھا، رسول اللہﷺ کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں۔ رسولﷺ نماز سے فارغ ہوئے، حضرت علیؓ نے عرض کی یا رسول اللہﷺ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو انکار ہے کہ آپﷺ نے میری اطاعت کا حکم اسے نہیں دیا، رسولﷺ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے کہا میں نے مکرر تجھے علیؓ کی اطاعت کا حکم نہیں کیا۔ اس کے حکم کی اطاعت کر، ابوبکرؓ نے خائف و ترساں معاودت کی راہ میں عمر کو دیکھا عمرؓ نے کہا ہے، اے ابوبکر تجھے کیا ہو گیا ہے؟ ابوبکر نے کہا رسولﷺ نے مجھ سے ایسا فرمایا ہے عمرؓ نے کہا وہ گروہ ہلاک ہے جو تجھ ایسے احمق کو اپنا سردار کر لے۔ مگر تو نہیں جانتا یہ سب بنی ہاشم کا سحر ہے۔ 

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ کو اس قدر قدرت تھی کہ رسولِ اللہﷺ کو مسجد قبا میں ابوبکرؓ کے سامنے زندہ لا کر کھڑا کیا۔ پھر وہ اپنی قوتِ اعجاز سے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کے دلوں کو کیوں نہ مسخر کر لیتے؟ 

دوم: جب ابوبکرؓ نے مدت حیات میں اپنے مال و اموال اور اہل و عیال حضورﷺ پر قربان کر کے خدا اور رسول اللہﷺ کی رضامندی حاصل کر رکھنے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔ تو کیا قیاس ہو سکتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ زور کرامت سے رسول اللہﷺ کو زندہ دیکھ کر اور آپﷺ سے یہ ارشاد سن کر اطاعت علیؓ تجھ پر فرض ہے۔ حضرت عمرؓ یا کسی اور شخص کے کہنے پر قولِ رسولﷺ سے انحراف کرتے؟ یہ سب کچھ لوگوں کی گھڑت ہے کہ خلفاء اسلام کو بدنام کر کے مخالفین مذہب کو اسلام اور ہادی اسلام پر طعن و تشنیع کا موقعہ دیتے ہیں۔ اس ضد اور ہٹ دھرمی کا کیا علاج، خدا ہی ہدایت دے: 

ہٹ دھرم تہمت لگانا چھوڑ دے 

راستی پر آ خدا کو مان کر