Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

جود و سخا میں بنو عذرہ کے بوڑھے ہی نے ہمیں مغلوب کیا

  علی محمد الصلابی

عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کے غلام بدیح سے مروی ہے، کہتے ہیں: ایک سفر میں میں عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، بالوں سے بنے ایک خیمے کے پاس ہم نے پڑاؤ ڈالا، خیمہ والا بنوعذرہ کا ایک آدمی تھا، ہم ابھی اسی حالت میں تھے کہ ایک بدوی ایک اونٹنی لیے ہوئے ہمارے پاس پہنچا اور کہا: اے لوگو مجھے چھری دو، ہم نے اسے چھری دی، اس نے اسے ذبح کیا اور کہا: اسے لے لو، دوسرے دن بھی ہم ٹھہرے رہے، پھر بنوعذرہ کا وہ بوڑھا دوسری اونٹنی لے کر پہنچا اور کہا: لوگو مجھے چھری دو، ہم نے کہا: ہمارے پاس گوشت ہے، اس نے کہا: کیا میری موجودگی میں آپ لوگ باسی گوشت کھائیں گے؟ ہم نے چھری دی، اس نے ذبح کیا، پھر کہا: اس سے اپنی ضرورت پوری کرو، تیسرے دن بھی ہم رکے رہے، وہی عذری بوڑھا ایک اونٹنی لیے ہمارے پاس پہنچا، کہا: لوگو مجھے چھری دو، ہم نے کہا: تم دیکھ رہے ہو کہ ہمارے پاس گوشت ہے، اس نے کہا: کیا آپ لوگ میری موجودگی میں باسی گوشت کھائیں گے؟ میرے خیال میں آپ لوگ کنجوس ہیں، مجھے چھری دو، اس نے ذبح کیا، پھر کہا: اسے آپ لوگ لے لیں، ہم لوگ کوچ کرنے کی تیاری کرنے لگے تو عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے اپنے خادم سے کہا: تمھارے پاس کیا ہے؟ کہا: کپڑوں کی گٹھڑی اور چار سو دینار، کہا لے جاؤ اور عذری بوڑھے کو دے آؤ، لے کر گیا تو خیمہ میں ایک لونڈی تھی، اسے مخاطب کرتے ہوئے اس نے کہا: یہ عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کا ہدیہ ہے، اسے لے لو، اس نے جواب دیا: ہم لوگ مہمان نوازی کا بدلہ نہیں قبول کرتے، اس نے عبداللہ بن جعفر کے پاس آ کر بتایا، آپ نے کہا: دوبارہ اس کے پاس جاؤ، اگر لے لیتی ہے تو ٹھیک، ورنہ خیمے کے دروازے پر پھینک کر چلے آنا، وہ دوبارہ اس کے پاس گیا، اس نے کہا: اللہ تمھیں برکت دے، چلے جاؤ، ہم مہمان نوازی کا بدلہ قبول نہیں کرتے، اللہ کی قسم! اگر میرے آقا آ گئے اور تمھیں یہاں دیکھ لیا تو تمھیں ماریں گے بھی، چنانچہ وہ کپڑے کی گٹھڑی اور دینار کی تھیلی خیمے کے دروازے پر پھینک کر چلا آیا، پھر ہم چل پڑے، تھوڑی دور ہی چلے تھے کہ ایک شخص نشیب و فراز کو طے کرتے ہوئے آرہا تھا، قریب ہوا تو پتہ چلا کہ یہ وہی عذری بوڑھا ہے، جو کپڑے کی گٹھڑی اور دینار کی تھیلی لیے آ پہنچا ہے، دونوں کو ہماری طرف پھینکا اور مڑ کر جانے لگا، ہم اسے دیکھنے لگے کہ کیا وہ پلٹتا ہے توںایسا نہیں ہوا، چنانچہ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے: جود و سخا میں عذری بوڑھے نے ہی ہمیں مغلوب کیا۔

(تاریخ دمشق: جلد 29 صفحہ 190)