بارہواں طعن
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہایک روز عمرؓ خطبہ میں لوگوں کو گرانی مہر نساء سے منع کر رہے تھے۔ اس اثناء میں ایک عورت کھڑی ہو کر کہنے لگی: اے عمرؓ! خدا فرماتا ہے: وَّاٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْـًٔا(اگر گرانقدر خزانہ بھی عورتوں کو مہر میں دے دو تو واپس نہ کرو) اس پر خلیفہ نے سرِ تسلیم خم کر دیا اور کہا کل الناس افقہ من عمر حتیٰ المخدرات (سب لوگ عمرؓ سے زیادہ فقاہت رکھتے ہیں، حتیٰ کہ مستورات بھی) تو جب ایک عورت بھی علم و فقاہت میں آپ سے زیادہ تھی۔ تو آپ امامت و خلافت کے قابل نہ تھے۔
جواب: بریں فہم و دانش بباید گریست
نادان معترض جس بات کو باعثِ طعن قرار دیتا ہے۔ اہل عقل و دانش اس کو کمال وصف سمجھتے ہیں کہ باوجود اس جلال و جبروت کے جو فاروق اعظمؓ کو حاصل تھا۔ اور قیصر و کسریٰ صرف آپؓ کا نام سن کر لرز رہے تھے۔ ان کی بے نفسی اور انکساری کی یہ حالت ہے کہ ایک ادنیٰ عورت سرِ دربار ٹوک دیتی ہے اور قرآن کی آیت کو استدلال میں پیش کرتی ہے۔ تو خلیفہ وقت قرآن پاک کے ادب و لحاظ سے اس کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں۔ اور عورت کی حوصلہ افزائی اور دیگر اشخاص کو استنباط معانی قرآن کی غرض سے کہتے ہیں کہ عمرؓ کو ادّعا افقہ الناس ہونے کا نہیں ہے۔ حتیٰ کہ ایک عورت بھی یہ حق رکھتی ہے کہ قرآن مجید میں تدبر کر کے استنباط مسائل کر سکے۔
اگر حضرت عمرؓ کی جگہ کوئی دنیا پرست مغرور انسان ہوتا تو اس جاہ و جلال کے ہوتے کوئی شخص سرِ دربار اس کی قطع کلام کرتا تو جانبر ہونا مشکل تھا۔ یہی اصولِ مساوات ہے جس پر اسلام کو ناز ہے یہی وصف ہے۔ جو خاصانِ حق میں پائی جاتی ہے:
راندہ شد ابلیس از مستکبری
گشت مقبل آدم از مستغفری
معترض جس کی آنکھ کو تعصب نے اندھا کر رکھا ہے۔ سیدنا عمرؓ کہ اس بے نظیر وصف کو داخل معائب سمجھتا ہے۔
حضرت عمرؓ باوجود افقہ الناس ہونے کے خود کو سب سے فقاہت میں کمتر سمجھتے تھے جیسا کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ باوجود افضل الناس ہونے کے خود کو اشر الناس کہتے ہیں:
یظن الناس بی خیرا وانی
اشر الناس ان لم تعف عنی
حقیقت میں عورت کا سوال بے محل تھا۔ اور اس کا استدلال صحیح نہ تھا۔ کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے کہ سب سے زیادہ آیات قرآنی کے معنیٰ سمجھنے والے رسول اللہﷺ تھے۔ لیکن آپﷺ نے اپنی بیٹیوں کے مہور بہت معمولی بندھوائے۔ اور آپﷺ کا ارشاد ہے: اعظم برکۃ ایسرھن صداقا (بہت بڑی بابرکت عورت وہ ہے جس کا مہر کم باندھا جائے) اور گرانی محور کے نتائج ہمیشہ آخر کار خراب نکلتے ہیں۔ فتنہ و فساد، مقدمہ بازی تک نوبت پہنچتی ہے۔ اپنے قد سے بڑھ کر جو شخص دکھاوے کے لیے حق مہر مقرر کر دے۔ جس کی ادائیگی کی اس کو قدرت نہیں ہے۔ آخر کار سوا ہوتا ہے۔ اسلام نے ہر معاملہ میں کفایت شعاری اور میانہ روی کی تعلیم دی ہے۔ آیت قرآن کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ مہر میں قنطار گرانقدر خزانہ ہی مقرر کیا جائے۔ بلکہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ کوئی شخص نادانی سے ایسا کر بیٹھے تو پھر دیکھ کر اسے واپس لینے کا اختیار نہیں ہے۔ ہر چند عورت کا استدلال صحیح نہ تھا۔ نہ اس کا اعتراض بجا تھا۔ خلیفہ وقت نے عورت کی فقاہت دیکھ کر آیت قرآن سے استنباط کا ملکہ رکھتی ہے۔ محض اس کی دل جوئی اور حوصلہ افزائی کے لیے اس کی داد دی۔ تاکہ آئندہ کے لیے بھی اس کو اور دیگر اشخاص کو قرآن پاک میں تدبر کا اشتیاق بڑھے اور لوگوں پر بھی یہ ظاہر ہو کے جانشینِ رسولﷺ نے ہر ایک فرد بشر کو ادنیٰ کہ اعلیٰ، رائے زنی کا اختیار دے رکھا ہے۔ سبحان اللہ جاہل معترض کمال نادانی سے ہنر کو عیب سمجھ رہا ہے:
چشم بد اندیش کہ بر کندہ باد
عیب نماید ہرش در نظر
سیدنا علیؓ کی نسبت اسی طرح کا ایک قصہ مشہور ہے۔ چنانچہ ابن حرساء ابن عبداللہ نے محمد بن کعب سے یوں روایت کی ہے:
سال رجل علی فی مسئلۃ فقال فيها فقال الرجل اليس هكذا ولكن كذا وكذا قال على اسمك وفوق كل ذى علم عليم
”ایک شخص نے علی المرتضیٰؓ سے مسئلہ پوچھا: آپ نے جواب دیا تو اس شخص نے کہا، اس کا جواب یہ نہیں بلکہ اس طرح ہے، آپ فرمانے لگے تو نے ٹھیک کہا اور ہر دانا کے اوپر کوئی دانا ہوا کرتا ہے۔“
یہ بھی واضح ہو کہ کسی بات میں اگر کوئی شخص کسی مُسلَّم بزرگ سے ذیادہ واقفیت پیدا کرے تو اس بزرگ کی شان میں اس سے کوئی کمی نہیں ہوتی۔ جیسا کہ قرآن کریم میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا قصہ مذکور ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے مقابلہ میں جو نبی تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا فیصلہ درست نکلا حالانکہ حضرت سلیمان علیہ السلام اس وقت نبی نہیں تھے۔ کیا اس سے حضرت داؤد علیہ السلام کی نبوت و خلافت میں کچھ نقص واقعہ ہوا تھا؟ حاشا وکلا