اس سے زیادہ تعجب خیز بات میں نے نہیں سنی
علی محمد الصلابیعبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سفر حج پر نکلے، راستے میں تھے، ان کا ساز و سامان ایک سواری پر آگے چلا گیا تھا، آپ ایک خیمے کے دروازے پر بیٹھی ایک عورت کے پاس پہنچے، سواری سے اتر کر ساتھیوں کو دیکھنے لگے، اس عورت نے جب آپ کو دیکھا تو آپ کے پاس آ کر کہا: میرے یہاں تشریف لایے، اللہ آپ کو نیک لوگوں کی جگہوں میں رکھے، کہتے ہیں کہ آپ کو اس کی بات بہت اچھی لگی، اس کے خیمے پر گئے، اس نے آپ کو چمڑے کا گدا دیا، آپ اس پر بیٹھے، اس نے خیمے کے ایک گوشے میں موجود اپنی بکری کو ذبح کیا، بہت جلد اس کا ایک ٹکڑا بھون کر آپ کی خدمت میں پیش کر دیا، آپ کھانے لگے، آپ کے ساتھی آئے، آپ کو دیکھ کر وہ بھی اتر پڑے، بکری کا بقیہ حصہ اس نے پیش کر دیا، سب نے کھایا، نیز اپنے توشہ دان کو بھی نکالا، عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اب مجھے دن بھر تمھارے کھانے کی ضرورت نہیں، جب کوچ کا ارادہ کیا تو اخراجات کے ذمہ دار اپنے غلام کو بلا کر کہا: اخراجات میں سے تمھارے پاس کچھ ہے؟ کہا: ہاں، کہا: کتنا؟ کہا: ایک ہزار دینار، کہا: پانچ سو اسے دے دو، باقی خرچ کے لیے رکھ لو، چنانچہ وہ دینے لگا، اس نے لینے سے انکار کیا، عبداللہ رضی اللہ عنہما اس سے بات کرتے رہے اور وہ کہتی رہی، اللہ کی قسم میں اپنے شوہر کی ملامت کو ناپسند کرتی ہوں، عبداللہ رضی اللہ عنہما اس سے اصرار کرتے رہے آخر اس نے قبول کر لیا، آپ اور اس کے ساتھی چل پڑے، جلد ہی ایک بدوی اپنے اونٹوں کے ساتھ آتا دکھائی دیا، عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: مجھے معاملہ گڑبڑ دکھائی دے رہا ہے، کوئی جا کر معلومات حاصل کر کے ہمارے پاس آئے، چنانچہ ایک شخص لوٹ کر گیا اور اس کے قریب اترا، عورت نے جب بدوی کو آتے دیکھا تو اس کے استقبال میں کھڑی ہو کر کہنے لگی: آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، اور یہ اشعار پڑھنے لگی:
توسمتہ لما رأیت مہابۃ علیہ فقلت: المرء من آل ہاشم
’’جب میں نے اس کی وجاہت کو دیکھا تو تاڑ گئی اور دل میں کہا کہ یہ شخص بنوہاشم قبیلے کا ہے۔‘‘
و إلا فمن آل المرار فإنہم ملوک ملوک من ملوک أعاظم
’’یا بنومرار قبیلے کا ہے جو بڑے بڑے بادشاہوں کے بادشاہ ہیں۔‘‘
فقمت إلی عنز بقیۃ أعنز فأذبحہا فعل امریٔ غیر نادم
’’چنانچہ بچی ہوئی بکری کو ذبح کر دیا، اور مجھے اس پر کچھ بھی ندامت و افسوس نہیں۔‘‘
یعوضنی منہا عنَّانٌ و لم یکن یساوی لحیم العنز خمس دراہم
(تاریخ دمشق: جلد 29 صفحہ 192)
’’ایک بہت نمایاں شخص نے مجھے اس کا معاوضہ دیا ہے جب کہ بکری کا تھوڑا سا گوشت پانچ درہم کے مساوی بھی نہیں تھا۔‘‘
پھر اس کے سامنے دینار پیش کر کے پورا واقعہ بیان کیا، اس نے کہا: اللہ کی قسم کیا ہی بری مہمان نواز ہو تم، کیا تم نے اپنی مہمان نوازی کو ایسی چیز کے عوض بیچ دیا جو میرے نزدیک پتھر کے برابر ہے؟ جواب دیا: اللہ کی قسم مجھے یہ چیز ناپسند تھی ،اور مجھے ملامت کا خوف تھا، کہا: تجھے ملامت کا خوف تھا اور طعنے کا خوف نہیں رہا؟ وہ لوگ کس طرف گئے؟ اس نے راستے کی جانب اشارہ کیا، اور جسے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بھیجا تھا اس کے بارے میں کہا: یہ تمھاری مدد کرے گا، چنانچہ اس نے کہا: گھوڑے پر زین کسو، پوچھا: کیا کرو گے؟ کہا؟ میں لوگوں کے پاس جاؤں گا اگر میری مہمان نوازی (بغیر معاوضہ) انھوں نے قبول کر لی تو ٹھیک ورنہ میں ان سے جنگ کروں گا، اس نے کہا: میں تمھیں اللہ کا واسطہ دیتی ہوں کہ تم ایسا نہ کرو اور نہ انھیں تکلیف پہنچاؤ، وہ اسے مارتے ہوئے کہنے لگا: کیا تم مہمان نوازی کو ختم کر دینا چاہتی ہو؟ چنانچہ وہ گھوڑے پر سوار ہوا، اور نیزہ لے کر چل پڑا، جسے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بھیجا تھا، وہ اس کے ساتھ چلتے رہے اور کہتے رہے: میں نہیں سمجھتا کہ آپ ان لوگوں کو پاسکیں گے، کہا: اللہ کی قسم وہ چاہے جہاں پہنچ جائیں میں ان تک ضرور بالضرور جاؤں گا، جب وہ سمجھ گئے کہ وہ اپنے ارادے سے باز آنے والا نہیں ہے تو کہا: ٹھہرو، میں تمھیں ان لوگوں سے ملاتا ہوں، اور انھیں تمھارے بارے میں بتلاتا ہوں، چنانچہ آگے بڑھ کر اس نے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کو پورے معاملے کی جانکاری دی، عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہنے لگے، اس بدوی عورت کو اسی پریشانی کا ڈر تھا، جب وہ بدوی شخص ان کے قریب پہنچا تو عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما اسے سلام کیا، نیز اس عورت کے اچھے سلوک کی اسے خبر دی، اس نے کہا: میرے خیال میں یہی پوری بات نہیں، آپ اس سے بات کرتے اور قبول کر لینے پر اصرار کرتے رہے، مگر بدوی واپس کرنے پر مصر رہا، جب عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے یہ معاملہ دیکھا تو کہا ہمیں دیکھنا چاہیے کہ وہ کیا چاہتا ہے؟ جو ہم نے دے دیا ہم نہیں چاہتے کہ وہ ہمیں واپس لوٹا دیا جائے، چنانچہ وہ اٹھا ایک گوشے میں جا کر دو رکعت نماز پڑھی، پھر اٹھا، گھوڑے پر سوار ہوا، اور اپنے تیر و کمان نکال لیے، عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: یہ دو رکعت نماز کیسی؟ کہا:میں نے اس میں تم سے لڑنے سے متعلق اپنے رب سے استخارہ کیا ہے۔ پوچھا: تو تمھیں کس چیز کا اشارہ ملا ہے؟ کہا: اچھائی ہی کا اشارہ ملا ہے، الایہ کہ تم اپنے دنانیر واپس لے لو، اور ہماری مہمان نوازی کو قبول کر لو، جواب میں عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ہم ایسا کریں گے، چنانچہ دنانیر واپس لے لیے گئے، بدوی مڑ کر واپس جانے لگا تو اس سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہم تمھیں(کھانا کا) توشہ نہ دے دیں؟ اس نے کہا: قبیلہ قریب ہے تو کیا کوئی ضرورت ہو سکتی ہے؟ کہا: ہاں، پوچھا: کیا؟ کہا: (توشہ نہ دینے کی صورت میں) تم بیوی سے ہمارے برے سلوک کو بتاؤ گے، اس پر بدوی ہنس پڑا اور مڑ کر واپس چل دیا، اس کے بعد عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ یزید بن معاویہ کے پاس آئے اور بدوی کا واقعہ بیان کیا تو یزید نے کہا: میں نے اس سے زیادہ تعجب خیز بات نہیں سنی۔
(تاریخ دمشق: جلد 29 صفحہ 193)