Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تیرہواں طعن

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صحیح مسلم میں ہے:

فقال ابوبکر قال رسول اللہﷺ لا نورث ما ترکناہ صدقہ افرایتماہ کاذبا اثما غادرا خاننا واللہ نعلم انہ لصادق بار راشد نابعہ للحق تونی ابوبکر فکنت انا ولی رسول اللہﷺ وولی بکی بکر افرایتمانی کاذبا اثما غادرا خاننا واللہ یعلم انی لصادق بار راشد تابع للحق۔

شیعہ کہتے ہیں اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت علی، حضرت عباس، حضرت ابوبکر، حضرت عمر رضی اللہ عنہم کو کاذب، آثم، غادر، خائن سمجھتے تھے جیسا کہ حضرت عمرؓ نے کہا۔ جو ایسا ہوا قابلِ خلافت کب ہو سکتا ہے؟

جواب: یہ طعن متقدمین شیعہ کو نہیں سُوجھا کیونکہ ان میں کسی قدر مادہ انصاف موجود تھا۔ اور شرم و غیرت سے بھی کام لیتے تھے لیکن متاخرین شیعہ ان سب باتوں سے پاک فاصنع ما شئت پر عمل پیرا ہیں۔ اس جگہ سیدنا عمرؓ تنبیہ کے طور پر حضرت عباسؓ و حضرت علیؓ کو کہتے ہیں کہ جو فیصلہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مطابق فرمانِ نبویﷺ کیا، یا میں نے اس فیصلہ کو بحال رکھا۔ کیا تم لوگ ابوبکرؓ کو اور مجھ کو اس بارے میں کاذب، آثم، غادر، خائن سمجھتے ہو؟ حالانکہ خدا جانتا ہے کہ میں اور ابوبکرؓ اپنے دعویٰ میں سچے بار، راشد حق کے متبع تھے۔ یہ روز مرہ کا محاورہ ہے جو شخص اپنے دعویٰ میں فی الواقعہ سچا ہوتا ہے۔ وہ اپنی بریت کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ کیا تم مجھے کوئی چور، بد معاش، ڈاکو سمجھتے ہو کہ میں نے تمہاری کچھ چیزیں دبا رکھی ہیں؟ مطلب یہ ہوتا ہے کہ جب تم جانتے ہو کہ میں ایسا نہیں ہوں تو مجھ پر اس بات کا اشتباہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں نے تمہاری کوئی چیز لے لی ہو۔

دوم: حدیث میں لکھا ہے کہ سیدنا عباسؓ نے حضرت عمرؓ کے پاس سیدنا علیؓ کی معیت میں آ کر یہ الفاظ کہے تھے:

اقض بینی و بین ھذا الکاذب الاثم الغادر الخائن 

”میرے اور اس (علی) جھوٹے آثم، غادر خائن کے مابین فیصلہ کرو۔“

حضرت عباسؓ نے بھی جوش میں آ کر یہ الفاظ استعمال فرمائے تھے کیا یہ شخص (حضرت علیؓ) کاذب، آثم ہے کہ تم اس کے دعویٰ کو درست نہیں سمجھتے ہو۔ اس لیے وہی الفاظ سیدنا عمرؓ نے اپنی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نسبت دہرائے تاکہ حضرت عباسؓ کا جوش فرو ہو کہ اگر حضرت علیؓ کاذب، آثم، نہیں ہے تو ہم بھی تو ایسے نہیں ہیں بلکہ ہم اپنے دعویٰ میں صادق، تابع رشد و ہدایت ہیں اور پھر تم ہمارے درست فیصلہ اور قضا کے خلاف جو مطابق فرمانِ رسول پاکﷺ ہے۔ کیوں صدائے احتجاج بلند کرتے ہو کیا معترض کہ سکتا ہے کہ حضرت عباسؓ عم رسول نے جو الفاظ کاذب، آثم، غادر خائن اپنے برادر زادہ سیدنا علیؓ کی نسبت استعمال کیے۔ فی الواقع وہ ان کو ایسا ہی سمجھتے تھے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر یہاں کس طرح کہ سکتے ہو کہ فی الواقع سیدنا عباس و علی و شیخین رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ان الفاظ کا مصداق سمجھتے تھے:

لا مذہبوں میں شرم کا کچھ بھی اثر نہیں

ہے اعتراض اوروں پہ اپنی خبر نہیں