Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

پندرہواں طعن

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

حضرت عمرؓ نے غزوہ حدیبیہ میں کہا۔ اے رسولﷺ جب سے میں اسلام لایا۔ مجھے شان نبوت میں ایسا کبھی شک نہیں ہوا، جیسا آج ہوا ہے۔

جواب: ہم نے تو کسی کتاب میں یہ نہیں دیکھا۔ مولانا عبد الشکور نے النجم میں اس کے متعلق پانچ سو روپیہ انعام دینے کا وعدہ کیا ہے، اگر کسی معتبر کتاب حدیث سے یہ قول دکھلا دیں۔ اس لیے جب تک معترض حوالہ نہ دکھائے جواب کی ضرورت نہیں ہے۔

اگر اقتضائے بشریت سے ایک مومن کامل کو کسی امر میں تردد پیدا ہو۔ اور وہ فی الفور رفع ہو جائے تو اس کا کوئی مواخذہ نہیں ہوتا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے موحد کامل نے اللہ رب العزت سے احیاء اموات کا نشان اطمینان قلب کے لیے طلب کیا۔ کیا ان کے کمال ایمان میں اس سے کچھ نقص واقع ہوا؟

ہم شیعہ کی مستند کتاب حدیث فروع کافی جلد 3: کتاب الروضہ سے قسم ایک روایت پیش کیے دیتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ جعفر صادق رحمۃاللہ ایک دفعہ خلیفہ منصور کی اردل میں جا رہے تھے۔ خلیفہ بڑے جاہ و جلال سے ایک گھوڑے پر سوار تھا۔ اور آگے پیچھے اس پر سواروں کی ایک کارد تھی لیکن جعفر صادقؒ ایک گدھے پر سوار ہو کر خلیفہ سے باتیں کرتے جاتے تھے۔ آپ کے ایک خاص الخاص شیعہ نے استفسار کیا جبکہ آپ اپنے دولت خانہ پر تشریف لائے۔ الفاظ حدیث یوں ہیں:

فلما رجعت الى منزلي اتانی بعض مواليا فقال جعلت فداك واللہ لقد رايتك فی موكب ابي جعفر وانت علی حمار وهو على وقد اشرف عليك يكلمك كانك تحته فقلت بيني وبين نفسي هذا حجة اللہ على الخالق وصاحب هذا الامر الذي يقتدىٰ وهذ اخر يعمل بالجور ويعتل اولاد الأنبياء ويسفك الدما في الارض بما لا يحب اللہ وهو في مركبه وانت على حمار فدخلني من ذلك شك، حتىٰ خفت على ديني ونفسي فقال لو رأيت من کان حولي وبين يدى ومن خلفی وعن شمالی من الملئكة لَا حتقرت ما ھو فيه فقال الاٰن سكن قلبي

جعفر صادقؒ نے فرمایا: جب میں واپس گھر میں آیا تو میرا ایک خاص محب شیعہ مجھے ملا اور کہنے لگا میں آپ پر قربان، بخدا میں نے آپ کو منصور کی اردل میں دیکھا ہے۔ آپ گدھے پر تھے وہ گھوڑے پر تھا اور آپ کی طرف جھانک کر باتیں کر رہا تھا۔ گویا آپ اس کے ماتحت ہیں، میں نے اپنے دل میں کہا کہ( یہ امام ) خدا کی طرف سے اس کی مخلوق پر حجت ہے۔ اور صاحب حکم ہے جس کے حکم کی ہم نے اتباع کر لی ہے۔ اور یہ دوسرا (منصور) ایک ظالم شخص ہے۔ جو اہل بیت رسول کو قتل کرتا ہے اور زمین میں خونریزی کرتا ہے جو خدا کو پسند نہیں ہے۔ پھر تعجب ہے کہ وہ لاؤ لشکر کے ساتھ جا رہا ہے اور آپ گدھے پر سوار ہیں۔ اس وجہ سے میرے دل میں شک پیدا ہو گیا حتیٰ کہ مجھے اپنے ایمان کا خوف ہو گیا۔ امام فرماتے ہیں پھر میں نے اس سے کہا کاش! تو ان فرشتوں کو دیکھتا۔ جو میرے گردو پیش جارہے ہیں۔ تو تو منصور اور اس کی جاہ و جلال کو ہیچ سمجھتا اس شیعہ محب امام نے کہا۔ اب میری تسلی ہوگئی ہے۔“

بتلائیے! جعفر صادقؒ کے خاص الخاص محب شیعہ نے تو یہاں تک کہ دیا کہ مجھے امامت کے متعلق ایسا شک واقعہ ہو گیا ہے کہ مجھے اپنے دین و ایمان کا بھی اندیشہ ہو گیا جب امام نے زور کرامت سے اس کو صف ملائکہ بھی دکھا دی، تو اُسے پورا اطمینان ہو گیا۔ کیا وہ شیعہ محب امام شک کی وجہ سے کافر ہو گیا تھا۔ یا امام نے اُسے فتویٰ کفر دے دیا تھا؟ نہیں وہ پہلے سے بھی ایمان میں مضبوط ہو گیا۔ سو اسی وجہ سے اگر حضرت عمرؓ نے بھی کہ دیا ہو اور پھر اعجاز نبویﷺ سے ہدایت مزید اطمینان قلب کا باعث ہوا ہو۔ تو یہ تو نور علیٰ نور ہے۔ ایسا شک ہر کسی کو نصیب ہو، شیعہ بیچارے ان نکات کو کیا سمجھیں؟ جب عقل ہی نہیں ہے:

ہزاروں نکتے یہاں بال سے بھی ہیں باریک

 کہ جس کی عقل ہو موٹی وہ اس کو کیا جانے؟