یزید بن معاویہ کی جانب سے آئے ہوئے مال کو خرچ کر دینا
علی محمد الصلابییزید بن معاویہ نے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کے پاس بطور ہدیہ بہت سارا مال بھیجا، آپ نے اسے اہل مدینہ میں تقسیم کر دیا اور گھر کچھ نہ لے گئے، اس بارے میں عبید اللہ بن قیس الرقیات نے کہا:
و ما کنت إلا کالأغر بن جعفر رأی المال لا یبقی فأبقی لہ ذکرا
(الإصابۃ: جلد 4 صفحہ 38)
’’اے ابن جعفر! آپ اس معزز شخص کی طرح ہیں جس کے خیال میں مال باقی نہیں رہتا، اس خیال کے باعث اس نے اپنی یاد کو باقی رکھا۔‘‘
جس وقت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما یزید کے پاس آئے تو اس نے آپ کو بیس لاکھ دینے کا حکم دیا، امام ذہبیؒ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: یہ کوئی بڑی چیز نہیں، یہ دنیاوی بادشاہ کا انعام ہے اور یہ انعام ایسے شخص کے لیے تھا جو خلافت کا اس سے زیادہ حقدار تھا۔
(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 457)