سولہواں طعن
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہحضرت عثمانؓ نے قرآن جلوا دیے۔ اس لیے توہین کلام اللہ کے جرم کے مرتکب ہوئے، ایسا شخص اہل خلافت نہیں ہو سکتا۔
جواب: حضرت عثمانؓ نے قرآن جلوائے نہیں بلکہ قرآن کو جمع کر کے حفاظت کلام اللہ کا ثواب حاصل کیا حضرت عثمانؓ کے اس احسانِ عظیم کی دنیائے اسلام قیامت تک گرویدہ احسان ہے۔ اگر آپ اسلام کی یہ خدمت نہ کرتے تو قرآن پاک میں بھی شیعہ لوگ ایسی ہی تحریف کر دیتے جیسے یہود و نصاریٰ نے تورات و انجیل کی تعریف کر دی ہے۔ آپ نے قرآن کو جمع کر دیا البتہ غیر قرآن جواز قسم تفسیر لوگوں نے قرآن میں شامل کر رکھا تھا، ان کو جلا دیا۔ اور سوائے اس صورت کے کلام اللہ کی حفاظت مشکل تھی لیکن شیعہ معترض کو کچھ اپنے گھر کی بھی خبر ہے کہ بقول ان کے ائمہ اہل بیت نے قرآن سے کیا سلوک کیا؟ حضرت علیؓ نے تو قرآن کو جمع کرنے کے بعد ایسا گم کیا کہ اس کا کہیں پتہ ملنا بھی مشکل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ نے اپنی اولاد کے سپرد کیا اور آخر امام مہدی کے ہاتھ آیا، لیکن وہ بقول شیعہ قرآن کو لے کر کہیں ایسے بھاگ گئے کہ تلاش کرنے سے بھی کہیں کھوج نہیں مل سکتا۔ حضرت عثمانؓ نے تو وہ حصہ جلایا ہوگا، جو نہ تھا لیکن حضرت علیؓ اور ان کی ذریت نے قرآن کو کہیں غائب غلہ کر کے اس کا نشان ہی مٹا دیا۔ کیا اس سے بڑھ کر توہین کلام اللہ ہوسکتی ہے کہ وہ قرآن جو خلق خدا کی ہدایت کے لیے تھا اور اس کے جمع و ترتیب کی ذمہ داری بقول شیعہ حضرت علیؓ نے اٹھائی تھی جمع کر کے نہایت بے دردی سے گم کر دیا گیا۔ جس کا کوئی ورق ڈھونڈے سے بھی نہیں مل سکتا۔ شیعہ بے چارے مجبوراً اسی غلط ملط سنیوں کے قرآن سے کام لے رہے ہیں۔ اس کو نمازوں میں پڑھنا ہوتا ہے، اس کی تعلیم اپنے اطفال کو دلانی پڑتی ہے، اس کا ثواب اپنے مردوں کی روحوں کو بخشوایا جاتا ہے۔ شیعہ بجائے اس کے کہ ائمہ اہل بیت کو کوسیں کہ انہوں نے قرآن جمع کردہ علیؓ تیرہ سو سال سے ان سے چھپا رکھا ہے۔ الٹا حضرت عثمانؓ کو مطعون کرتے ہیں جس کی بدولت ان کو قرآن ملا (غلط اور ناقص ہی سہی) اس سے بڑھ کر کفرانِ نعمت کیا ہو سکتا ہے؟ شیعہ بے چاروں کی حالت قابل رحم ہے نہ اس قرآن پر ایمان رکھتے ہیں، نہ اس کو چھوڑ سکتے ہیں:
دو گونہ رنج و عذابست جان مجنوں را
بلائے صحبت کیلیے وفرقت کیلیے
توہین قرآن کا ایک واقعہ:
اصول کافی:صفحہ 180 میں ہے کہ حضرت صادق رحمۃاللہ نے قرآن کی آیت یوں پڑھی:
لولا تكونوا كالتي نقضت غزلها من بعد قوة انكاثا تتخذون ایمانكم وخلا بينكم ان تكون ائمۃ ازكى من ائمتكم
قرآن میں یوں ہے:
اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ(سورۃ النحل: آیت 92)
قال قلت فداك ائمۃ قال ای واللہ ائمۃ قلت فإِنا فقرء اربیٰ فقال ما اربیٰ واومىٰ بیدہ فطرحھا
راوی کہتا ہے میں نے امام سے پوچھا کہ یہ ائمہ ہیں؟ آپ نے کہا ہاں خدا کی قسم ائمہ ہیں، پھر میں نے کہا ہم اربیٰ پڑھا کرتے ہیں۔ آپ نے کہا اربیٰ کیا ہے، پھر آپ نے(جوش میں آکر ) ہاتھ سے اشارہ کیا اور قرآن کو زمین پر پھینک مارا۔
اب دیکھیے اس سے بڑھ کر توہین قرآن کیا ہو سکتی ہے کہ صرف اتنی بات پر کہ قرآن میں بجائے ائمہ کے اُمَّةٌ اور ازکی کی بجائے اَرْبٰى لکھا تھا۔ آپ نے غصہ میں آکر قرآن کو زمین پر پٹخ دیا۔ کیا شیعہ حضرات اس کا کوئی جواب دیں گے کہ امام معصوم کا فعل صریح توہین کلام پاک نہیں ہے؟