سترہواں طعن
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہحضرت عثمانؓ نے حکم بن ابی العاص کو مدینہ منورہ بلا لیا حالانکہ رسول اللہﷺ نے اس کو اس کی شرارتوں کی وجہ سے مدینہ منورہ سے نکال دیا تھا۔ اور شیخینؓ نے بھی اس کو واپس آنے کی اجازت نہ دی تھی۔
جواب: حضورﷺ نے حکم بن ابی العاص کو اس لیے مدینہ سے نکال دیا تھا کہ اس کی منافقین اور کفار سے دوستی تھی اور احتمال فتنہ و فساد تھا۔ اور چونکہ حکم بنوامیہ سے تھا اور شیخینؓ تیم اور عدی سے تھے اس لیے انہوں نے اس کو واپس آنے کی اجازت نہ دی تھی کہ مبادا پرانی عداوت جو زمانہ جاہلیت سے ان قبائل میں چلی آتی تھی پھر عود کرے اور حکم کسی قسم کا شر و فساد کا باعث ہو۔ لیکن حکم چونکہ حضرت عثمانؓ کا رشتہ دار ابن العم تھا اور نیز مرض الموت میں حضرت عثمانؓ نے رسول پاکﷺ سے سفارش کر کے اس کا قصور معاف کرا لیا ہوا تھا۔ جس کی اطلاع شیخینؓ کو نہ تھی، اس لیے انہوں نے اپنے عہدِ خلافت میں اس کو واپس بلا لیا تھا۔ کیونکہ اس کے عفو قصور اور اجازت دخول مدینہ کا ان کو ذاتی علم تھا۔ اور حکم نے اس کے بعد کسی قسم کا کوئی فتنہ و فساد نہ کیا۔ اور ایک ضعیف العمر بڈھا فرتوت ہو چکا تھا۔ کسی قسم کے شور و شر کے قابل ہی نہیں رہا تھا۔ اس کے واپس بلانے میں کچھ حرج نہ تھا۔