Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اصحاب ثلاثہؓ کے نام پر فرزندانؓ کے نام

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

کتب معتبرہ تواریخ فریقین سے ثابت ہے کہ جناب امیرؓ نے اپنے ایک صاحبزادہ کا نام ابوبکرؓ رکھا جو لیلٰے بنت مسعود کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔ ایک صاحبزادہ کا نام عمرؓ بھی تھا جو حبیبہ بنت ربیعہ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔ ایک کا نام عثمانؓ رکھا جو ام البنین بنت حرام بن خالد سے متولد ہوئے تھے۔ ایک صاحبزادی کا نام ام المؤمنین زوجہ رسول اللہﷺ کے نام پر میمونہ رکھا۔ دوسری دو صاحبزادیوں کا نام رقیہ۔ ام کلثوم رکھا۔ جو رسول پاکﷺ کی دو صاحبزادیوں کے نام تھے۔ جو حضرت عثمانؓ کی زوجیت میں آئی تھیں۔ ایسا ہی امام حسنؓ نے ایک صاحبزادہ کا نام ابوبکرؓ رکھا۔ ایک کا نام عمرؓ رکھا جو آپ کی جاریہ (کنیز) کے شکم سے پیدا ہوا تھا۔ یہ دونوں حضرت امام حسینؓ کے ساتھ معرکہ کربلا میں شہید ہوئے تھے۔ علیٰ ہذا القیاس۔ امام زین العابدین رحمۃاللہ نے بھی اپنے ایک فرزند کا نام عمرؓ رکھا اور حضرت امام موسیٰ کاظمؒ نے بھی اپنے ایک صاحبزادہ کا نام ابوبکرؓ رکھا تھا۔ حضرت امام رضا نے اپنی دختر کا نام عائشہؓ رکھا اور حضرت علی نقیؓ نے بھی اپنی نور چشمی کا یہی نام رکھا۔

اب شیعہ حضرات سے ہم دریافت کرتے ہیں کہ اگر جناب امیرؓ اور ان کے فرزندان گرامی کو حضرت ثلاثہؓ اور ازواج مطہراتؓ سے محبت و پیار نہ تھا۔ تو اپنی اولاد کے نام ان کے ناموں پر کیوں رکھے۔ قاعدہ کی بات ہے کہ فوت شدگان سے جو بزرگ واجب الاحترام اور ذی شرافت سمجھا جاتا ہے۔ اس کا نام تبرکاً اولاد کا رکھا جاتا ہے۔ کوئی شخص دشمن کے نام پر اپنی اولاد کے نام نہیں رکھے گا۔ چنانچہ واقعہ کربلا کو مدتیں گزر گئیں۔ لیکن اب تک کسی مسلمان نے اپنے فرزند کا نام یزید یا شمر نہیں رکھا۔ یہ ایک ایسی زبردست دلیل ہمارے ہاتھ میں فضیلت و عظمت اصحاب ثلاثہؓ ثابت کرنے کے لیے ہے جس کا کوئی جواب شیعہ سے قیامت تک نہیں ہو سکتا۔ پس تمام نزاع کے فیصلہ کے لیے یہی ایک بات کافی ہے۔ بشرطیکہ شیعہ اصحاب میں کوئی صاحب انصاف موجود ہو: