Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کے معاملات

  علی محمد الصلابی

عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ اور عبدالملک کے پاس جاتے تھے، آپ عظیم الشان، معزز، سخی اور امام وقت تھے۔ 

(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 458)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ کے تعلقات بہت اچھے اور مضبوط تھے، حتیٰ کہ اپنے ایک بچے کا نام آپ نے معاویہ رکھا، ابان بن تغلب سے مروی ہے کہ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس ہر سال آیا کرتے تھے، آپ انھیں ایک لاکھ درہم دیتے تھے، جس سے وہ اپنی ضرورت پوری کرتے تھے۔

(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 459)

تاریخ و ادب کی کتابوں میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ابن جعفر رضی اللہ عنہ سے متعلق بہت سے واقعات مذکور ہیں جو صحیح نہیں ہیں، انھی میں سے وہ واقعہ ہے جسے یحییٰ بن سعید بن دینار نے بیان کیا ہے کہ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ ایک رات دمشق میں ’’خضراء‘‘ نامی معاویہ رضی اللہ عنہ کے محل میں انھی کے ساتھ تھے، اسی وقت سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام ایک رنجیدہ کرنے والا خط پہنچا جس سے وہ رنجیدہ ہو گئے، اسے زمین پر پھینک کر کہا: ابوتراب (علی رضی اللہ عنہ ) کے بیٹے سے مجھے کون انصاف دلائے گا؟ اللہ کی قسم جی میں آتا ہے کہ میں ان کی ایسی تیسی کردوں، عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما ان کی ہاں میں ہاں ملاتے اور خوشامد کرتے رہے تاآنکہ اٹھ کر چلے گئے، میری نگاہ دونوں پر تھی، جب اپنے گھر پہنچے، سواری طلب کی، بیٹھے اور اسی وقت مدینہ کی جانب روانہ ہو گئے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی بیوی فاختہ بنت قرظہ کے پاس رنجیدہ حالت میں پہنچے اور کہا: اس رات میں نے ابن جعفر کے ساتھ کیا کر دیا، میرا سلوک ان کے ساتھ اچھا نہیں رہا، آپ کے چچا زاد بھائی کے بارے میں آپ کو کچھ ناپسندیدہ باتیں سنا دی ہیں، ہم سے آپ کی محبت اور دوستی نے آپ کو ایسا ہی کرنے سے روک دیا، یہ سن کر بیوی نے کہا: آپ نے بہت غلط کیا، آپ نے بہت برا کیا، چنانچہ رنجیدہ حالت میں جاگتے رہے، بار بار اپنے کیے کو یاد کرتے اور ان کو نیند نہیں آتی، تاآنکہ رات کا پچھلا پہر ہوگیا، وہ اٹھے، وضو کیا اور کہا: میں ہی ان کو نیند سے بیدار کروں گا، چنانچہ وہ آپ کے پاس گئے، دیکھا گھر میں کوئی نہیں ہے، آپ کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ آپ کے پاس سے آتے ہی مدینہ کے لیے روانہ ہو گئے، آپ کی تلاش میں لوگوں کو بھیجا اور کہا: اگر وہ مل جائیں تو انھیں واپس لے آؤ، چاہے اپنے گھر میں داخل ہو چکے ہوں، بالآخر آپ کو واپس لایا گیا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ رات والے معاملے پر آپ سے معذرت کرنے لگے اور کہا: جاتے ہوئے آپ کا گزر ہماری جن جن چیزوں سے ہوا ہے، ان سب کو میں نے آپ کے لیے ہبہ کردیا، آپ کا گزر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بہت سارے اونٹوں اور بکریوں پر ہوا تھا، انھوں نے سب کے بارے میں حکم دے دیا اور آپ نے وہ سب لے لیا اور دل کی رنجش ختم ہوگئی۔

(الطبقات تحقیق السلمی: جلد 2 صفحہ 19، 20، اس کی سند ضعیف اور منقطع ہے۔)

یہ واقعہ صحیح نہیں ہے اس لیے کہ اس کی سند ضعیف اور منقطع ہے، یحییٰ بن سعید بن دینار سعدی، واقدی کے استاد ہیں اور مجہول ہیں۔

(الطبقات تحقیق السلمی: جلد 2 صفحہ 19)

یہ واقعہ بطور مثال ہے، ورنہ دوسرے بہت سارے واقعات ہیں۔

تاریخ و ادب کی کتابوں میں سیدنا معاویہ و عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کے مابین شعری مقابلوں کے تذکرے موجود ہیں، مثلاً یونس بن میسرہ سے مروی ہے کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کو تنگ حالی لاحق ہوگئی ہے تو ان کے پاس دو شعر لکھ کر بھیجے:

لمال المرء یصلحہ فیغنی مفاقرہ أعف من القنوع

’’آدمی اپنے مال کی حفاظت کرتا ہے تو وہ اس کے اسبابِ غربت کو ختم کرتا ہے اور وہ از حد سوال سے بچنے والا ہوتا ہے۔‘‘

یسد بہ نوائب تعتریہ من الأیام کالنہر الشروع

’’اسی کے ذریعہ سے بہتے دریا کی طرح مسلسل پیش آنے والی زمانے کی گردشوں کا مقابلہ کرتا ہے۔‘‘

ان کے پاس لکھا کہ وہ میانہ روی اختیار کریں، اس کی ترغیب دلائی، سفر سے روکا اور اسے معیوب قرار دیا، چنانچہ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے درج ذیل اشعار سے جواب دیا:

سلی الطارق المعتر یا أم خالد إذا ما أتانی بین ناری و مجزری

’’اے ام خالد! رات میں آنے والے تنگ حال لوگوں سے پوچھو جب وہ کھانا تیار ہونے کے وقت میرے پاس آتے ہیں۔‘‘

أأبسط وجہی أنہ أول القری و أبذل معروفی بہم دون منکری

’’کیا میں خندہ پیشانی سے ان کا استقبال نہیں کرتا کہ یہ پہلی میزبانی ہے؟ اور ان کے ساتھ بھلائی میں تم سے سبقت لے جاتا ہوں۔‘‘

و قد أشتری عرضی بمالی و ماعسی أخوک إذا ما ضیع العرض یشتری

’’مال سے اپنی عزت کو باقی رکھتا ہوں اور جب عزت چلی جاتی ہے تو اسے خریدا نہیں جا سکتا۔‘‘

یؤدی إلی اللیل إتیان ماجد کریم و مالی سارح مال مقتر

’’رات میں معزز مہمان آتے ہیں، اور مجھ جیسے تنگدست کا مال خرچ ہوتا ہے۔‘‘