سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لیے عام بیعت انجام پائی، سیدنا حسنؓ کے ہاتھوں پر آپ کے والد کے ساتھ رہنے والے گورنروں اور ان تمام لوگوں نے بیعت کی جنھوں نے آپ کے والد کے لیے بیعت کی تھی۔ سیدنا حسنؓ نے بحیثیت خلیفہ ذمہ داریوں کو سنبھالا، گورنروں اور حاکموں کو مقرر کیا، فوجیوں کو منظم کیا، عطیات تقسیم کیے، مجاہدوں کے عطیات میں سو سو کا اضافہ کیا، جس سے سیدنا حسنؓ کو ان کی خوشنودی حاصل ہوگئی۔
(تاریخ العراق فی ظل الحکم الأموی: صفحہ 87، مقاتل الطالبیین: صفحہ 55)
سیدنا حسنؓ معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف ایک خونریز جنگ چھیڑ سکتے تھے، سیاسی، فوجی، اخلاقی اور دینی حیثیت سے آپ کی منفرد شخصیت اس سلسلے میں آپ کی معاون ثابت ہوتی، ساتھ ہی ساتھ دوسرے اسباب و عوامل بھی معاون ہوتے جیسے قیس بن سعد بن عبادہ، حاتم بن عدی طائی وغیرہ رضی اللہ عنہم جیسے جرنیلوں کا موجود ہونا، جو فوجی قیادت کی بے پناہ صلاحیتوں کے مالک تھے، ان سب کے باوجود سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے امن و امان اور صلح و مصالحت کو ترجیح دی تاکہ خونریزی سے بچاؤ، امت کا اتحاد، دنیاوی حکومت سے بے رغبتی، اللہ کی رضااور ان جیسے دوسرے مقاصد (جن کی تفصیل آرہی ہے) حاصل ہو سکیں۔
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے مصالحت کے منصوبے کو آگے بڑھایا جس کے نتیجے میں امت متحد ہوگئی، معاملے کی باگ ڈور آپ کے اور آپ کے مؤیدین کے ہاتھوں ہی میں رہی، صحیح بخاری کی روایت کے مطابق آپ کی فوجی طاقت مضبوط تھی، عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اس بات کو اپنے اس قول میں بیان کیا ہے:
إِنِّیْ لَأَرَی کَتَائِبَ لَاتَوَلَّی حَتّٰی تَقْتَلَ أَقْرَانُہَا۔
(صحیح البخاری: کتاب الصلح حدیث نمبر 2704)
’’بلاشبہ میں ایسی فوجوں کو دیکھ رہا ہوں جو اپنے دشمنوں کو قتل کیے بغیر واپس ہونے والی نہیں ہیں۔‘‘
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا قول ہے:
کَانَتْ جَمَاجِمُ الْعَرَبِ بِیَدِیْ تُحَارِبُ مَنْ حَارَبْتُ وَ تُسَالِمُ مَنْ سَالَمْتُ
(المستدرک: جلد 3 صفحہ 170)
’’عرب سردار میری مٹھی میں تھے، میں جن سے جنگ کرتا ان سے جنگ کرتے، جن سے صلح کرتا ان
سے صلح کرتے۔‘‘
اگر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا رعب و دبدبہ نہ ہوتا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان سے گفتگو کرنے اور ان کے شرائط و مطالبات کو مان لینے کی ضرورت نہ ہوتی، جاسوسوں کے ذریعہ سے ان کی کمزوری اور طاقت و قوت کا فقدان معلوم ہو جاتا، کسی سے گفتگو اور اس کے شرائط و مطالبات کو تسلیم کیے بغیر کوفہ پر قبضہ کر لیتے، بلاشبہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے خلاف سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو طاقت و قوت کی برتری حاصل تھی، تو کیا اسی سبب سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مصالحت کی تھی؟
(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الأمویین بطاینۃ: صفحہ 60، 61)
ابن تیمیہ رحمۃاللہ اس سلسلے میں ’’منہاج السنۃ‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’ان لوگوں کی طرح جنھوں نے اپنے اعوان و انصار کی قلت کے باوجود دشمنوں سے جنگیں لڑیں، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے لڑ سکتے تھے، اگرچہ ان کے ساتھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں سے کم تھے، لیکن سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اختلاف و انتشار اور فتنہ کو سخت ناپسند کرتے تھے اور امن وامان اور مصالحت کو ترجیح دیتے تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ سے امت کا اختلاف ختم کر کے انھیں متحد کر دیا۔‘‘
(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 536، دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الأمویین: صفحہ 61)
آپ کا نظریہ نہایت واضح مصالحت کا تھا جو مختلف اسباب و عوامل کے باعث اور مختلف مراحل میں انجام پائی، رکاوٹیں دور ہوگئیں، شرائط لکھی گئیں اور اس کے بہت سارے نتائج برآمد ہوئے، اس مصالحت کا شمار ہمیشہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے قابلِ فخر کارناموں میں ہوگا۔ ڈاکٹر خالد الغیث حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
’’مسلمانوں کو خونریزی سے بچانے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مصالحت کرنے میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی حیثیت جمعِ قرآن میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی سی اور حروب ردہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سی ہے۔‘‘
(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: خالد الغیث: صفحہ 134)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا یہ کارنامہ نبوت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، اس پر صراحت کے ساتھ وہ روایت دلالت کرتی ہے جسے امام بخاری نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے طریق سے نقل کیا ہے:
قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلي الله عليه وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ، وَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ إِلَی جَنْبِہِ وَ ہُوَ یُقْبِلُ عَلَی النَّاسِ مَرَّۃً وَ عَلَیْہِ أُخْرَی وَ یَقُوْلُ: إِنَّ ابْنِیْ ہَذَا سَیِّدٌ وَ لَعَّلَ اللّٰہُ أَنْ یُّصْلِحَ بِہِ بَیْنَ فِئَتْیْنِ عَظِیْمَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 7109)
’’فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا، حسن بن علی( رضی اللہ عنہ ) آپ کے بغل میں تھے، آپﷺ ایک مرتبہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے تو دوسری بار ان کی طرف، آپﷺ فرما رہے تھے، میرا یہ لاڈلا سردار ہے، اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے مابین مصالحت کرائے گا۔‘‘
بلاشبہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی مصالحت اسلامی تاریخ کا عظیم ترین واقعہ ہے، اس کی اس عظمت کے بہت سارے اسباب ہیں، ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:
1۔ یہ نبوت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
2۔ اس مصالحت کے نتیجہ میں مسلمان خونریزی سے بچ گئے، اور کئی سالوں کے اختلاف و انتشار کے بعد ایک حاکم پر متفق ہو گئے۔
3۔ مسلمانوں کے مابین مصالحت کی خاطر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ پہلے خلیفہ ہیں جنھوں نے قوت کے باوجود بغیر کسی دباؤ کے منصب خلافت سے تنازل کر کے اپنے آپ کو علیحدہ کر لیا۔
4۔ آپ خلفاء علیٰ منہاج النبوۃ میں سے آخری خلیفہ تھے۔
ان اور ان جیسے دوسرے اسباب کے باعث عقیدہ و حدیث، تاریخ و ادب وغیرہ کی کتابیں حسن و معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین مصالحت کی خبروں سے بھر ی پڑی ہیں، ان کتابوں بالخصوص تاریخ طبری کو پڑھنے والا آسانی سے اندازہ کر سکتا ہے کہ مصالحت کی روایتیں کتنی زیادہ اور باہم متضاد ہیں، صحیح و ضعیف باہم خلط ملط ہیں، ساتھ ہی ساتھ اسے یہ معلوم ہو گا کہ ان کتابوں نے واقعات کی تاریخی ترتیب کی رعایت نہیں کی ہے جب کہ واقعات کے سمجھنے میں اس کی بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 125)
محترم ڈاکٹر خالد الغیث نے بڑی محنت سے ان کتابوں کا تجزیاتی مطالعہ کیا ہے، ان سے صحیح روایتوں کو اخذ کر کے مصالحت کے واقعات کی تاریخی ترتیب میں انھی پر اعتماد کیا ہے، ساتھ ہی واقعات کی تفصیلات کو مکمل کرنے کے لیے صحیح روایات کے موافق بعض ضعیف روایات سے بھی استفادہ کیا ہے، جیسا کہ انھوں نے اپنی کتاب ’’مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری‘‘ میں اپنا منہج بیان کیا ہے۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 125)
ان کی اس بہترین کوشش اور مصالحت کے واقعات کی انوکھی ترتیب اور عمدہ تسلسل سے میں نے استفادہ کیا ہے۔