Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مصالحت کے اہم مراحل پہلا مرحلہ

  علی محمد الصلابی

پہلا مرحلہ:

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں کے مابین صلح کرائے، اس مبارک دعا نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو پورے اعتماد اور عزم مصمم کے ساتھ اس مصالحت پر آمادہ کر دیا،

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 125)

چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ ابْنِیْ ہَذَا سَیِّدٌ وَ لَعَلَّ اللّٰہَ أَنْ یُّصْلِحَ بِہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ عَظِیْمَتَیْنِ مِنْ الْمُسْلِمِیْنَ

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 7109)

’’میرا یہ لاڈلا سردار ہے اور توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے مابین صلح کرائے۔‘‘

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ محض پیشین گوئی نہیں تھی کہ اسے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور دوسرے مسلمان سنیں اور دوسری پیشین گوئیوں کی طرح اس کی تصدیق کریں، بلکہ وہ ان کی شاہراہ حیات، افعال و کردار کی جہت متعین کرنے والی بات تھی، جو ان کے دل کی گہرائیوں میں اتر چکی تھی، ان کے جذبات و خیالات پر حاوی تھی، ان کے گوشت پوست میں سرایت کر چکی تھی، آپ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت تصور کرتے تھے، سیدنا حسنؓ کے نانا جب یہ کلمات اپنی زبان سے ادا کر رہے تھے، تو آپ نے ان کے چہرے پر خوشی کے آثار اور آنکھوں میں چمک دیکھی تھی، چنانچہ سیدنا حسنؓ نے اس وصیت کو اپنی زندگی کا ایک اہم مقصد اور مستقبل کا اعلیٰ ترین آئیڈیل سمجھا۔

اس پیشین گوئی کے اثرات سیدنا حسنؓ کی حرکات و سکنات میں نمایاں تھے، یہاں تک کہ والد بزرگوار کے ساتھ ان کی گفتگو میں بھی، جن سے آپ ویسی ہی محبت کرتے تھے جیسا کہ فرماں بردار بچے اپنے ان عظیم والدین سے کرتے ہیں، جنھیں خصوصی طور پر اللہ تعالیٰ نے مختلف صلاحیتوں اور فضائل و مناقب سے نوازا ہو، آپ ایک بیٹے اور صحابی کی حیثیت سے ان فضائل و مناقب کو اچھی طرح جانتے تھے اور اپنے والد کا غایت درجہ احترام کرتے تھے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کے بعد آپ نے اپنے والد سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا تھا کہ لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر کہیں چلے جائیں تاکہ عربوں کے دور کے سپنے ختم ہو جائیں اور ان سے کہا تھا:

’’اگر آپ گوہ کے بل میں بھی ہوں گے تو وہ لوگ آپ کو ڈھونڈ نکالیں گے اور آپ کے لیے خودبخود بیعت کریں گے۔‘‘

جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اہل شام سے جنگ اور اس کی تیاری کا عزم کیا اور اپنے فرماں برداروں کے تعاون سے نافرمانوں سے جنگ کے ارادے سے مدینہ سے نکلے تو آپ کے پاس سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے اور کہا:

یَا أَبَتِ دَعْ ہَذَا فَاِنَّ فِیْہِ سَفْکَ دِمَائِ الْمُسْلِمِیْنَ وَ وُقُوْعَ الْاِخْتِلَافِ بَیْنِہِمْ

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 229، 230، نقلا عن المرتضٰی للندوی: صفحہ 198)

’’اے والد محترم! اس عزم کو ترک کر دیں، اس سے مسلمانوں کا خون بہے گا اور ان کے مابین اختلاف و انتشار بڑھے گا۔‘‘

لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا مشورہ نہیں مانا، سیدنا حسنؓ کی رائے تھی کہ لوگوں کو فتنے میں نہ چھوڑا جائے، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیا جائے، معاملے کو ٹھیک کیا جائے، حق کو اہل حق تک پہنچایا جائے، ہر ایک کی اپنی رائے ہوتی ہے۔

(المرتضی للندوی: صفحہ 198)

 یہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی رائے درست تھی۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی اسلامی تربیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معجزانہ تربیت کا اثر یہ ظاہر ہوا کہ وہ ایک جلیل القدر سردار ہوئے، سرداری زبردستی، خونریزی، مال کے ضیاع اور محترم چیزوں کے احترام کی پامالی سے نہیں ملتی، بلکہ ان کی حفاظت اور آپس کی عداوت و دشمنی کو ختم کر کے حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ مصالحت اور مسلمانوں کی خونریزی کو روک کر سیدنا حسنؓ نے سرداری کا اعلیٰ مقام حاصل کر لیا جسے کوئی بھی بزور بازو حاصل نہیں کر سکتا۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مصالحت کر لی، جب کہ آپ کے ساتھ ہزاروں لوگ تھے، ان میں کچھ تو لالچی اور غیرمخلص تھے، لیکن اکثریت وفادار اور مخلص تھی، لیکن سیدنا حسنؓ نے چاہا کہ آپ کی وجہ سے اس سلسلے میں خون کا ایک قطرہ بھی نہ بہے اور نہ ہی کوئی مسلمان زخمی ہو، اگر قوموں کی سرداری ان کی حفاظت، بچاؤ اور ترقی کے لیے نہ ہو تو وہ سراسر اندھی سرکشی، احمقانہ ناعاقبت اندیشی اور خطرات مول لینا ہے جس کا نتیجہ تباہی و بربادی، ذلت و رسوائی کے علاوہ کچھ نہیں ہے، ایسا کرنے والے اللہ کے غضب اور تاریخ کی لعنت کا شکار ہوتے ہیں، دنیاداری، سرداری اورحکومت کی لالچ کے نتیجے ہی میں ہمیشہ انسانوں کے خون بہتے رہے ہیں۔

(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 94)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو دنیا، حکومت اور سرداری کی کوئی رغبت نہیں تھی، اگر آپ کو رغبت ہوتی تو آپ سالہا سال کی خونریز جنگ چھیڑ سکتے تھے، لیکن آپ کی نگاہ آخرت پر تھی، امت محمدیہ کو خوں ریزی سے بچانا چاہتے تھے، حسن بصری رحمۃاللہ فرماتے ہیں: ’’سیدنا حسن رضی اللہ عنہ جب خلیفہ ہوئے تو ناحق ان کے سبب کچھ بھی خون نہیں بہا،

(دلائل النبوۃ للبیہقی: جلد 6 صفحہ 443، الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 95)

سیدنا حسنؓ اس کا صراحت سے اظہار کرتے اور اس پر فخر کرتے تھے، نبوی وصیت کی تنفیذ اور ایمانی تربیت کی راہ پر چلنے کو عزت افزائی کا سبب سمجھتے تھے۔‘‘

(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 95)

اللہ تعالیٰ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ذریعہ سے اہل عراق اور ساری امت کے مابین صلح کرائی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصالحت کا شمار سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے فضائل میں کیا ہے، اگر ترکِ خلافت اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مصالحت کے بجائے جنگ ہی مطلوب ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مطلوب فعل کے ترک اور غیرمطلوب فعل کو انجام دینے نیز افضل کو چھوڑ کر غیرافضل کام کو کرنے پر آپ کی تعریف نہ کرتے، معلوم ہوا کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی مصالحت ہی اللہ اور اس کے رسول کو پسند تھی نہ کہ جنگ۔

(الفتاویٰ: جلد 28 صفحہ 300)