چوالیسواں مسئلہ طینت
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہمسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ انسانوں کی سزا و جزا نیک و بد اعمال پر موقوف ہے۔
فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗ
(سورۃ الزلزال: آیت 7)
وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ
(سورۃ الزلزال: آیت 8)
ترجمہ: یعنی جو شخص ذرہ بھر نیکی کرے گا اس کو دیکھ لے گا اور جو شخص ذرہ بھر بدی کرے گا اس کو بھی دیکھ لے گا۔
قرآن میں دوسری جگہ ہے:
وَاَنۡ لَّيۡسَ لِلۡاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى
(سورۃ النجم: آیت 39)
وَاَنَّ سَعۡيَهٗ سَوۡفَ يُرٰى
(سورۃ النجم: آیت 40)
یعنی قرآنِ کریم میں ہے:
اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ الخ۔
(سورۃ الحجرات: آیت 13)
ترجمہ: یعنی خدا کے نزدیک فضیلت اسی شخص کی ہے جو متقی ہے۔
لیکن شیعوں کا عجیب و غریب عقیدہ ہے کہ ان کی پیدائش اس مٹی سے ہے جس سے ائمہ کرام اور انبیاء علیہم السلام پیدا ہوئے ہیں اس لیے وہ قطعی جنتی ہیں خواہ کیسے ہی بداعمال کیوں نہ ہوں اور کافروں اور سنیوں کی پیدائش دوزخ کی آگ سے ہے اس لیے وہ یقیناً دوزخی ہیں خواہ کتنے ہی نیک عمل کرتے رہیں۔
اصولِ کافی: صفحہ، 357 میں باب طینۃ المومنین والکافر میں اس کے متعلق بہت سی احادیث درج ہیں ہم ان کا صرف محصل بیان کرتے ہیں علی بن حسین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے ابدان و قلوب علیین سے پیدا کیے ہیں اور مؤمنین یعنی شیعہ کے قلوب بھی اسی طینت سے پیدا کیے گئے ہیں اور کفار کے ابدان و قلوب سے سجین سے پیدا کیے ہیں دوسری حدیث میں سیدنا جعفر صادقؒ فرماتے ہیں کہ مؤمن کی طینت جنت سے ہے اور کافر کی طینت دوزخ سے ہے۔
طينت الناصب من حماء مسنون۔
ترجمہ: ناصبی یعنی سنی کی طینت سڑے گارے سے ہے
یعنی دوزخ کی آگ سے ہے ایک اور حدیث ہے کہ صالح بن سہیل نے سیدنا جعفر صادقؒ سے پوچھا کہ میں قربان جاؤں خدا نے مؤمن کو کس طینت سے پیدا کیا ہے آپ نے فرمایا کہ انبیاء کی مٹی سے پس یہ کبھی پلید نہیں ہوتا (ظاہر ہے کہ شیعہ کی اصطلاح میں مؤمن سے مراد شیعہ ہی ہوتا ہے) جب ان احادیث سے ثابت ہوا کہ شیعوں کی مٹی انبیاء کی طرح جنت سے ہے اور اس وجہ سے ان کا نجس ہونا بالکل محال ہے تو اس کا صاف نتیجہ یہی ہے کہ شیعہ ہر چند بد اعمالیہ کرتے رہے جنت ان کی میراث ہے۔
کتاب مذکور کے صفحہ 359 پر ایک اور حدیث درج ہے کہ ایک شخص نے سیدنا جعفر صادقؒ سے کہا کہ حضور میں آپ کا غلام عبداللہ بن کیسان ہوں آپ نے فرمایا میں آپ کے نسب سے تو واقف ہوں لیکن تجھے نہیں پہچانتا اس نے کہا میری پیدائش تو پہاڑ میں ہوئی ہے لیکن پرورش ملک فارس میں ہوئی ہے میں اکثر تجار لوگوں سے ملتا رہا ہوں بعض ایسے شخص ملا کرتے ہیں کہ ان کے اخلاق و عادات اچھے ہوتے ہیں اور وہ بڑے امین ہوتے ہیں جب ان کی تفتیش کی جاتی ہے تو ان کے دلوں میں آپ سے عداوت ہوتی ہے اور بعض اشخاص ایسے ہوتے ہیں جو بڑے بد اخلاق اور خائن ہوتے ہیں لیکن وہ آپ کے محب ہوتے ہیں آپ نے جواب میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مٹی جنت سے لی اور دوسری دوزخ سے پھر ان دونوں مٹیوں کو آپس میں ملا دیا تو ہمارے دشمنوں میں جو اچھے اخلاق اور کثرت امانت پائی جاتی ہے وہ اس جنت کی مٹی کی ملاوٹ کی وجہ سے ہوتی ہے اور ہمارے شیعوں میں جو بدی اخلاقی اور بددیانتی پائی جاتی ہے وہ دوزخ کی مٹی کی ملاوٹ کی وجہ سے ہوتی ہے لیکن انجام کار پہلے لوگوں کا حشر دوزخ میں اور دوسرے لوگوں کا حشر جنت میں ہوتا ہے۔
تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کو جنت اور دوزخ کہ دو مٹیوں کو ملا دینے کی کیا ضرورت پیش آئی دھوکے سے ایسا ہو گیا ہے یا جان بوجھ کر ایسا کیا گیا ہے ایسا تو کوئی معمولی کاریگر بھی نہیں کر سکتا کہ اچھی اور بڑی جنس کو باہم ملا کر اپنی مصنوعات کی قدر و منزلت گنوا دے۔ یا للعجب۔
نوٹ: ہم نے احادیث مندرجہ اصولِ کافی کا ملخص لکھا ہے جو شخص پوری حدیث دیکھنا چاہے کتاب مذکور سے دیکھ لے جلاءُ العیون اردو جلد اول صفحہ 184 میں ہے بسند معتبر سیدنا محمد باقر صادقؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے علیؓ ابنِ ابی طالب سے کہا یا علیؓ چاہتے ہو تم کو میں بشارت دوں جناب امین نے کہا ہاں یا رسول اللہﷺ پس حضورﷺ نے فرمایا ہم اور تم ایک مٹی سے مخلوق ہوئے اور ہماری زیادتی طینت سے ہمارے شیعہ پیدا ہوئے جب قیامت ہوگی لوگوں کو ان کی ماں کے نام سے پکاریں گے مگر تمہارے شیعوں کو ان کے باپ کے نام سے طلب کریں گے اس لیے کہ حلال (اور فروعِ کافی کتاب الروضہ: صفحہ، 135 میں لکھا ہے عن ابی جعفر عليه السلام قال قلت له ان بعد اصحابنا يفترون ويفتانون من خالفهم فقال انكم عنهم قال واللہ يا ابا حمزه ان الناس كلهم اولاد بغايا ما خلا شيعتنا۔
یعنی ابو حمزہ نے سیدنا جعفر صادقؒ سے کہا کہ یا حضرت بعض آدمی ہمارے مخالفین پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ان پر حرامی ہونے کی تہمت لگاتے ہیں اس پر سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا کہ ان کو نہ چھیڑنا اچھا ہے اس کے بعد فرمایا کہ اے ابو حمزہ خدا کی قسم ہمارے شیعوں کے سواء تمام لوگ حرامی ہیں! العیاذ باللہ
علمائے شیعہ کا یہ استدلال اگر خدانخواستہ صحیح ہو تو پھر جو سنی المذہب شیعہ ہو جائے تو اس کے حلال زیادہ اور جنتی ہونے کی کیا صورت ہوگی؟ (احقر مظہر حسین غفر لہ) زادہ ہیں۔
جائے غور ہے کہ حسبِ اعتقاد شیعہ یہ تمام بھنگی، چرسی، شرابی، ڈوم، میراثی، قلندر، کنجر جو اکثر شیعہ کہلاتے ہیں بمنطوقِ احادیث مندرجہ اصولِ کافی چونکہ ان کی پیدائش طینت انبیاء کی زیادتی سے ہے اس لیے قطعی جنتی ہیں اور حسبِ روایت مندرجہ جلاءُ العیون یہی لوگ حلال زیادہ ہیں اور تمام بزرگان دین اہلِ سنت والجماعت و اولیاء کرام و مشائخ عظام و غوث و کتب و ابدال معاذ اللہ دوزخی اور غیر صحیح النسب ہیں ایسے اقوال یہودی بے ایمان عبداللہ بن سباء نے خود گھڑ کر ائمہ پاک سے منسوب کر دیے ہیں تاکہ شیعہ لوگ اس بات سے غرہ ہو کر جنت ان کے لیے واجب ہو گئی ہے تمام بد اعمالی شراب نوشی، زنا کاری، چوری، رہزنی کرتے رہا کریں ان کی کوئی پرسش نہ ہوگی شیعو غور کرو اور پھر غور کرو۔