شیعہ کے مختلف فرقے
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہچونکہ بانی مذہب شیعہ عبداللہ بن سباء کی اصل غرض تخریبِ اسلام اور مسلمانوں میں نا اتفاقی پیدا کرنی تھی اُس نے اپنے زمانہ جلا وطنی میں مختلف بلاد میں مختلف قسم کی تعلیم دی بعض کو یہ کہا کہ علی خدا ہیں انسان کی شکل میں دنیا میں آئے بعض کو کہا کہ وہ نبی ہیں وحی ان کے پاس آنی تھی لیکن غلطی سے جبرائیل محمد کے پاس لے گیا تھا۔ بعض کو کہا کہ وصی نبی ہیں اور خلیفہ بلا فصل اس تعلیم کا نتیجہ یہ ہوا کہ شیعہ کے بے تعداد فرقے پیدا ہوگئے ان کی تفصیل تحفہ اثناءِ عشریہ و دیگر کتب مبسوط میں موجود ہے لیکن ہم نے چونکہ اس قدر بیان کرنا ہے جس کا ثبوت کتبِ شیعہ میں موجود ہو اس لیے ہم کل فرقہ جات کی تشریح کرنا ضروری نہیں سمجھتے کتبِ شیعہ میں تصریح ہے کہ ایسے بھی شیعہ ہیں کہ جو جناب امیرؓ کی الوہیت کے قائل ہیں بعض ان کی نبوت کے معتقد ہیں اور وہ زیادہ ہیں جو ان کو نبی اور خلیفہ بلافصل مانتے ہوئے ان کی تعریف میں غلو کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے بھی ان کو زیادہ فضیلت دیتے ہیں بلکہ خدائی صفات سے اُن کو متصف گردانتے ہیں۔
حق الیقین اُردو صفحہ 370 میں ہے کہ ان بزرگوں کے غرائب احوال و محاسن صفات اور حالات غیب کی خبر دینے اور تمام معجزوں کے سبب جو کہ ان کے سبب مشاہدہ کرتے تھے۔ غالیوں میں سے بعضوں کو ان کی پیغمبری کا اور بعضوں کو ان کی خدائی کا اعتقاد ہے۔
اس کتاب کے صفحہ 16 میں ہے بعض غالیوں کا یہ اعتقاد ہے کہ حق تعالیٰ نے ائمہ ہدی کو پیدا کر کے خلقت عالم کو ان بزرگواروں پر چھوڑ دیا پھر اس کتاب کے صفحہ 19 میں لکھا ہے بعض غالیانِ شیعہ کہتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے رسول اللہﷺ اور ائمہ ہدی میں حلول کیا ہے یا ان کے ساتھ متحد ہوا ہے یا ان کی صورت میں ظاہر ہوا ہے نیز حق الیقین صفحہ 78 میں ہے بعض غالیوں کا یہ قول ہے کہ سیدنا امیر علیؓ رسول اللہﷺ سے افضل تھے۔
حق الیقین کی ان روایات سے ثابت ہوا کہ شیعہ میں ایسا فرقہ بھی موجود ہے جو سیدنا علیؓ کو پیغمبر بلکہ خدا مانتے ہیں ایک فرقہ کا اعتقاد ہے کہ امیرؓ بلکہ تمام اہلِ بیتؓ مخلوقِ خدا کے جملہ امور کے کفیل ہیں رزق دینا، نفع ونقصان پہنچانا، موت و حیات سب ان کے اختیار میں ہے۔ خدا نے صرف ان کو پیدا کیا ہے پھر معطل ہوگیا اور خدائی کے کل اختیارات ائمہ اہلِ بیتؓ کومل گئے ایک فرقہ اس امر کا معتقد ہے کہ خدا نے رسول اللہﷺ اور حضرت علیؓ اور ائمہ اہلِ بیتؓ میں حلول کیا ہے اور ان سے متحد ہو گیا ہے یا ان کی شکل میں ظاہر ہوا ہے ایک فرقہ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جناب امیرؓ رسول اللہﷺ سے افضل ہیں حق الیقین میں تصریح ہے کہ یہ سب شیعانِ علیؓ ہیں اور ان کے اور دیگر ائمہ ہدی کے معجزات اور صفات قدرت اور علم غیب کے مشاہدات کی وجہ سے ان کی الوہیت کے قائل ہوئے ہیں۔ بقول شخصے۔ ع
اے باد صبا ایں ہمہ آورده است
یہ ساری مہربانی یہودی، یمنی صنعانی (ابنِ سباء) کی ہے جس نے اس نئے نرالے مذہب کی ایجاد کر کے اپنی تاثیر صحبت اور تعلیم ظاہری اور باطنی سے اپنے متبعین (شیعہ) میں یہ سپرٹ پیدا کی۔
اور سچ پوچھو تو بعض نہیں بلکہ تمام شیعہ جناب امیرؓ اور ائمہ اہلِ بیتؓ کو اگر خدا نہیں تو شریکِ خدا ضرور مانتے ہیں کیونکہ کافی کلینی میں ایسی احادیث موجود ہیں کہ ائمہ ہدی علم ما كان وما يكون رکھتے ہیں مرنا جینا ان کے اختیار میں ہے چاہے مریں چاہے زندہ رہیں آسمان وزمین وما فیہما کا ان کو کئی علم ہے حق الیقین صفحہ 436 میں جناب امیرؓ کا قول درج ہے کہ بادل اور برق و رعد نور و ظلمت ہوا اور پہاڑ, اور دریا، سورج، چاند سب کچھ میرے تابع حکم ہیں اب بتائیے خدا کی کون سی صفت باقی رہ جاتی ہے غرض وہ تمام خیالات جو تمام فرقوں میں پائے جاتے ہیں، فرقہ امامیہ، اثناء عشریہ کی کتبِ حدیث و تفسیر میں اس کی تصدیق موجود ہے۔
ہمارے ملک کے شیعہ کے اعتقادات غالی شیعوں سے بھی بڑھے ہوئے ہیں اور اٹھتے بیٹھے، چلتے پھرتے، یا اللہ کے بجائے یا علی کا ورد پکارتے ہیں السلام علیکم کی بجائے انہوں نے مسلمانوں سے الگ جو سلام بنا لیا ہے یا علی مدد اس سے ان کے عقیدہ کی کہ وہ حضرت علیؓ کو خدا سے کم نہیں سمجھتے پوری تصدیق ہوتی ہے اور آپ کی نبوت یا افضل النبی ہونے کا یقین تو رگ و ریشہ میں سمایا ہوا ہے چنانچہ اشعار ذیل ان کے اندرونی صحیح خیالات کی ترجمانی کرتے ہیں۔
1: غلط الامين فجارها عن حيدر۔
ترجمہ: یعنی جبرائیل امین نے غلطی کر کے نبوت علیؓ کو نہ دی۔
2: جبریل کہ آمد ز بر خالق بے چوں در پیش محمد شد و مقصود علی بود۔
جبریل جو درگاہِ الٰہی سے آیا اور محمد کے پاس چلا گیا دراصل مقصود تو علی ہی تھے۔ چونکہ شیعہ کے تمام فرقے اسی یونیورسٹی کے درس یافتہ ہیں جو عبداللہ بن سباء نے قائم کی اس لیے معتقدات میں ان کا متحد ہونا قدرتی اور لازمی بات ہے غرض یہ سب کچھ مہربانی اسی استاد ازل (ابنِ سباء) کی ہے۔
ہر خس و خار کہ در ره نمودی دارد
آخر اے باد صبا ایں ہمہ آورده تست
خدا ہمیں ایسے مشرکانہ خیالات سے بچائے اور تمام مسلمانوں کو صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین