Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شیعہ کا ادعائے قدامت

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

شیعہ کہتے ہیں ہمارا وجود قدیم سے ہے تمام پیغمبر شیعہ تھے آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ علیہم السلام سب شیعہ تھے رسول اللہﷺ بھی شیعہ تھے۔ ع

بریں فہم و ادراک باید گریست

ان کو اتنی سمجھ بھی نہیں کہ شیعہ خارجی کا وجود تو اس وقت سے ہے جب بقول اُن کے غصب خلافت ہوا جو لوگ تین یاروں کو نہیں مانتے اور ایک حضرت علیؓ کے نام کو مانتے ہیں وہ شیعہ اور رافضی کہلاتے ہیں پھر پہلے پیغمبروں نوح، ابراہیم ، موسیٰ علیہم السلام کا شیعہ ہونا چہ معنیٰ دارد؟ جب نہ سیدنا علیؓ تھے نہ باقی یارانِ نبی، اور رسول اللہﷺ اگر شیعہ ہوتے تو تین یاروں کو ان کے دربار میں جگہ ہی کا ہے کو ملتی؟ وہ رسول کے شام و سحر کے رفیق، سفر و حضر کے ہمدم کیوں ہوتے حضور ان کو اپنی بیٹیاں نہ دیتے نہ ان کی بیٹیاں لیتے یہ تو فیصلہ ہو گیا کہ آپ شیعہ نہ تھے ورنہ یہ تین بزرگوار یارانِ نبی نہ کہلاتے ہاں سیدنا علیؓ بھی شیعہ نہ تھے اور نہ ان کے مشیر کار ہر امر میں ان کے معین و مددگار نہ رہتے ان کے پیچھے نمازیں نہ پڑھتے غنائم سے حصہ نہ لیتے اپنے فرزندوں کے نام ان کے ناموں پر نہ رکھتے اپنی بیٹی امِ کلثوم خلیفہ دوم حضرت عمرؓ کو نکاح کر کے نہ دیتے ان کی مدح و توصیف میں رطب اللسان نہ رہتے غرض دربارِ مرتضوی ہی میں بھی دربارِ مصطفویﷺ کی طرح شیعیت کو جگہ نہ ملی بلکہ آپ مجمع عام میں برسرِ منبر اصحابِ رسولﷺ کی تعریف کر کے شیعیت کی مذمت فرماتے رہے ہر چند تلاش کرو شیعیت کا سراغ ملتا ہے تو اسی ابنِ سباء سے جس کو حضرت امیرؓ نے دھتکار کر مدینہ رسول سے نکال دیا تھا اور وہ ملک بہ ملک مارا مارا پھرتا رہا۔ 

اب ہم قرآنِ پاک کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ قرآنِ کریم میں شیعیت کی نسبت کیا فیصلہ ہے شیعہ بڑا ناز کیا کرتے ہیں کہ ہمارا نام قرآنِ مجید میں بھی ہے لیکن سنیوں کا نام و نشان قرآن میں نہیں ملتا یہ معلوم نہیں کہ قرآن میں جہاں کہیں لفظ شیعہ لکھا ہے اس سے مراد کفار اشرار ہیں اور بس آؤ قرآنِ پاک کی ورق گردانی کریں پھر شیعہ تفاسیر سے اس کا معنیٰ تلاش کریں شاید شیعہ حضرات میں سے کسی کو سمجھ آجائے کہ یہ منحوس نام قرآنِ پاک میں نیکوں کی بجائے بدوں کے حق میں استعمال ہوا ہے۔

لفظ شیعہ کی مذمت قرآن میں

1: اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِى الۡاَرۡضِ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَـعًا الخ۔

(سورۃ القصص: آیت 4)

 ترجمہ: یعنی فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اہلِ ملک کو شیعہ بنا دیا۔ ( شیعو مبارک)

2: اِنَّ الَّذِيۡنَ فَرَّقُوۡا دِيۡنَهُمۡ وَكَانُوۡا شِيَـعًا لَّسۡتَ مِنۡهُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ‌ الخ۔

(سورۃ الانعام: آیت 159)

ترجمہ: یعنی جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور ہوگئے شیعہ شیعہ اے میرے حبیب تیرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

شیعہ کی مستند تفسیر عمدۃ البیان: جلد، 1 صفحہ، 379 میں اس کا خلاصہ یوں لکھا ہے کہ اس جگہ شیعہ کا لفظ یہود اور نصاریٰ وغیرہ پر استعمال ہوا ہے۔

قُلۡ هُوَ الۡقَادِرُ عَلٰٓى اَنۡ يَّبۡعَثَ عَلَيۡكُمۡ عَذَابًا مِّنۡ فَوۡقِكُمۡ اَوۡ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِكُمۡ اَوۡ يَلۡبِسَكُمۡ شِيَـعًا الخ۔

(سورۃ الانعام: آیت 65)

 ترجمہ: یعنی اللہ اس بات پر قادر ہے کہ بھیجے عذاب تم پر اوپر سے اور تمہارے پاؤں کے نیچے سے یا تم کو شیعہ شیعہ بنا کر آپس میں لڑائے یعنی ایسے عذاب میں اللہ تم کو خراب کرے۔ عمدة البيان: جلد، 1 صفحہ، 353 میں ہے کہ یہاں شیعہ کا لفظ شریروں، فتنہ بازوں اور فسادیوں پر استعمال ہوا ہے۔

4: وَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ 

(سورۃ الانعام: آیت 14)

اِنَّ الَّذِيۡنَ فَرَّقُوۡا دِيۡنَهُمۡ وَكَانُوۡا شِيَـعًا الخ۔

(سورۃ الانعام آیت 159)

ترجمہ: یعنی اے لوگو! نہ ہو تم ان شیعوں سے کہ جنہوں نے فرقہ فرقہ ہو کر اپنے دین کو بر باد کر دیا۔

عمدة البیان: جلد، 2 صفحہ، 13 میں لکھا ہے کہ یہاں شیعہ شیعہ مشرکوں، بت پرستوں اور مخالفان دین یہود و نصارٰی کو کہا گیا ہے۔

وَلَـقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِىۡ شِيَعِ الۡاَوَّلِيۡنَ‏ 

(سورۃ الحجر: آیت 10)

وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ‏ 

(سورۃ الحجر: آیت 11)

ترجمہ: یعنی ہم بھیج چکے ہیں اے رسول تجھ سے پہلے اگلے شیعوں میں نہیں آیا ان کے پاس کوئی رسول مگر کرتے رہے اُن سے ٹھٹھے۔

عمدة البيان: جلد، 3 صفحہ 174 میں ہے کہ اس آیت میں شیعہ ان لوگوں کو کہا گیا ہے جو خدا کے پیغمبروں کو ٹھٹھہ مخول کرنے والے کافر تھے۔

6: كَمَا فُعِلَ بِاَشۡيَاعِهِمۡ مِّنۡ قَبۡلُ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا فِىۡ شَكٍّ مُّرِيۡبٍ 

(سورۃ سبا آیت 54)

ترجمہ: یعنی ایسا کیا گیا اگلے شیعوں کے ساتھ وہ شرک و بدگمانی میں پڑے ہوئے تھے عمدة البيان: جلد، 3 صفحہ 93 میں ہے کہ یہاں شیعہ ان کا فروں کو کہا گیا ہے جو خانہ کعبہ کو گرانے آئے تھے اور جن پر عذاب نازل ہوا۔

7: وَلَقَدۡ اَهۡلَـكۡنَاۤ اَشۡيَاعَكُمۡ الخ۔

(سورۃ القمر: آیت 51)

  ترجمہ: یعنی ہم نے ہلاک کیا ہے اگلے شیعوں کو۔ اشیاع جمع شیعہ کی ہے۔

عمدۃ البیان جلد، 33 صفحہ، 33 میں ہے یہاں شیعہ اگلے کافروں کو کہا گیا ہے۔

8: فَوَرَبِّكَ لَـنَحۡشُرَنَّهُمۡ وَالشَّيٰطِيۡنَ ثُمَّ لَــنُحۡضِرَنَّهُمۡ حَوۡلَ جَهَـنَّمَ جِثِيًّا‌ 

(سورۃ مریم آیت 68)

ترجمہ: یعنی قسم ہے تیرے رب کی کہ قیامت کو ہم ضرور حشر کریں گے ان کو شیطانوں کے ساتھ پھر حاضر کریں ان کو اردگرد دوزخ کے جب دو زانوؤں کے بل چل کر آئیں گے۔

9: ثُمَّ لَـنَنۡزِعَنَّ مِنۡ كُلِّ شِيۡعَةٍ اَيُّهُمۡ اَشَدُّ عَلَى الرَّحۡمٰنِ عِتِيًّا‌ 

(سورۃ مریم آیت 69)

ترجمہ: پھر ہم نکالیں گے دوزخ میں ڈالنے کو پہلے ان شیعوں سے جو ہوگا ان سے سخت خدا سے سرکش۔

یعنی کفار و شیاطین سے جو بڑا کافرو نا فرمان شیعہ ہوگا پہلے ہم اس کو دوزخ میں ڈالیں گے۔

عمدة البيان: جلد، 2 صفحہ 616 میں ہے فرمایا اللہ عزوجل نے کہ ان شیعوں میں سے جو بڑا سرکش ہو گیا پہلے اس کو دوزخ میں ڈالیں گے۔

ان تمام آیات میں لفظ شیعہ کا اطلاق کفار، مشرکین، فتنہ باز، فسادیوں، یہود و نصارٰی، سرکش شیطان صفت گروہ پر ہوا ہے پھر شیعہ خود ہی غور کریں کہ کیا وہ اس لفظ کا مصداق بننا چاہتے ہیں؟ اگر لفظ شیعہ پر ناز ہے تو لیجیے ان آیات کا مصداق بننا گوارا کیجیے آخر قرآن ہی کے الفاظ تو ہیں بقول شخصے:

کعبے سے ان بتوں کو نسبت ہے دور کی

 گو واں نہیں، وہاں سے نکالے ہوئے تو ہیں!

ہاں ان دو آیات میں لفظ شیعہ کا اطلاق بظاہر اچھے معنیٰ میں نظر آتا ہے جس سے شیعہ اپنی قدامت پر استدلال بھی کیا کرتے ہیں۔

1: هٰذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ وَهٰذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ‌ الخ۔

(سورۃ القصص: آیت 15)

یہ اس گروہ سے ہے اور یہ اس کے دشمنوں سے شیعہ کا معنیٰ دوست و رفیق ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے رفقاء کو بھی شیعہ کہا جاتا تھا لیکن محض شیعہ کی نافہمی اور عدم تدبر فی القرآن کا نتیجہ ہے وہ پہلا شخص گو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قبیلے بنی اسرائیل میں سے تھا مگر منافق و مشرک تھا اور اسی گروہ میں سے تھا جو اس سے پہلے گوسالہ پرستی میں مبتلا ہوئے تھے بلکہ مفسرین فرماتے ہیں کہ اس کا نام سامری تھا جو گوسالہ پرستوں کا استاد تھا یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پہلے دن بھی اسی شیعہ کو لفظ مجرمین میں شمار کیا پھر دوسرے دن تو اس کی نسبت صاف صاف (قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَىَّ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ‏ 

(سورۃ القصص: آیت 17)

ترجمہ: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا اے رب جیسا تو نے مجھ پر فضل کیا پھر میں کبھی گنہگاروں کا مددگار نہ ہوں گا یعنی ایک مفسد بدکار کی مدد کر کے ایک جان کو ضائع کیا ہے پھر ایسا کبھی نہ کروں گا۔

2: فَاَصۡبَحَ فِى الۡمَدِيۡنَةِ خَآئِفًا يَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِى اسۡتَـنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ‌ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰٓى اِنَّكَ لَـغَوِىٌّ مُّبِيۡنٌ 

(سورۃ القصص: آیت 18)

صبح کو حضرت موسیٰ علیہ السلام اٹھا اس شہر میں گھبرایا ہوا راہ دیکھتا اچانک وہی شخص نظر آیا جس نے کل مدد مانگی تھی اس سے فریاد کرتا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا بے شک تو صریح گمراہ ہے یہ وہی شیعہ تھا جس نے پہلے روز اشتعال دلا کر ایک آدمی مروا ڈالا دوسرے روز پھر اسی طرح چلاتا ہوا آپ کو اکسانے کے لیے آیا تو آپ نے اسے کہہ دیا ہے جاؤ تم ایک مفسد صریح گمراہ آدمی ہو۔ 12 مفسد بدخواہ بظاہر گمراہ ہے) 

پھر یہاں بھی لفظ شیعہ کا اطلاق اچھے شخص پر نہیں بلکہ برے شخص پر ہوا ہے یہ شخص حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دوست نما دشمن منافق تھا جس کی وجہ سے آپ کو شہر چھوڑ کر مدین کی طرف بھاگ جانا پڑا بڑی صعوبات سفر برداشت کرتے ہوئے ایک نیک مرد شعیب کے ہاتھ جا کر پناہ لی کئی سال اپنے وطن سے جلا وطن رہے غرض اس آیت سے بھی شیعہ کا مدعا پورا نہیں ہوتا بلکہ ان کی تردید ہوتی ہے۔

12: وَاِنَّ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ لَاِبۡرٰهِيۡمَ‌ۘ 

(سورۃ الصافات: آیت 83)

اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ 

(سورۃ الصافات: آیت 84)

اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَاذَا تَعۡبُدُوۡنَ‌

(سورۃ الصافات: آیت 85)

ترجمہ: یعنی اس کے گروہ میں تھا ابراہیم جبکہ آیا رب اپنے کی طرف سے سلامت دل لے کر۔

شیعہ کہتے ہیں یہاں شیعہ کا لفظ ابراہیم علیہ السلام پیغمبر پر اطلاق ہوا ہے اور ابراہیم شیعہ تھے لیکن یہ بھی ان کی خوش فہمی اور قرآن دانی کا نتیجہ ہے معنیٰ آیت کا یہ ہے کہ ابراہیم کا تولد قوم شیعہ کفار میں ہوا جس سے نکل کر آپ اپنے رب کی طرف صاف صاف دل ہو کر آئے اسے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ خود شیعہ تھے بلکہ مطلب یہ ہے کہ قومِ شیعہ یعنی اس قوم سے نکل کر آپ ہدایت یافتہ ہو کر اپنے رب کے پاس آگئے جو نوح علیہ السلام کے مخالف گمراہ قوم چلی آتی تھی اور نوح علیہ السلام کے وعظ و نصیحت سے ان کو کچھ اثر نہ ہوا تھا یہ اس آیت کی تصدیق ہے جس کا مضمون ہے کہ اے رسول تجھ سے پہلے اگلے شیعوں میں بھی ہم رسول بھیج چکے ہیں جو پیغمبروں کو تکلیف پہنچاتے تھے یہ دونوں آیات بھی پہلی آیات کی طرح شیعوں کے مخالف ہیں ہاں ان کی سمجھ کا فرق ہے۔

ہرگز نہ ہوئے مغز سخن سے آگاہ 

لا حول ولا قوۃ الا باللہ! 

شیعہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سنیوں کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں اس لیے ہم لفظ سنت کو قرآن میں تلاش کرتے ہیں۔

قرآن میں لفظ سنت کی تعریف

1: سُنَّةَ اللّٰهِ فِى الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ وَكَانَ اَمۡرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقۡدُوۡرَا 

(سورۃ الاحزاب: آیت 38)

عمدة البیان: جلد، 3 صفحہ، 64 میں ہے کہ سنت طریقہ اللہ کا ہے جو چلا آیا ہے اگلے پیغمبروں میں

2: يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُبَيِّنَ لَـكُمۡ وَيَهۡدِيَكُمۡ سُنَنَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ وَيَتُوۡبَ عَلَيۡكُمۡ‌ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 26)

عمدة البیان: جلد، 1 صفحہ، 232 میں ہے کہ ہدایت کرے اللہ تم کو طریقے ان لوگوں کے جو پہلے تم سے مثل ابراہیم اور اسماعیل گزرے۔

3: سُنَّةَ مَنۡ قَدۡ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ مِنۡ رُّسُلِنَا‌ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحۡوِيۡلًا 

(سورۃ الاسراء: آیت 77)

 سنت طریقہ ان رسولوں کا ہے جو پہلے بھیجے ہم نے اور نہ پائے گا تو میری سنت دستور میں تفاوت۔

یعنی سب رسولوں میں اسی طرح میری سنت کا طریقہ چلا آیا ہے عمدۃ البیان جلد 2 صفحہ 285 میں ہے طریقہ رکھنا ان رسولوں کا کہ تحقیق بھیجا ہم نے ان کو تجھ سے پہلے پیغمبروں سے کہ جو کوئی پیغمبروں کو جھٹلا دے تو ہم ہلاک کر دیتے ہیں اس کو اور نہ پائے گا تو اے محمدﷺ واسطے اس سنت اور طریقے ہمارے کے پھر جانا۔

4: سُنَّةَ اللّٰهِ فِى الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبۡدِيۡلًا 

(سورۃ الاحزاب: آیت 62)

عمدہ البیان: جلد، 3 صفحہ، 272 میں ہے یعنی سنت طریقہ اللہ کا ہے اس کو کوئی تغیر کرنے والا نہیں ہے۔

5: وَقَدۡ خَلَتۡ سُنَّةُ الۡاَوَّلِيۡنَ‏ 

(سورۃ الحجر آیت 13)

ترجمہ: گزر چکا پہلے لوگوں کا طریقہ۔

6: اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ سُنَّةُ الۡاَوَّلِيۡنَ الخ۔

(سورۃ الکہف: آیت 55)

عمدہ البیان: جلد، 2 صفحہ، 288 میں ہے یعنی پہنچا ان کو طریقہ خدا کا ہلاک کرنے والا اگلوں کو۔

7: سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِىۡ قَدۡ خَلَتۡ فِىۡ عِبَادِهٖ‌ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الۡكٰفِرُوۡنَ 

(سورۃ غافر: آیت 85)

 عمدہ البیان: جلد، 3 صفحہ، 119 میں ہے سنت طریقہ خدا کا ہے اس کے اگلے بندوں میں چلا آیا ہے۔

8: قُلْ لِّـلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ يَّنۡتَهُوۡا يُغۡفَرۡ لَهُمۡ مَّا قَدۡ سَلَفَ وَاِنۡ يَّعُوۡدُوۡا فَقَدۡ مَضَتۡ سُنَّتُ الۡاَوَّلِيۡنَ 

(سورۃ الانفال آیت 38)

ترجمہ: کفار کو کہہ دیجیے اگر وہ باز آ جائیں ان کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے اگر انہوں نے پھر وہی گناہ کیا تو پہلوں کا طریقہ گزر چکا ہے یعنی خدا ان سے وہی سلوک کرے گا جو پہلے سے اس کا دستور چلا آتا ہے۔

9: فَهَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا سُنَّتَ الۡاَوَّلِيۡنَ فَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَبۡدِيۡلًا وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَحۡوِيۡلًا 

(سورۃ فاطر: آیت 43)

 ترجمہ: یعنی وہ نہیں دیکھیں گے مگر پہلوں کے طریقے کو اور خدا کے طریقے میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔

ان تمام آیاتِ قرآن میں لفظ سنت کی خدا یا رسول کی طرف اضافت ہے اور پھر سنی اور اہلِ سنت وہ لوگ ہیں جو سنتُ الرسول کے پیروکار ہیں یہی رسولی گروہ متبع السنت ہے

اسی کی تاکید رسول اللہﷺ اور ائمہ ہدی کرتے رہے کہ سنتِ رسول کو کبھی نہیں چھوڑنا لیکن آج مدعیان اسلام سے ایک ایسا گروہ پیدا ہو گیا ہے جو جہالت سے لفظ سنت اور اہلِ سنت پر تمسخر کرتے ہیں۔

ہم اس امر کا ثبوت کتبِ شیعہ سے دینا چاہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ اور ائمہ اہلِ بیتؓ سنت الرسولﷺ کے اتباع کی تاکید فرماتے ہیں۔