سیدنا حسن و معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین ایلچیوں کا آنا جانا، اور دونوں کے مابین صلح ہو جانا، امام بخاری رحمۃاللہ نے اپنی صحیح میں امت مسلمہ کی تاریخ کے ان مشکل ترین لمحات کو ذکر کیا ہے جب شامی اور عراقی فوجیں آمنے سامنے ہوئی تھیں۔ چنانچہ حسن بصری رحمۃاللہ کے طریق سے یہ روایت نقل کی ہے، کہتے ہیں: اللہ کی قسم پہاڑوں کے برابر فوجی دستوں کو لے کر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا سامنا کیا، اس پر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایسے فوجی دستوں کو دیکھ رہا ہوں جو اپنے مدِ مقابل کا کام تمام کر کے ہی واپس جائیں گے، ان سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ (جو دونوں میں بہتر تھے) نے کہا: اے عمرو! اگر یہ لوگ ان کو اور وہ ان کو قتل کر دیں گے تو لوگوں کے معاملات، ان کی عورتوں اور بچوں کا کون ذمہ دار ہوگا؟ چنانچہ قریش کے دو آدمیوں عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عامر بن کریز رضی اللہ عنہ کو ایلچی بنا کر بھیجتے ہوئے کہا: اس آدمی کے پاس جاؤ، ان کے کچھ مطالبات تسلیم کر لینے اور اپنے کچھ مطالبات منوانے سے متعلق گفتگو کرو، چنانچہ دونوں آپ کے پاس گئے، گفتگو کی، دونوں سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم بنوعبدالمطلب اس انجام سے آگاہ ہو چکے ہیں، امت اپنے خون میں لت پت ہو چکی ہے۔ دونوں نے کہا: وہ (معاویہ رضی اللہ عنہ ) آپ کے کچھ مطالبات تسلیم کر لینا اور اپنے کچھ مطالبات منوانا چاہتے ہیں، آپ نے کہا: میرے لیے اس کی ضمانت کون لے گا؟ دونوں نے کہا:
(فتح الباری: جلد 13 صفحہ 69، 70)
ہم، چنانچہ جس چیز کی ان دونوں سے ضمانت طلب کی وہ اس کی ضمانت کے لیے تیار ہو گئے، اس طرح آپ نے ان (معاویہ رضی اللہ عنہ) کے ساتھ صلح کر لی۔
حسن بصریؒ کہتے ہیں کہ میں نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا تھا، آپ کے بغل میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما تھے، آپﷺ ایک بار لوگوں کی جانب متوجہ ہوتے تھے اور دوسری بار ان کی جانب، اور فرما رہے تھے:
’’میرا یہ لاڈلا سردار ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں کے مابین صلح کرائے۔‘‘
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 7109)
صلح کی اس مذکورہ حدیث سے مستنبط درج ذیل فوائد کو حافظ ابن حجرؒ نے ذکر کیا ہے:
1۔ اس واقعے میں نبوت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
2۔ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے فضائل میں سے ایک فضیلت ہے، سیدنا حسنؓ نے دنیاوی حکومت کو چھوڑ دیا، قلتِ تعداد، کمزوری یا کسی اور سبب سے نہیں بلکہ مسلمانوں کو خونریزی سے بچا کر اللہ کے پاس موجود نعمتوں کے لالچ کے سبب، آپؓ نے دین اور امت مسلمہ دونوں کی مصلحت کی رعایت کی۔
3۔ خوارج جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب نیز سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب کو کافر قرار دیتے تھے اس روایت میں ان کی تردید ہے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں جماعتوں کے بارے میں مسلمان ہونے کی شہادت دی ہے۔
4۔ اس روایت میں لوگوں کے مابین صلح کی فضیلت ہے خصوصاً جب اس کے نتیجے میں مسلمان خونریزی سے بچ جائیں۔
5۔ اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ رعایا پر مہربان اور مسلمانوں پر شفیق تھے، آپ میں حکمرانی کی اعلیٰ صلاحیت تھی اور نتائج و عواقب پر آپ کی گہری نظر تھی۔
6۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ افضل کے ہوتے ہوئے مفضول خلیفہ بن سکتا ہے، اس لیے کہ سیدنا حسن و معاویہ رضی اللہ عنہما دونوں خلیفہ ہوئے، جب کہ سعد بن ابی وقاص اور سعید بن زید رضی اللہ عنہما باحیات تھے جو بدری صحابہ ہیں۔
7۔ اس واقعے میں اس بات کی دلیل ہے کہ خلیفہ مسلمانوں کی بھلائی کی خاطر اپنے آپ کو خلافت سے الگ کر سکتا ہے، مال کے عوض دینی و دنیاوی منصب سے تنازل جائز ہے، اس سلسلے میں مال لیا اور دیا جا سکتا ہے، ان شرطوں کے ساتھ کہ جس کے لیے تنازل کیا جا رہا ہو وہ تنازل کرنے والے سے بہتر ہو، نیز یہ کہ دیا جانے والا مال شخصی ملکیت کا ہو، اور اگر معاملہ عام ولایت یعنی خلافت کا ہو اور دیا جانے والا مال بیت المال کا ہو تو اس کے لیے شرط یہ ہے کہ اس میں مصلحت عام ہو۔
(فتح الباری: جلد 13 صفحہ 71، 72)
جیسا کہ صلح سے متعلق ابن سعدؒ نے درج ذیل روایت نقل کی ہے جو امام بخاریؒ کی روایت سے کم اہم نہیں ہے بلکہ اسی کا تکملہ سمجھی جاتی ہے اور وہ عمرو بن دینار کے طریق سے منقول ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اچھی طرح جانتے تھے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فتنے کو سب سے زیادہ ناپسند کرنے والے تھے، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وفات ہوگئی تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے پاس ایلچی بھیج کر، خفیہ طور پر اپنے اور ان کے درمیان اختلافات کو ختم کر لیا، اور حسن رضی اللہ عنہ سے یہ عہد لینا چاہا کہ اگر ان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آتا ہے اور وہ زندہ رہتے ہیں تو اپنے بعد خلافت کے لیے ان کا نام پیش کریں، اور معاملہ انھی کے حوالے کر دیں گے، جب حسن رضی اللہ عنہ نے اس عہد کی توثیق کر دی تو ابن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اللہ کی قسم میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا، اٹھنے لگا تو میرا کپڑا کھینچتے ہوئے کہا: ارے بھائی بیٹھو، بٹھایا تو میں بیٹھ گیا، کہنے لگے: میں نے ایک رائے قائم کی ہے، میں چاہتا ہوں کہ تم اس میں میری موافقت کرو، میں نے پوچھا: وہ کون سی رائے ہے؟ فرمایا: میری رائے یہ ہے کہ میں مدینہ جاکر وہیں قیام کر لوں اور یہ معاملہ معاویہ( رضی اللہ عنہ) کے لیے چھوڑ دوں، فتنہ بہت طویل ہو چکا، بہت خونریزیاں ہو چکیں، بہت سارے رشتے ناتے ٹوٹ چکے، بہت ساری راہیں مسدود ہوچکیں، سرحدیں بے حفاظت ہوچکیں۔ ابن جعفر رضی اللہ عنہما نے کہا: امت محمدیہ کی جانب سے اللہ تعالیٰ آپؓ کو جزائے خیر دے ہم اس رائے میں آپ کے ساتھ ہیں، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: حسین کو بلاؤ، انھیں بلایا گیا وہ آئے تو ان سے کہا: اے برادرِ محترم! میری ایک رائے ہے، میں چاہتا ہوں کہ تم اس میں میری موافقت کرو، پوچھا: کون سی رائے ہے؟ تو ان سے وہی بات کہی تو ابن جعفر رضی اللہ عنہما سے کہی تھی، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ آپ کو اس بات سے پناہ میں رکھے، کہ آپ علی (جو قبر میں مدفون ہیں) کی تکذیب اور معاویہ کی تصدیق کریں، اس پر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم تم میرے ہر ارادے کی مخالفت کرتے ہو، اللہ کی قسم جی میں آتا ہے کہ تمھیں ایک گھر میں اس وقت تک کے لیے بند کردوں جب تک میں اپنے معاملے کا فیصلہ نہ کر دوں۔ راوی کہتے ہیں: جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سیدنا حسنؓ کے غصہ کو بھانپ گئے تو کہا: آپ والدِ محترم کے بڑے بیٹے ہیں، ہمارا معاملہ آپ کے تابع ہے آپ کی سمجھ میں جو آئے کیجیے۔
(الطبقات تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 330، 331)
امام بخاریؒ اور ابن سعدؒ دونوں کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے رابطہ کرنے اور صلح کی پیشکش کرنے میں پہل کرنے والے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تھے۔ (مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 138)