Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

صلح کی جانب پہل کرنے والے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ تھے یا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ؟

  علی محمد الصلابی

کوئی پوچھنے والا پوچھ سکتا ہے کہ صلح کی جانب پہل کرنے والے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ تھے (جن کے بارے میں صلح سے متعلق حدیثِ رسول وارد ہے، جو قریب تھا کہ پہلے قاتلانہ حملہ میں قتل کر دیے جاتے، اس حملہ کا سبب وہ شرط تھی جو سیدنا حسنؓ نے اہلِ عراق سے بیعت لینے میں لگائی تھی اور اسی سے سیدنا حسنؓ کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مصالحت کی نیت کا پتہ چلتا تھا) یا معاویہ رضی اللہ عنہ تھے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ صلح کی چاہت دونوں کے یہاں تھی، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بیعت کے ابتدائی لمحات ہی سے صلح کے لیے کوشاں تھے اور اس کے لیے منصوبہ بندی کر رہے تھے، پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس صلح کی تکمیل کردی جس کی ابتداء سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کی تھی، اس طرح دونوں میں سے ہر ایک کا عمل دوسرے کے عمل کو مکمل کرنے والا تھا۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 141)

صلح سے متعلق کوشش میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا ہاتھ زیادہ تھا۔