Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ساتواں مرحلہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کی دوسری کوشش

  علی محمد الصلابی

سیدنا حسن و معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین صلح کے مذاکرات کامیاب ہو جانے کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ صلح کو مان لینے کے لیے اپنے لوگوں کو تیار کرنے لگے، ان کے درمیان تقریر کرنے لگے تاکہ انھیں اپنے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین طے ہونے والی باتوں سے آگاہ کریں، تقریر کے دوران ہی میں آپ کے بعض فوجیوں نے قتل کے ارادے سے آپ پر حملہ کر دیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی کی طرح اس بار بھی بچایا۔ بلاذری حسن رضی اللہ عنہ کی تقریر اور قاتلانہ حملے کو ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’مجھے امید ہے کہ میں لوگوں کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہوں، مجھے نہ کسی سے کینہ ہے اور نہ ہی حسد، نہ کسی کے لیے مصیبت چاہتا ہوں اور نہ ہی برائی، اجتماعیت میں جس چیز کو تم ناپسند کرتے ہو وہ تمھارے لیے اس چیز سے بہتر ہے جسے تم اختلاف میں پسند کرتے ہو، میں تمھارے لیے تم سے زیادہ بہتر سوچنے والا ہوں، تم میری مخالفت نہ کرو، اور نہ ہی میری بات کا انکار کرو، اللہ میری اور تمھاری بخشش کرے۔ لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر کہنے لگے: اللہ کی قسم! انھوں نے معاویہ( رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ مصالحت کا پختہ ارادہ کر لیا ہے، وہ کمزور ہیں اور ہمت ہار چکے ہیں، وہ سب آپ کے خیمے میں گھس گئے، آپ کے نیچے سے مصلیٰ کھینچ لیا، آپ کے کپڑے لوٹ لیے، پھر عبدالرحمن بن عبداللہ بن ابوجعال ازدی آپ کی جانب بڑھا، آپ کی چادر کو گردن سے کھینچ لیا آپ صرف تلوار لٹکائے ہوئے دکھائی دینے لگے، جس سے آپ کے ہوش اڑ گئے، پھر آپ کا ہوش کام کرنے لگا، چنانچہ آپ گھوڑے پر سوار ہو کر لوگوں میں گھومنے لگے، بعض آپ کو عاجز اور کمزور کر رہے تھے اور بعض دوسرے انھیں آپ سے دور کر رہے تھے اور ہٹا رہے تھے، بنونضر بن قعین کے قبیلہ بنو اسد بن خزیمہ کا جراح بن سنان نامی شخص جو خوارج میں سے تھا جا کر ’’مظلم ساباط‘‘ نامی مقام پر آپ کی گھات میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگا، جب وہاں سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا تو اس نے آپ کی سواری سے قریب ہو کر نکیل پکڑ لی، پھر اپنے ساتھ موجود پھاوڑا نکال کر کہا: اے حسن تم نے شرک کیا ہے، جیسا کہ اس سے پہلے تمھارے باپ نے شرک کیا ہے، پھر پھاوڑے سے ران پر حملہ کر دیا، قریب تھا کہ زخم ہڈی تک پہنچ جائے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے بھی اس کے چہرے پر مارا، پھر دونوں ایک دوسرے سے الجھ گئے اور زمین پر گر پڑے، عبداللہ بن فضل طائی نے کود کر جراح کے ہاتھ سے پھاوڑا چھین لیا، ظبیان بن عمارہ تمیمی نے اس کی ناک کاٹ لی، اینٹ کا ایک ٹکڑا لے کر اس کے چہرے اور سر کو کچل دیا، جس سے وہ مر گیا، اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو مدائن لے جایا گیا… پھر سعد بن مسعود نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لیے طبیب مہیا کرایا جو آپ کی دیکھ بھال کرتا رہا تاآنکہ سیدنا حسنؓ شفایاب ہو گئے، پھر آپ کو مدائن کے قصر ابیض میں منتقل کر دیا۔‘‘

(الأنساب للبلاذری مخطوطۃ نقلا عن مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 142)

مذکورہ تقریر کے سلسلے میں یہ اعتراض کیا جاتاہے کہ سیدنا حسن و معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین مصالحت سے پہلے ابوحنیفہ دینوری اور بلاذری کے یہاں اس تقریر کا وجود ملتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی فوج کے وصف سے متعلق صحیح بخاری کی روایت سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی فوج میں کافی قوت اور مضبوطی تھی، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مدائن میں جب عراقی فوج شامی فوج کے مدِمقابل تھی تو وہ مادی اور معنوی اعتبار سے بہت بہتر حالت میں تھی، اس کی حالت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی مذکورہ تقریر کے بعد بگڑ گئی تھی، اور اس کے بعد عراقی فوج میں شامی فوج سے مقابلہ کی طاقت باقی نہ رہی، اس لیے حقیقت سے قریب تر بات یہی ہے کہ عراقی اور شامی فوجوں کے باہم ٹکرانے اور سیدنا حسن و معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین مصالحت کے بعد ہی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کے سامنے تقریر کی تھی۔

(الطبقات: السلمی: جلد 1 صفحہ 317)

نیز سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی یہ تقریر اپنے ساتھیوں کو، اپنے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین ہونے والی مصالحت سے باخبر کرنے کی تمہید تھی، درج ذیل روایتیں اس بات کو واضح کرتی ہیں:

ابن سعدؒ نے ریاح بن حارث کے طریق سے نقل کیا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر حمد و ثنا کے بعد فرمایا:

’’ہر آنے والی چیز قریب ہوتی ہے، لوگ اگرچہ ناپسند کریں، اللہ کا فیصلہ نافذ ہو کر رہتا ہے، اللہ کی قسم میں نہیں چاہتا کہ میں امت کی کوئی ایسی ادنیٰ ذمہ داری قبول کروں جس میں خون کا کوئی قطرہ بہایا جائے، مجھے اپنا نفع و نقصان معلوم ہے، اس لیے تم لوگ اپنی راہ لو۔‘‘

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 142)

کوئی اعتراض کرنے والا کہہ سکتا ہے کہ اس روایت کا تعلق تو کوفہ سے معلوم ہوتا ہے مدائن سے نہیں؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ نے اسی روایت کو ریاح بن حارث کے طریق اور صحیح سند سے نقل کیا ہے اس میں الفاظ اس طرح ہیں:

إِنَّ النَّاسَ اجْتَمَعُوْا إِلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ فِی الْمَدَائِنِ

(فضائل الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 773)

’’لوگ مدائن میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس اکٹھا ہوئے۔‘‘

پھر ابن سعدؒ کی بقیہ روایت ذکر کی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ یہ تقریر مدائن میں کی گئی، نیز یہ بھی راجح ہے کہ یہ تقریر سیدنا حسن و معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین مصالحت کے بعد کی گئی تھی، اس لیے کہ اس تقریر سے متعلق انھی باتوں کا ذکر ملتا ہے جنھیں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی اس تقریر سے متعلق ذکر کیا جاتا ہے جسے بلاذری نے نقل کیا ہے، بلکہ یہ تقریر بلاذری کی نقل کردہ تقریر کا ایک جز ہے، جس سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی فوج میں اضطراب پیدا ہٹوگیا تھا۔

فوج میں جو کچھ ہوا اس پر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا مؤقف کیا رہا؟ اس جانب وہ روایت اشارہ کرتی ہے جسے ابن سعدؒ نے ہلال بن خباب کے طریق سے نقل کیا ہے۔ کہتے ہیں: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے قصر مدائن میں اپنے اہم ساتھیوں کو جمع کر کے کہا: اے اہلِ عراق! میں تمھاری تین باتیں نہیں بھول سکتا، میرے والد کو قتل کرنا، میری ران کی جڑ پر حملہ کر کے شدید زخمی کر دینا، میرے مال و اسباب کو لوٹ لینا، بلاشبہ تم لوگوں نے مجھ سے بیعت کی ہے کہ میں جس سے صلح کروں گا اس سے تم صلح کرو گے اور جس سے میں جنگ کروں گا اس سے تم جنگ کرو گے، میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی ہے اس لیے ان کی بات سنو اور مانو۔ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا حسنؓ منبر سے اترے اور قصر میں داخل ہوگئے۔

(الطبقات: السلمی: جلد 1 صفحہ 324) 

1۔ صلح سے متعلق شرطۃ الخمیس کا رویہ:

صلح سے متعلق شرطۃ الخمیس (جو مسکن کی جانب بھیجا جانے والا عراقی مقدمۃ الجیش تھا) کے رویہ کو وہ روایت واضح کرتی ہے جسے امام حاکم نے ابوالغریف کے طریق سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ہم بارہ ہزار فوجیوں پر مشتمل سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے مقدمۃ الجیش میں تھے، اہل شام سے جنگ کے لیے ہماری تلواریں از حد تیز تھیں، ہمارے قائد ابو عمر طہ عمیر بن یزید کندی تھے، جب سیدنا حسن و معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین مصالحت کی خبر ہم تک پہنچی تو ایسا محسوس ہو کہ غیظ و غضب سے ہماری کمر ٹوٹ گئی ہو، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ جب کوفہ پہنچے تو ہم میں سے ابوعامر سفیان بن لیل نے ان کے پاس جا کر کہا:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُذِلَّ الْمُوْمِنِیْنَ۔

’’اے مؤمنوں کو رسوا کرنے والے تم پر سلامتی ہو۔‘‘

یہ سن کر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوعامر! ایسا نہ کہو، میں نے مومنوں کو رسوا نہیں کیا ہے، بلکہ حکمرانی کی خواہش میں میں نے ان کے قتل کو ناپسند کیا ہے۔

(المستدرک: جلد 3 صفحہ 175)

لگتا ہے کہ ابو عمرطہ مقدمۃ الجیش کے کسی ٹکڑے کا امیر تھا، اسی میں ابوالغریف تھا اس لیے کہ یہ ثابت ہے کہ مقدمۃ الجیش کے عمومی قائد قیس بن سعد رضی اللہ عنہما تھے۔

صحیح روایات میں اس کا کہیں ذکر نہیں ملتا، کہ عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مقدمۃ الجیش میں موجود تھے، اس سے اس زمانے میں عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا عراق میں موجود ہونا مشکوک ہو جاتا ہے۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 114)

ان باطل و موضوع روایات کا کوئی اعتبار نہیں جن میں اس بات کا ذکر ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے مالی رشوتیں مل جانے کے باعث عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ خیانت کی تھی۔

قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے شروع میں صلح کو تسلیم نہیں کیا تھا، اور اپنے ماتحتوں کو لے کر الگ ہوگئے تھے، پھر منجانب اللہ آپ کو شرح صدر حاصل ہو گیا اور صلح کو تسلیم کر کے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی، مصالحت کی خبر آنے پر قیس رضی اللہ عنہ کا کیا رویہ تھا؟ اسے درج ذیل روایتیں واضح کرتی ہیں:

حبیب بن ابی ثابت کے طریق سے ابن حجر رحمۃاللہ نے روایت نقل کی ہے وہ کہتے ہیں: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے بیعت کا پیغام بھیجا، اور اس کی خبر قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کو دی، تو قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے ماتحت فوجیوں میں کھڑے ہو کر انھیں خطاب کیا: اے لوگو! تمھارے لیے دو باتوں میں سے ایک ضروری ہے، فتنہ میں داخل ہونا یا بغیر حاکم کے جنگ کرنا، لوگوں نے پوچھا: کیا مطلب؟ انھوں نے کہا کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر چکے ہیں، چنانچہ لوگوں نے لوٹ کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی۔

(المطالب العلیۃ: جلد 4 صفحہ 317-319، اس کی سند صحیح ہے)

مذکورہ روایت سے پتہ چلتا ہے کہ مقدمۃ الجیش کے بہت سارے لوگوں نے صلح کی خبر کو سنتے ہی صلح کو قبول کر لیا، لیکن اس میں ان کے قائد قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کے صلح کو قبول کر لینے کا ذکر نہیں ہے، اس کی جانب ابن کثیر رحمۃاللہ نے اپنے اس قول میں اشارہ کیا ہے، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے مقدمۃ الجیش کے امیر قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی اطاعت و فرمانبرداری قبول کر لیں، قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا، انھوں نے دونوں کی اطاعت و فرمانبرداری کو ترک کردی، اور اپنے ماتحتوں کو لے کر الگ ہو گئے، پھر معاملے پر غور کیا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 16)

اسی طرح صلح سے متعلق قیس بن سعد رضی اللہ عنہ اور ان کے متبعین کے مؤقف کے بارے میں ابن ابی شیبہ گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’ہاشم بن عروہ سے مروی ہے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں: قیس بن سعد رضی اللہ عنہ، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے مقدمۃ الجیش کے امیر تھے، ان کے ساتھ پانچ ہزار فوجیوں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد اپنا سر منڈوا لیا، اور موت پر باہمی معاہدہ کیا، جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت قبول کر لی تو قیس رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا اور اپنے ساتھیوں سے کہا: جو تم چاہو گے میں وہی کروں گا، اگر تم چاہو تو تمھیں لے کر جنگ کروں تاآنکہ ہم میں پہلے مرنے والا مر جائے، اور اگر چاہو تو میں تمھارے لیے امان حاصل کروں، انھوں نے کہا: آپ ہمارے لیے امان لے لیں، چنانچہ انھوں نے ان کے لیے امان لے لی، اور یہ کہ انھیں کوئی سزا نہیں دی جائے گی، اپنے لیے کچھ نہیں لیا۔ جب مدینہ کی جانب کوچ کیا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر چلے تو ان کے لیے روزانہ اونٹ ذبح کیا تاآنکہ مدینہ پہنچ گئے۔‘‘

(مصنف ابن أبی شیبۃ: جلد 7 صفحہ 472)

مذکورہ روایت میں باوجودیکہ اس میں واقعات کے تسلسل میں تقدیم و تاخیر ہے اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ بارہ ہزار فوجیوں پر مشتمل مقدمۃ الجیش میں سے کتنے لوگوں نے قیس رضی اللہ عنہ کا ساتھ دیا تھا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 16)

2۔ صلح سے متعلق سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعین کردہ گورنروں کے رویے:

اس سلسلے میں ان گورنروں کے رویے مختلف اور متضاد تھے، بعض نے اسے قبول کر لیا، بعض نے ناپسند کیا، ذیل میں ان کے رویوں کا ذکر ہے:

أ: صلح کو قبول کرنے اور اسے بہتر سمجھنے کا رویہ، اس میں سرِ فہرست عبید اللہ بن جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ تھے۔

ب: پہلے انکار پھر قبول کرنے کا رویہ، اس میں سرفہرست قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تھے۔

ج: ایک تیسرا فریق تھا جس نے صلح کو ناپسند کرتے ہوئے اسے قبول کیا تھا، اس میں دو گروہ تھے۔ ایک گروہ یہ سمجھ رہا تھا کہ صلح پر عمل صرف سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی زندگی تک ضروری ہے، ان کے نمائندہ حجر بن عدی رضی اللہ عنہ تھے، دوسرا گروہ یہ سمجھ رہا تھا کہ صلح پر عمل سیدنا معاویہ و حسن رضی اللہ عنہما دونوں کی زندگی تک یا ان میں سے جو بھی بعد میں انتقال کرتا ہے، اس کے انتقال تک ضروری ہے، ان کے نمائندہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما تھے۔