ساتواں مرحلہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کی…

ساتواں مرحلہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کی دوسری کوشش

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

فوج میں جو کچھ ہوا اس پر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا مؤقف کیا رہا؟ اس جانب وہ روایت اشارہ کرتی ہے جسے ابن سعدؒ نے ہلال بن خباب کے طریق سے نقل کیا ہے۔ کہتے ہیں: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے قصر مدائن میں اپنے اہم ساتھیوں کو جمع کر کے کہا: اے اہلِ عراق! میں تمھاری تین باتیں نہیں بھول سکتا، میرے والد کو قتل کرنا، میری ران کی جڑ پر حملہ کر کے شدید زخمی کر دینا، میرے مال و اسباب کو لوٹ لینا، بلاشبہ تم لوگوں نے مجھ سے بیعت کی ہے کہ میں جس سے صلح کروں گا اس سے تم صلح کرو گے اور جس سے میں جنگ کروں گا اس سے تم جنگ کرو گے، میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی ہے اس لیے ان کی بات سنو اور مانو۔ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا حسنؓ منبر سے اترے اور قصر میں داخل ہوگئے۔

(الطبقات: السلمی: جلد 1 صفحہ 324) 

1۔ صلح سے متعلق شرطۃ الخمیس کا رویہ:

صلح سے متعلق شرطۃ الخمیس (جو مسکن کی جانب بھیجا جانے والا عراقی مقدمۃ الجیش تھا) کے رویہ کو وہ روایت واضح کرتی ہے جسے امام حاکم نے ابوالغریف کے طریق سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ہم بارہ ہزار فوجیوں پر مشتمل سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے مقدمۃ الجیش میں تھے، اہل شام سے جنگ کے لیے ہماری تلواریں از حد تیز تھیں، ہمارے قائد ابو عمر طہ عمیر بن یزید کندی تھے، جب سیدنا حسن و معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین مصالحت کی خبر ہم تک پہنچی تو ایسا محسوس ہو کہ غیظ و غضب سے ہماری کمر ٹوٹ گئی ہو، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ جب کوفہ پہنچے تو ہم میں سے ابوعامر سفیان بن لیل نے ان کے پاس جا کر کہا:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُذِلَّ الْمُوْمِنِیْنَ۔

’’اے مؤمنوں کو رسوا کرنے والے تم پر سلامتی ہو۔‘‘

یہ سن کر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوعامر! ایسا نہ کہو، میں نے مومنوں کو رسوا نہیں کیا ہے، بلکہ حکمرانی کی خواہش میں میں نے ان کے قتل کو ناپسند کیا ہے۔

(المستدرک: جلد 3 صفحہ 175)

لگتا ہے کہ ابو عمرطہ مقدمۃ الجیش کے کسی ٹکڑے کا امیر تھا، اسی میں ابوالغریف تھا اس لیے کہ یہ ثابت ہے کہ مقدمۃ الجیش کے عمومی قائد قیس بن سعد رضی اللہ عنہما تھے۔

صحیح روایات میں اس کا کہیں ذکر نہیں ملتا، کہ عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مقدمۃ الجیش میں موجود تھے، اس سے اس زمانے میں عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا عراق میں موجود ہونا مشکوک ہو جاتا ہے۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 114)

ان باطل و موضوع روایات کا کوئی اعتبار نہیں جن میں اس بات کا ذکر ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے مالی رشوتیں مل جانے کے باعث عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ خیانت کی تھی۔

قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے شروع میں صلح کو تسلیم نہیں کیا تھا، اور اپنے ماتحتوں کو لے کر الگ ہوگئے تھے، پھر منجانب اللہ آپ کو شرح صدر حاصل ہو گیا اور صلح کو تسلیم کر کے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی، مصالحت کی خبر آنے پر قیس رضی اللہ عنہ کا کیا رویہ تھا؟ اسے درج ذیل روایتیں واضح کرتی ہیں:

حبیب بن ابی ثابت کے طریق سے ابن حجر رحمۃاللہ نے روایت نقل کی ہے وہ کہتے ہیں: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے بیعت کا پیغام بھیجا، اور اس کی خبر قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کو دی، تو قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے ماتحت فوجیوں میں کھڑے ہو کر انھیں خطاب کیا: اے لوگو! تمھارے لیے دو باتوں میں سے ایک ضروری ہے، فتنہ میں داخل ہونا یا بغیر حاکم کے جنگ کرنا، لوگوں نے پوچھا: کیا مطلب؟ انھوں نے کہا کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر چکے ہیں، چنانچہ لوگوں نے لوٹ کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی۔

(المطالب العلیۃ: جلد 4 صفحہ 317-319، اس کی سند صحیح ہے)

مذکورہ روایت سے پتہ چلتا ہے کہ مقدمۃ الجیش کے بہت سارے لوگوں نے صلح کی خبر کو سنتے ہی صلح کو قبول کر لیا، لیکن اس میں ان کے قائد قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کے صلح کو قبول کر لینے کا ذکر نہیں ہے، اس کی جانب ابن کثیر رحمۃاللہ نے اپنے اس قول میں اشارہ کیا ہے، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے مقدمۃ الجیش کے امیر قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی اطاعت و فرمانبرداری قبول کر لیں، قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا، انھوں نے دونوں کی اطاعت و فرمانبرداری کو ترک کردی، اور اپنے ماتحتوں کو لے کر الگ ہو گئے، پھر معاملے پر غور کیا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 16)

اسی طرح صلح سے متعلق قیس بن سعد رضی اللہ عنہ اور ان کے متبعین کے مؤقف کے بارے میں ابن ابی شیبہ گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’ہاشم بن عروہ سے مروی ہے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں: قیس بن سعد رضی اللہ عنہ، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے مقدمۃ الجیش کے امیر تھے، ان کے ساتھ پانچ ہزار فوجیوں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد اپنا سر منڈوا لیا، اور موت پر باہمی معاہدہ کیا، جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت قبول کر لی تو قیس رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا اور اپنے ساتھیوں سے کہا: جو تم چاہو گے میں وہی کروں گا، اگر تم چاہو تو تمھیں لے کر جنگ کروں تاآنکہ ہم میں پہلے مرنے والا مر جائے، اور اگر چاہو تو میں تمھارے لیے امان حاصل کروں، انھوں نے کہا: آپ ہمارے لیے امان لے لیں، چنانچہ انھوں نے ان کے لیے امان لے لی، اور یہ کہ انھیں کوئی سزا نہیں دی جائے گی، اپنے لیے کچھ نہیں لیا۔ جب مدینہ کی جانب کوچ کیا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر چلے تو ان کے لیے روزانہ اونٹ ذبح کیا تاآنکہ مدینہ پہنچ گئے۔‘‘

(مصنف ابن أبی شیبۃ: جلد 7 صفحہ 472)

مذکورہ روایت میں باوجودیکہ اس میں واقعات کے تسلسل میں تقدیم و تاخیر ہے اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ بارہ ہزار فوجیوں پر مشتمل مقدمۃ الجیش میں سے کتنے لوگوں نے قیس رضی اللہ عنہ کا ساتھ دیا تھا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 16)

صفحہ 2 از 3