ساتواں مرحلہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کی…

ساتواں مرحلہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کی دوسری کوشش

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

2۔ صلح سے متعلق سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعین کردہ گورنروں کے رویے:

اس سلسلے میں ان گورنروں کے رویے مختلف اور متضاد تھے، بعض نے اسے قبول کر لیا، بعض نے ناپسند کیا، ذیل میں ان کے رویوں کا ذکر ہے:

أ: صلح کو قبول کرنے اور اسے بہتر سمجھنے کا رویہ، اس میں سرِ فہرست عبید اللہ بن جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ تھے۔

ب: پہلے انکار پھر قبول کرنے کا رویہ، اس میں سرفہرست قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تھے۔

ج: ایک تیسرا فریق تھا جس نے صلح کو ناپسند کرتے ہوئے اسے قبول کیا تھا، اس میں دو گروہ تھے۔ ایک گروہ یہ سمجھ رہا تھا کہ صلح پر عمل صرف سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی زندگی تک ضروری ہے، ان کے نمائندہ حجر بن عدی رضی اللہ عنہ تھے، دوسرا گروہ یہ سمجھ رہا تھا کہ صلح پر عمل سیدنا معاویہ و حسن رضی اللہ عنہما دونوں کی زندگی تک یا ان میں سے جو بھی بعد میں انتقال کرتا ہے، اس کے انتقال تک ضروری ہے، ان کے نمائندہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما تھے۔


صفحہ 3 از 3