آٹھواں مرحلہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

آٹھواں مرحلہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی فوج میں جو فتنہ پیدا ہوا منجانب اللہ اس سے نجات اور مدائن چھوڑ کر کوفہ آ جانے کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا خلافت چھوڑ کر اسے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دینا۔

بلاذری سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے سفرِ کوفہ کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے مدائن سے کوفہ کا سفر کرنا چاہا تو آپ کے پاس ابن عامر اور ابن سمرہ رضی اللہ عنہما صلح کی دستاویز لے کر آئے جس میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے آپ کے مطالبات کو تسلیم کیا تھا، اس موقع پر آپ نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا: ایسا ہوسکتا ہے کہ تمھیں کوئی چیز ناپسند ہو اور من جانب اللہ تمھارے لیے اس میں بہت ساری بھلائیاں مقدر ہوں، پھر کوفہ کی جانب چل پڑے۔

(أنساب الاشراف مخطوطہ ہے، اسی سے مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 150 میں منقول ہے۔)

 اس کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مسکن سے نخیلہ نامی مقام کی جانب چل پڑے، اس سلسلے میں بلاذری کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مسکن سے کوفہ کی جانب چل پڑے، نخیلہ اور دار الرزق کے مابین پڑاؤ کیا۔ 

(أنساب الاشراف نقلا عن مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 150)

 پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کوفہ سے نخیلہ آئے تاکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کر کے معاملہ ان کے حوالے کر دیں۔

مجالد (مجالد بن سعید ہمدانی متکلم فیہ ہیں۔)

شعبی(عامر شعبی ثقہ ہیں۔) سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: مقام نخیلہ میں جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے صلح کی تو میں وہاں موجود تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب یہ بات طے ہو گئی تو آپ کھڑے ہو کر لوگوں کو بتا دیں کہ اس امرِ خلافت کو آپ نے میرے حوالے کر دیا ہے، غالباً سفیان کے الفاظ ہیں: لوگوں کو اس امرِ خلافت کے بارے میں بتا دیں جسے آپ نے میرے لیے چھوڑ دیا ہے، چنانچہ آپ نے منبر پر کھڑے ہو کر تقریر کی، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی شعبی کہتے ہیں اور میں سن رہا تھا پھر فرمایا: سب سے ذہین متقی ہوتا ہے اور سب سے احمق نافرمان ہوتا ہے، یہ امر خلافت جس میں میرا اور معاویہ کا اختلاف تھا، اگر میں اس کا مستحق تھا تو امت کی خونریزی روکنے اور اس کی بھلائی کی خاطر میں اسے معاویہ کے لیے چھوڑ دیتا ہوں یا کوئی دوسرا اس کا زیادہ مستحق تھا تو میں اس کو اس کا حق دیتا ہوں۔

وَاِنۡ اَدۡرِىۡ لَعَلَّهٗ فِتۡنَةٌ لَّـكُمۡ وَمَتَاعٌ اِلٰى حِيۡنٍ‏ ۞(سورۃ الأنبياء: آیت 111)

(المعجم الکبیر: جلد 3 صفحہ 26، اس کی سند حسن ہے۔)

ترجمہ: اور میں نہیں جانتا شاید (سزا میں) یہ (تاخیر) تمہارے لیے ایک آزمائش ہے اور کسی خاص وقت تک کے لیے مزے کرنے کا موقع دینا ہے۔

طبرانی کی طرح اس روایت کو شعبی کے طریق سے ابن سعد(الطبقات: جلد 1 صفحہ 329)، حاکم (المستدرک: جلد 3 صفحہ 175)، ابونعیم اصفہانی(حلیۃ الاولیاء: جلد 2 صفحہ 37)، بیہقی(دلائل النبوۃ: جلد 6 صفحہ 444 اور ابن عبدالبر ( الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 388، 389) نے نقل کیا ہے۔ اسی طرح بیعت کی روایت کو احمد بن حنبلؒ نے انس بن سیرینؒ کے طریق سے نقل کیا ہے۔ کہتے ہیں: جس دن سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے گفتگو کی فرمایا: جابلص اور جابلق (جابلص اور جابلق دو شہر ہیں، ایک مشرق میں ہے دوسرا مغرب میں۔) کے مابین میرے علاوہ کوئی دوسرا نہیں جس کے نانا نبی ہوں، میں نے امت محمدیہ کا اتحاد چاہا ہے، اور میں اس کا زیادہ حقدار ہوں، بلاشبہ میں نے معاویہ(رضی اللہ عنہ) سے بیعت کر لی ہے، مجھے معلوم نہیں، ممکن ہے یہ تمھاری آزمائش ہو اور ایک مقررہ وقت تک فائدہ پہنچانا ہو۔

(فضائل الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 769، اس کی سند صحیح ہے۔)

عمرو بن دینار کے طریق سے ابن سعدؒ نے جو روایت نقل کی ہے اس میں ہے: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! میں اس معاملے کے ابتدائی حصے کو سب سے زیادہ ناپسند کرنے والا تھا، اور اس کے آخری حصے کی میں نے اصلاح کر دی ہے، حق والے کو جو اس کا زیادہ مستحق تھا میں نے حق دے دیا، یا وہ میرا حق تھا، جسے میں نے امت محمدیہ کی بھلائی کے لیے قربان کر دیا ہے، اے معاویہ! اللہ تعالیٰ نے کسی بھلائی یا برائی کے لیے (جسے وہی جانتا ہے) آپ کو خلافت عطا کی ہے:

وَاِنۡ اَدۡرِىۡ لَعَلَّهٗ فِتۡنَةٌ لَّـكُمۡ وَمَتَاعٌ اِلٰى حِيۡنٍ‏۞(سورۃ الأنبياء: آیت 111)

ترجمہ: اور میں نہیں جانتا شاید (سزا میں) یہ (تاخیر) تمہارے لیے ایک آزمائش ہے اور کسی خاص وقت تک کے لیے مزے کرنے کا موقع دینا ہے۔

پھر سیدنا حسنؓ منبر سے اتر گئے۔

لیکن وہ روایت جو اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی تو عمرو بن عاص اور ابواعور سلمی رضی اللہ عنہما نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر آپ حسن(رضی اللہ عنہ) کو حکم دیں کہ وہ منبر پر چڑھ کر تقریر کریں اور وہ تقریر نہیں کر پائیں گے اس طرح لوگ ان سے بیزار ہو جائیں گے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا نہ کرو، اللہ کی قسم میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ ان کی زبان اور ہونٹوں کو اپنی زبان سے چاٹ رہے تھے، اور ایسی زبان اور ہونٹ گفتگو سے عاجز نہیں ہو سکتے، جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاٹا ہو، لیکن وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بات نہیں مانے، چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔۔۔

یہ روایت متن اور سند دونوں اعتبار سے باطل ہے، اس کی سند ضعیف ہے، اور متن منکر ہے۔

(الطبقات تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 325، اس کی سند ضعیف ہے اور متن منکر ہے۔)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی تقریر اور بلاغی صلاحیتوں سے ناواقف نہیں تھے۔

صفحہ 1 از 2