آٹھواں مرحلہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

آٹھواں مرحلہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

بلاذری نے ایک روایت یوں نقل کی ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کو لے کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیعت کرنے گئے تھے، چنانچہ جریر بن حازم سے مروی ہے کہتے ہیں، میں نے محمد بن سیرینؒ کو کہتے ہوئے سنا ہے: جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ معاویہؓ کی بیعت کے لیے تیار ہو گئے تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ان کے پاس ان کے لشکرگاہ میں گئے، اپنے ساتھ اپنے پیچھے قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کو بھی بٹھا کر لے گئے، جب دونوں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ان سے بیعت کر لی، پھر قیس رضی اللہ عنہ سے کہا: تم بھی بیعت کر لو، قیس رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا: ایسے ہی بیعت کر لوں، اور ہاتھ کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب بڑھانے کے بجائے سمیٹ لیا، اور اسے معاویہؓ کی جانب نہیں بڑھایا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس وقت تخت پر تھے انھوں نے گھٹنوں کے بل ہو کر اپنے ہاتھ کو بڑھایا اور قیس رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کو چھو لیا جریر بن حازم کہتے ہیں: جیسا انھوں نے کیا تھا اس کی نقل کر کے محمد بن سیرینؒ نے ہمیں بتایا اور ہنسنے لگے، قیس رضی اللہ عنہ لحیم شحیم تھے۔

(أنساب الأشراف للبلاذری: اسی سے مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 154 میں منقول ہے، اس کی سند صحیح ہے۔)

خلافت سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی دست برداری اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لینے پر ہی خلافت راشدہ کی مدت ختم ہو جاتی ہے جو تیس سالوں پر محیط ہے، اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ہے:

خِلَافَۃُ النُّبُوَّۃِ: ثَلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ یُؤْتِی اللّٰہُ الْمُلْکَ، أَوْ مَلَّکَہُ مَنْ یَّشَائُ۔

(صحیح سنن أبی داؤد: للالبانی: جلد 3 صفحہ 879، سنن ابی داود مع شرح عون المعبود: جلد 12 صفحہ 259)

’’خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کی مدت تیس سال ہے پھر اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا بادشاہت عطا کرے گا۔‘‘

دوسری حدیث میں ہے:

اَلْخِلَافَۃُ فِیْ أُمَّتِیْ ثَلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ مُلْکٌ بَعْدَ ذٰلِکَ

(سنن الترمذی: مع تحفۃ الأحوذی: جلد 6 صفحہ 395، 397، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)

’’میری امت میں خلافت تیس سال رہے گی، پھر اس کے بعد بادشاہت ہو گی۔‘‘

ابن کثیر رحمۃاللہ اس حدیث پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی خلافت کے خاتمے پر تیس سال پورے ہو جاتے ہیں، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں انھوں نے خلافت سے تنازل ربیع الاول 41ھ میں کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے لے کر یہاں تک تیس مکمل ہو جاتے ہیں، اس لیے کہ آپﷺ کی وفات ربیع الاول 11ھ میں ہوئی ہے اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیلوں میں سے ایک دلیل ہے۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 8 صفحہ 6)

اس طرح سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما پانچویں خلیفۂ راشد ہیں۔‘‘

(مآثر الإناقۃ: جلد 1 صفحہ 105، للقلقشندی مرویات خلافۃ معاویۃ: فی تاریخ الطبری: صفحہ 155)


صفحہ 2 از 2