صلح کے اہم اسباب و محرکات
علی محمد الصلابیوہاں بہت سارے اسباب و عوامل تھے جنھوں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح پر آمادہ کر دیا:
اولاً: امت کی بھلائی کا ارادہ اور اخروی نعمتوں کی رغبت:
نفیر حضرمی نے جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: لوگوں کا خیال ہے کہ آپ کو خلافت کا لالچ ہے تو اس کے جواب میں فرمایا: عرب سردار میری مٹھی میں تھے میں جس سے صلح کرتا اس سے وہ صلح کرتے اور جس سے جنگ کرتا اس سے وہ جنگ کرتے، لیکن میں اسے (خلافت کو) اللہ کی رضا کے لیے چھوڑ رہا ہوں۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 206)
اور اپنی اس تقریر میں جس میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت سے دست بردار ہونے کا اعلان کیا تھا، فرمایا تھا:
’’اگر میرا حق تھا بھی تو امت کی بھلائی کے لیے میں اسے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے چھوڑ رہا ہوں۔‘‘
(المعجم الکبیر للطبرانی: جلد 3 صفحہ 26، اس کی سند حسن ہے۔)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا تصور آخرت، اللہ کی رضا کو مقدم رکھنا، اتحاد و اتفاق اور میل ملاپ کا حریص ہونا، صلح کے اہم اسباب و عوامل تھے، صلح کا اسلام میں عظیم مقام و مرتبہ ہے، معاشرتی اخلاق میں اس کی بہت اہمیت ہے، مادی اور معاشرتی طور پر باہمی تعامل کرنے والوں کے مابین جو جھگڑے اور لڑائیاں ہو جاتی ہیں اسی سے ختم ہوتی ہیں، اسی کے باعث باہم لڑنے والوں کے مابین محبت و اخوت لوٹ آتی ہے، اس لیے کہ یہی چیز جھگڑے کی بنیاد ختم کر کے طرفین کو راضی کرتی ہے، مذکورہ وجوہ کی بنا پر صلح ایک اہم ترین شرعی مقصد ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے وہ بھائی چارگی پیدا ہو، جو مسلمانوں کے لیے مطلوب ہے اور اللہ تعالیٰ اسے ان کی صفت بتاتا ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے:
اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَةٌ فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَ اَخَوَيۡكُمۡ ۞ (سورۃ الحجرات آیت 10)
ترجمہ: حقیقت تو یہ ہے کہ تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں، اس لیے اپنے دو بھائیوں کے درمیان تعلقات اچھے بناؤ،
اور یہ ایسی اخوت ہے جس سے باہمی اختلافات اور جھگڑے ختم ہو جاتے ہیں۔
(أخلاق النبی صلي الله عليه وسلم فی القرآن و السنۃ: جلد 2 صفحہ 969)
اس لیے قرآن کریم میں صلح کی بڑی تاکید ہے، اس کا حکم بھی ہے اور اس کی ترغیب بھی دلائی ہے، صلح اور اہلِ صلح کی بڑی تعریف کی ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے: