Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ایک مسئلہ کے تین متعارض جواب

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

اہلِ بیتؓ کے ذمے رواة حدیث شیعہ نے یہاں تک بہتان باندھا ہے کہ انہوں نے ایک ہی مسئلے کے متعلق تین مختلف اشخاص کو الگ الگ مختلف و متعارض جواب دیے ہیں جن میں سے ایک سچ ہو سکتا ہے باقی سب جھوٹ چنانچہ احادیث زیل سے جو اصولِ کافی: صفحہ، 37 میں درج ہے اس کا انکشاف ہوتا ہے: 
عن من صور ابن حازم قال قلت لابی عبدالله ما بالی اسالك عن المسالة فتجينی فيها بالجواب فيسلك غيری فتجيبه فيها بجواب اخر فقال انا نجيب الناس بزيادة ونقصان۔
منصور بن حازم کہتا ہے کہ میں نے سیدنا جعفر صادقؒ سے کہا کیا وجہ ہے کہ میں آپ سے ایک مسئلہ پوچھتا ہوں آپ مجھے اس کا جواب دیتے ہیں پھر ایک دوسرا شخص آ کر وہی مسئلہ پوچھتا ہے اور اس کو اس کے خلاف جواب دیتی ہیں آپ نے کہا ہم لوگوں کو بڑھا گھٹا کر جواب دیتے ہیں۔
عن زراره ابن اعين عن ابی جعفر قال سالته عن مسالتی فاجابنی ثم جاء اخر فاجابه بخلاف ما اجابنی فاجاب صاحبی فلما خرج الرجلان قلت يا ابن رسول رجلان من اهل العراق من شيعتكم قد ما يسالانی فاجبت كل واحد منهما بخلاف ما اجبت به صاحبه فقال يا زراره ان هذا خير لنا فابقى لنا ولكم ولو اجتمعتم على امر واحد لصدقكم الناس علينا ولكان اقل لبقائنا ببقائكم ثم قال قلت لابی عبدالله شيعتكم لو حملتموهم على الا سنتی او على النار لمضوا وهم يخرجون من عندكم مختلفين فاجابنی بمثل جواب ابيہ۔(اصولِ كافی: صفحہ، 107)
زرارہ بن عین کہتا ہے کہ میں نے سیدنا باقر صادقؒ سے ایک مسئلہ پوچھا جس کا جواب انہوں نے مجھے دیا ہے پھر دوسرے شخص نے آ کر وہی مسئلہ ان سے پوچھا اس کو میرے برخلاف جواب دیا پھر ایک تیسرا شخص آگیا اور وہی مسئلہ پوچھا اور اس کو مجھ سے اور اس شخص سے بھی مخالف جواب دیا جب وہ دونوں چلے گئے تو میں نے پوچھا حضور یہ دونوں عراقی مرد آپ کے شیعہ ہیں جنہوں نے آ کر ایک ہی مسئلہ پوچھا آپ نے دونوں کو مختلف جواب دیے آپ نے کہا اے زرارا یہی بات میرے لیے بہتر ہے میری اور تمہاری بقا کا باعث ہے اگر تم ایک ہی بات پر متفق ہو جاؤ تو لوگ میرے بارے میں تم کو سچا سمجھ لیں گے اور یہ ہماری اور تمہاری زندگی کے لیے مضر ہوگا زرارا کہتا ہے کہ میں نے جعفر سے عرض کی کہ یہ لوگ تو تمہارے(راسخ الا عتقاد) شیعہ ہیں اگر تم نیزوں پر یا اگ پر برانگیختہ کرو تو کبھی پیچھے نہ ہٹیں گے پھر کیا وجہ ہے کہ آپ سے یہ لوگ مختلف و متعارض جواب سن کر جاتے ہیں پھر امام نے وہی جواب دیا جو ان کے والد نے دیا تھا۔
ناظرین غور کر سکتے ہیں کہ ائمہ معصومین کی نسبت کو یقین کر سکتا ہے کہ وہ ایک مسئلے میں تین ایسے اشخاص کو جو ان کے راسخ الاعتقاد مرید (شیعہ) ہوں تین مختلف متعارض جواب دیں مثلا ایک کو کہیں کہ یہ چیز حرام ہے دوسرے کو کہیں حلال ہے تیسرے کو کہیں نہ حلال ہے نہ حرام یقیناً تینوں میں سے ایک سچ ہوگا دوسری جھوٹ اور ایک جھوٹ کہنا موجب درازی عمر اور بقائے حیات سمجھا جائے پاک لوگوں کے منہ سے کبھی جھوٹ نہیں نکل سکتا ان کا اس بات پر ایمان ہوتا ہے کہ *الصدق ينجي والكسب يھلک* (راستی موجب نجات اور جھوٹ باعث ہلاکت ہے) اگر بفرض محال ائمہ اہل بیت کا یہ حال تھا کہ سچائی کی کوئی پابندی نہ تھی بلکہ مصلحت وقت کے مطابق سچ جھوٹ کہتے تھے تو پھر ان کی حدیث کا کیا اعتبار ہوگا وہ کیوں کر قابل عمل ہوں گی؟ جب ایک ہی مسئلے میں دو مختلف احادیث ایک ہی راوی سے مروی ہوں تو بحکم *اذا تعارضا تساقطا* دونوں پایئہ اعتبار سے ساقط ہو جائیں گی۔