Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

صلح کرانے کی ترغیب

  علی محمد الصلابی

اللہ تعالیٰ نے اس کی بڑی فضیلت بیان کی ہے اور اللہ کی رضا کی خاطر صلح کرانے والے کے لیے اجر عظیم مقرر کیا ہے:

لَا خَيۡرَ فِىۡ كَثِيۡرٍ مِّنۡ نَّجۡوٰٮهُمۡ اِلَّا مَنۡ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوۡ مَعۡرُوۡفٍ اَوۡ اِصۡلَاحٍۢ بَيۡنَ النَّاسِ‌ وَمَن يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰهِ فَسَوۡفَ نُـؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞(سورۃ النساء آیت 114)

ترجمہ: لوگوں کی بہت سی خفیہ سرگوشیوں میں کوئی خیر نہیں ہوتی، الا یہ کہ کوئی شخص صدقے کا یا کسی نیکی کا یا لوگوں کے درمیان اصلاح کا حکم دے۔ اور جو شخص اللہ کی خوشنودی حاصل کے کرنے کے لیے ایسا کرے گا، ہم اس کو زبردست ثواب عطا کریں گے۔

نیز ایسا کرنے والو ں کے لیے رحمت و مغفرت کا وعدہ کیا ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے

وَاِنۡ تُصۡلِحُوۡا وَتَتَّقُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ۞(سورۃ النساء آیت 129)

ترجمہ: اور اگر تم اصلاح اور تقویٰ سے کام لو گے تو یقین رکھو کہ اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

اس آیت میں صلح کرانے والوں کے لیے اللہ کی مغفرت و رحمت کا اشارہ ہے جیسا کہ دو صفتوں اللہ کی مغفرت اور رحمت پر آیت کے خاتمے سے پتہ چلتا ہے۔

(أخلاق النبی صلي الله عليه وسلم فی القرآن و السنۃ: جلد 2 صفحہ 971)

اسی طرح ارشاد ربانی ہے:

فَمَنۡ خَافَ مِنۡ مُّوۡصٍ جَنَفًا اَوۡ اِثۡمًا فَاَصۡلَحَ بَيۡنَهُمۡ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَيۡهِ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞ (سورۃ البقرة آیت 182)

ترجمہ: ہاں اگر کسی شخص کو یہ اندیشہ ہو کہ کوئی وصیت کرنے والا بےجا طرف داری یا گناہ کا ارتکاب کر رہا ہے، اور وہ متعلقہ آدمیوں کے درمیان صلح کرا دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔  

پہلی آیت کی طرح اس میں بھی صلح کرانے والوں کے لیے اللہ کی رحمت و مغفرت کی جانب واضح اشارہ ہے۔

(أخلاق النبی صلي الله عليه وسلم فی القرآن و السنۃ: جلد 2 صفحہ 971)

اللہ تعالیٰ نے اپنا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:

 اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ‏ ۞ (سورۃ الأعراف آیت 170)

ترجمہ: تو ہم ایسے اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔