Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تعزیہ و مرثیہ خوانی

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

واضح ہو کہ اسلام میں بدعاتِ محرم کی ایجاد و اختراعاتِ شیعہ سے ہے جو سنت یزید تازہ کرنے کے لیے سال بسال ماہِ محرم میں کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ شیعانِ حسینؓ کے لیے نجاتِ اخروی کے لیے اس قدر کافی ہے کہ سال بھر میں ایک دفعہ غمِ حسینؓ میں سینہ کوبی کرلیں ماتمی لوگ بغیر کسی پرسش کے سیدھے جنت میں چلے جائیں گے اور اُن سے نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے دنیا میں نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ فرائض ادا کیے ہیں یا نہیں شیعوں کا یہ مسئلہ عیسائیوں کے مسئلہ صلیب سے کم نہیں جیسا کہ ان کا اعتقاد ہے یہ ہمارے کہ مسیح ہمارے تمام گناہوں کا کفارہ ہو چکے ہیں اسی طرح حضرات شیعہ کہتے ہیں کہ ہمارے گناہوں کا کفارہ شہادتِ سیدنا حسینؓ ہے ہمارے لیے صرف اتنا ضروری ہے کہ اس واقعہ کی یادگار میں مجلسِ ماتم قائم کر کے خوب روئیں اور پیٹیں ہم بخشے جائیں گے اور جنت ہمارے ہی لیے ہے سنیوں کی کیا مجال ہے کہ جنت کا نام بھی لے جائیں۔

ہم نے قرآن و حدیث اور دینی کتب کو چھان مارا ہے ہمیں اس مسئلہ کا کہیں کھوج نہیں مل سکا شیعہ کی اپنی کتابیں بھی اس مسئلہ کی سخت مخالف ہیں پھر معلوم نہیں کہ شیعہ نے یہ مسئلہ کہاں سے نکالا ہے؟ ہم شیعہ سے پوچھتے ہیں کہ تعزیہ مرثیہ خوانی کا شروع کس پیغمبر یا امام سے ہوا؟ اگر کسی نبی یا امام یا صحابیؓ سے اس کی ابتداء ثابت نہیں ہے تو ماننا پڑے گا کہ سب کچھ بدعاتِ محرمہ سے ہے اور بس اگر کہا جائے کہ واقعہ شہادتِ حسینؓ کے بعد اس کی ایجاد کی ضرورت ہوئی تو ہم کہیں گے کہ اس سے پیشتر بھی کئی بزرگانِ دین شہید ہوتے رہے پھر کیوں سلف صالحین نے ایسا نہیں کیا؟
جناب امیرؓ نہایت بیدردی سے مسجد میں شہید کیے گئے حسنینؓ نے بھی ان کے غم میں مجالس ماتم قائم نہیں کیں پھر حضرت حسن رضی اللہ عنہ بھی زہر خورانی سے شہید کیے گئے حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے بڑے بھائی کے غم میں کبھی ماتم نہیں کیا سیدنا زین العابدینؒ نے محشر خیز واقعہ کربلا اپنی آنکھوں سے دیکھا انہوں نے بھی ماتم نہیں کیا نہ پیٹنے کی رسم ادا کی ایسا ہی دیگر ائمہ عظام نے بھی کبھی تعزیے نہیں نکالے پھر اُن سے بڑھ کر کس شخص کو شہداءِ کربلا کا غم ہوگا کہ بغیر سوانگ نکالنے کے تسکین نہیں ہو سکتی اسلام میں پہلا سانحہ عظیم وفاتِ رسولِ مقبولﷺ کا ہوا مگر اہلِ بیتؓ یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کبھی نوحہ، بکا، مرثیہ خوانی اور سینہ کوبی کی رسم ہونے نہ دی پھر کیونکر کہا جائے کہ یہ بدعات باعثِ ثواب اور موجبِ نجات ہو سکتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے جابجا قرآنِ کریم میں مؤمنین کو صبر کی ترغیب دی ہے اور مؤمنوں کی یہ صفت بیان فرمائی ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچ جائے وہ صبر سے کام لیتے اور معاملہ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں: 
وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيۡنَ 
(سورۃ البقرہ: آیت 155)
الَّذِيۡنَ اِذَآ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ قَالُوۡٓا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيۡهِ رٰجِعُوۡنَ 
(سورۃ البقرہ: آیت 156)
ترجمہ: اے رسول ان صبر کرنے والوں کو بشارت دیجیے کہ جب انہیں کوئی دکھ درد پہنچتا ہے کہتے ہیں ہم خدا کے لیے ہیں اور ہماری بازگشت اسی کی طرف ہے۔
مسلمانوں کو ارشاد ہے:
وَاسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ وَاِنَّهَا لَكَبِيۡرَةٌ اِلَّا عَلَى الۡخٰشِعِيۡنَ 
(سورۃ البقرہ: آیت 45)
الَّذِيۡنَ يَظُنُّوۡنَ اَنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ وَاَنَّهُمۡ اِلَيۡهِ رٰجِعُوۡنَ  
(سورۃ البقرہ: آیت 46)
ترجمہ: صبر اور نماز کے وسیلہ سے مدد مانگو اور یہ صبر و نماز بڑی شاق ہے ہاں ان ڈرنے والوں پر جن کو اس بات کا یقین ہے کہ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور وہ اسی کی طرف واپس جانے والے ہیں۔
پھر معلوم نہیں قرآن کے کس پارہ میں یہ آیت لکھی ہے کہ کوئی واقعہ ہائکہ (مصیبت) پیش آ جائے تو سوانگ بنا کر خوب جزع فزع کپڑے پھاڑو، رخسارے طمانچوں سے لال کرو، سینہ کوٹ کوٹ کر لہولہان کر دو شاید اس قرآن میں یہ حکم ہو جو ستر ہزار آیات کا ہے کہ جو ابھی گوشتہ غار میں مدفون ہے یہ قرآن تو آیات صبر سے پُر ہے اور کسی ایک جگہ بھی جزع فزع کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
اصولِ کافی: صفحہ، 410 میں یہ حدیث ہے:
عَنْ اَبِی عَبْدِاللّٰهِ قَالَ الصَّبُرُ مِنَ الْاِيْمَان بِمَنْزِلَةِ الرَّاْسِ مِن الْجَسدِ فَاِذَا ذَهَبَ الرَّاْسُ الْجَسَد كَذَالِكَ ذَا ذَهَبَ الصَّبْرُ ذَهَبَ الْإِيْمَانُ۔
ترجمہ: سیدنا صادقؒ نے فرمایا: کہ صبر ایمان کے سر کے بجا ہے جب سر کی جوئے تو جسد بیکار ہو جاتا ہے اسی طرح جب صبر چھوڑ دیا جائے ایمان جاتا رہتا ہے۔
پھر جو لوگ برخلاف اس حدیث کے جزع و فزع کرتے اور روتے پیٹتے سینہ کوبی کر کے بے صبری دکھاتے ہیں بشہادت حضرت موصوف وہ بالکل بے ایمان ہیں ائمہ اہلِ بیتؓ نے جزع فزع سے یہاں تک منع فرمایا ہے کہ مصیبت کے وقت رانوں پر ہاتھ مارنا بھی موجب حبط اعمال قرار دیا گیا ہے جیسا کہ فروعِ کافی جلد، 1 صفحہ 122 میں درج ہے:
عَنْ ابی عَبْدِاللّٰهِ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ضَرَبُ الْمُسْلِمِ يَدَهٗ عَلٰى فَخِذِهٖ احْبَاطٌ لِاَجْرِهٖ۔
ترجمہ: اب بر خلاف اس کے جو لوگ منہ پر طمانچے رسید کرنا اور سینہ کوبی کرنا موجبِ ثواب سمجھتے ہیں وہ سیدنا صادقؒ کے قول کی تکذیب کرتے ہیں۔
اس بارے میں قول فیصل جناب امیرؓ کا قول ہے جو نہج البلاغت صفحہ 193، 338 مطبوعہ تہران میں یوں درج ہے:
وَمِنْ كَلامِ لَّهٗ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَهٗ وَهُوَ يَلِی غُسْل رَسُولَ اللّٰهِﷺ وَتَجْهَزهٗ بِابی اَنْتَ وَامّیْ قَدْ اِنْقَطَعَ بِمَوْتِک مَا لَمْ يَنْقَطِع بِمَوْتِ غَيْرِک مِنَ النُّبُوَّةِ وَالْاَنْبِيَاءِ وَاخْبَارِ السَّمَآءِ خُصِّصتْ حَتّٰى صِرْتَ مُسَلَّباَ عَمَّنْ سِوَاكَ وَعُمِّمْتُ حَتّٰى صَارَ النَّاسُ فِيْکَ سَوَاءَ وَلَوْلَا انَّكَ اَمَرْتَ بِالصَّبْرِ وَنُهِيْتَ عَنِ الْجَزْعِ لَا نُفَدْنَا عَلَيْکَ مَاءُ الشّتئوانِ۔
ترجمہ: امیرؓ نے رسول اللہﷺ کے غسل اور تجہیز کے وقت فرمایا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ کی وفات سے وہ امور منقطع ہوئے ہیں جو کسی اور کی وفات سے نہ ہو سکتے تھے وہ امور نبوت اور آسمانی وحی ہیں آپ ایسے خاص ہوئے کہ ماسوائے قطع کر دیا اور آپ کا فیض ایسا عام ہوا کہ تمام لوگ اس سے یکساں مستفیض ہوئے اگر آپ نے ہمیں صبر کرنے کا حکم اور جزع و فزع سے منع نہ کر دیا ہوتا تو آج ہم آپ کی وفات پر اتنا روتے کہ رطوبت بدن خشک ہو جاتی۔
دیکھیے! جناب امیرؓ کا ایسے دردناک موقعہ وفاتِ رسولﷺ پر جزع و فزع چھوڑ کر صبر سے کام لینا اور اس پر رسول پاکﷺ کے امر بالصبر و نہی عن الجزع کو دلیل پیش کرنا اس امر کی فیصلہ کن دلیل ہے کہ بعد الرسولﷺ اور کسی شخص کی وفات و شہادت پر جزع و فزع کرنا اور بے صبری دکھانا ہرگز جائز نہیں ہے کیونکہ وفاتِ رسولﷺ سے بڑھ کر کوئی سخت صدمہ مسلمان کے لیے بالخصوص اصحابؓ و اہلِ بیتؓ رسولِ اسلام کے لیے ہو نہیں سکتا اور جیسا غمِ حضورﷺ کی وفات سے حضرت علی المرتضیٰؓ کو تھا کسی اور شخص کی وفات سے کسی دیگر شخص کو نہیں ہو سکتا؟ پھر ایسے دردناک وقت میں جزع و فزع اور سینہ کوبی تو کجا آنسو بہانے تک کو بھی خلافِ صبر تصور کر کے صبر و تحمل سے کام لیا گیا تو پھر کس طرح کسی اور شخص کی وفات پر یا شہادت پر اس کے خلاف رونا پیٹنا اور سینہ کوبی کرنا روا ہو سکتا ہے یہ کسی ایسے ویسے شخص کا فیصلہ نہیں ہے بلکہ جناب امیرؓ اور سیدنا صادقؒ کے فیصلہ جات ہیں جن پر شیعہ مذہب کا دار و مدار ہے اس لیے کہ شیعہ کو ان کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے بغیر ہرگز چارہ نہیں ہو سکتا۔
گل و چیں کا گلہ بلبل خوش لہجہ نہ کر 
تو گرفتار ہوئی اپنی صدا کے باعث