صلح اور صلح کرانے والوں کی اچھے لفظوں میں تعریف
علی محمد الصلابیقرآن میں صلح کرانے پر رحمت و مغفرت اور اجر کے وعدوں کا بار بار ذکر ہے جس سے اللہ کے نزدیک اس کے بلند مقام و مرتبہ کا پتہ چلتا ہے، اسی لیے اس پر عمدہ بدلہ اور اجر عظیم مقرر کیا ہے، نیز اس کے بلند مقام و مرتبے کا پتہ اس سے بھی چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اچھے لفظوں میں تعریف کی ہے، چنانچہ فرمایا:
(وَالصُّلْحُ خَيْرٌ) (سورۃ النساء آیت 128)
’’اور صلح بہتر چیز ہے۔‘‘
صلح کو بہتر قرار دینا اس با ت کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے، اس کو بہتر قرار دینا اس لیے ہے کہ لوگوں کے اس باہمی میل ملاپ میں اس کی عظیم تاثیر ہوتی ہے، جسے صاحبِ شریعت انسانی معاشروں میں دیکھنا چاہتا ہے، نیز اس سے صلح کرانے والے اور اس پر راضی ہونے والے کے اخلاق کریمانہ کا پتہ چلتا ہے، اسی لیے یہ چیز رسولوں کے اہم اخلاق میں سے تھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے شعیب علیہ السلام کی زبانی ارشاد فرمایا ہے:
اِنۡ اُرِيۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ وَمَا تَوۡفِيۡقِىۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ۞ (سورۃ هود آیت 88)
ترجمہ: میرا مقصد اپنی استطاعت کی حد تک اصلاح کے سوا کچھ نہیں ہے، اور مجھے جو کچھ توفیق ہوتی ہے صرف اللہ کی مدد سے ہوتی ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے اور اسی کی طرف میں (ہر معاملے میں) رجوع کرتا ہوں۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے قول کو نقل کیا ہے جس میں انھوں نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو مخاطب کیا تھا:
وَوٰعَدۡنَا مُوۡسٰى ثَلٰثِيۡنَ لَيۡلَةً وَّاَتۡمَمۡنٰهَا بِعَشۡرٍ فَتَمَّ مِيۡقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرۡبَعِيۡنَ لَيۡلَةً وَقَالَ مُوۡسٰى لِاَخِيۡهِ هٰرُوۡنَ اخۡلُفۡنِىۡ فِىۡ قَوۡمِىۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ۞ (سورۃ الأعراف آیت 142)
ترجمہ: اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ : میرے پیچھے تم میری قوم میں میرے قائم مقام بن جانا، تمام معامات درست رکھنا اور مفسد لوگوں کے پیچھے نہ چلنا۔
ان دونوں آیتوں میں اصلاح عام ہے جو دین و دنیا کی اصلاح، نیز جھگڑا وغیرہ (جس سے کوئی انسانی معاشرہ خالی نہیں ہوتا) ہو جانے پر لوگوں کے مابین صلح کرانے کو شامل ہے۔
(أخلاق النبی صلي الله عليه وسلم فی القرآن و السنۃ: جلد 2 صفحہ 971)
اسی قرآنی مقصد کے لیے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ صلح پر آمادہ ہوئے، صلح کی چاہت میں اپنے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلح کرانے کی انتھک کوشش کرتے تھے، ایک دن اہل قباء میں جھگڑا کیا، ان کے مابین سنگباری ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا: چلو ہم ان کے مابین صلح کرائیں۔
(صحیح البخاری: کتاب الصلح حدیث نمبر 2690)
غور کیجیے مسلمانوں میں اختلاف ہو جانے کے بعد اسے ختم کرانے اور معاملے کو طول پکڑنے سے پہلے ان کے مابین اتحاد و اتفاق اور صلح کرانے کے لیے جانے میں آپ نے ذرا بھی سستی و کوتاہی نہیں کی۔
(أخلاق النبی صلي الله عليه وسلم فی القرآن و السنۃ: جلد 2 صفحہ 979)
لوگوں کے مابین صلح کی اہمیت و فضیلت کے پیش نظر اسلام نے جھگڑنے والوں کے مابین صلح کرانے کی غرض سے جھوٹ کی اجازت دی ہے، چنانچہ ارشاد نبوی ہے:
لَیْسَ الْکَذَّابُ الَّذِیْ یُصْلِحُ بَیْنَ النَّاسِ فَیَنْمِیْ خَیْرًا أَوْ یَقُوْلُ خَیْرًا
(صحیح البخاری: کتاب الأدب حدیث نمبر 4900)
’’وہ شخص جھوٹا نہیں جو لوگوں کے مابین صلح کراتا ہے پس وہ بھلی بات آگے پہنچاتا ہے یا بھلی بات کہتا ہے۔‘‘
نیز ارشاد نبوی ہے:
لَا یَحِلُّ الْکَذِبُ إِلَّا فِیْ ثَلَاثٍ اَلرَّجُلُ یُحَدِّثُ امْرَأَتَہُ لِیُرْضِیَہَا، وَ الْکٰذِبُ فِی الْحَرْبِ، وَالْکَذِبُ لِیُصْلِحَ بَیْنَ النَّاسِ۔
(سنن أبی داؤد: مع عون المعبود: جلد 13 صفحہ 263، حدیث نمبر 4900)
’’جھوٹ صرف تین چیزوں میں جائز ہے، آدمی کا اپنی بیوی کو راضی کرنے کے لیے گفتگو میں جھوٹ بولنا، جنگ میں جھوٹ، لوگوں کے مابین صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنا۔‘‘
ایسا اس لیے ہے کہ مسلمانوں کا باہمی اختلاف و انتشار بہت خطرناک چیز ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے:
إِیَّاکُمْ وَ سُوْئَ ذَاتِ الْبَیْنِ فَإِنَّہَا الْحَالِقَۃُ۔
(سنن الترمذی: حدیث نمبر 2508، امام ترمذیؒ کہتے ہیں کہ یہ صحیح حدیث ہے)
’’باہمی بگاڑ اور اختلاف سے بچو، بلاشبہ یہ چیز ہلاک و برباد کرنے والی ہے۔‘‘
یعنی ایسی چیز جو دین کو ختم کر دے جس طرح استرا بالوں کو ختم کر دیتا ہے۔
(جامع الأصول: لابن الاثیر: جلد 6 صفحہ 668)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کے اجر عظیم کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:
أَ لَا أُخْبِرُکُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَۃِ الصِّیَامِ وَ الصَّلَاۃِ وَ الصَّدَقَۃِ؟ قَالُوْا: بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: إِصْلَاحٌ ذَاتِ الْبَیْنِ فَإِنَّ فَسَادٌ ذَاتِ الْبَیْنِ ہِیَ الْحَالِقَۃُ۔
(سنن الترمذی: حدیث نمبر 2509، امام ترمذیؒ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔)
’’کیا میں تمھیں روزہ، نماز اور زکوٰۃ سے بہتر چیز نہ بتلا دوں؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، آپﷺ نے فرمایا: وہ باہمی صلح اور میل ملاپ ہے، بلاشبہ باہمی بگاڑ ہلاک و برباد کر دینے والی چیز ہے۔‘‘
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے نواسے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں بڑی امید تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
اس باہمی اختلاف کو ختم کر کے صلح کرائے گا جس اختلاف کے سیدنا حسنؓ کی وفات کے بعد وقوع پذیر ہونے کی خبر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دے رکھی تھی۔ چنانچہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے:
قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ وَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ إِلَی جَنْبِہِ وَ ہُوَ یُقْبِلُ عَلَی النَّاسِ مَرَّۃً وَ عَلَیْہِ أُخْرَی وَیَقُوْلُ: إِنَّ ابْنِیْ ہَذَا سَیِّدٌ وَّ لَعَلَّ اللّٰہَ أَنْ یُّصْلِحَ بِہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ عَظِیْمَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 7109)
’’کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر دیکھا آپﷺ کی بغل میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما تھے۔ آپﷺ ایک بار لوگوں کی جانب متوجہ ہوتے، دوسری بار ان کی جانب، اور کہہ رہے تھے: میرا یہ لاڈلا سردار ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے مابین صلح کرائے۔‘‘