رسول اللہﷺ کی وصیت درباره ممانعت جزع و فزع
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہاس بارے میں ناطق فیصلہ آنحضرتﷺ کی آخری وصیت ہے جو بوقتِ وفات آپﷺ نے اپنی جگر گوشہ حضرت فاطمہؓ کو فرمائی۔ چنانچہ شیعہ کی معتبر کتاب جلاء العیون اردو: جلد، 1 صفحہ، 66 میں لکھا ہے:
اے فاطمہؓ واضح ہو کہ پیغمبر کے لیے گریبان چاک نہ کرنا چاہیے اور بال نوچنے نہ چاہئیں اور واویلا نہ کہنا چاہیے لیکن وہ کہنا جو تیرے باپ نے اپنے بیٹے حضرت ابراہیمؓ کے مرنے میں کہا کہ آنکھیں روتی ہیں اور دل درد میں آتا ہے اور میں نہیں کہتا ہوں کہ موجبِ غضب پروردگار ہو اور اے ابراہیم میں تجھ پر اندوہناک ہوں ۔
نیز اسی کتاب کے صفحہ، 67 میں یوں لکھا ہے:
ابن بابویہ نے بسندِ معتبر سیدنا محمد باقرؒ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے وقتِ وفات سیدہ فاطمہؓ سے کہا اے فاطمہؓ جب میں مر جاؤں اس وقت تو اپنے بال میری مفارقت سے نہ نوچنا اور اپنے گیسو پریشان نہ کرنا اور واویلا نہ کہنا اور مجھ پر نوحہ نہ کرنا اور نوحہ کرنے والوں کو نہ بلانا۔
(ایسا ہی شیعہ کی مستند کتاب حدیث فروع کافی: جلد، 2 صفحہ، 214 میں ہے:
قال النبیﷺ عند وَفَاتِه لِفَاطِمَةَ لَا تَمْشِی عَلىَّ وَجْهِهَا وَلَا تُوخی عَلَیَّ شَهْرًا وَلَا تنَادِى بِالْوَيْلِ وَلَا تُقِيمِی عَلَىَّ نَائِحَةً۔
ترجمہ: رسول اللہﷺ نے بوقتِ وفات سیدہ فاطمہؓ کو فرمایا میری وفات پر منہ نہ پیٹنا، بال نہ بکھیرنا، واویلا نہ کرنا، اور نوحہ نہ کرنا۔
اس سے زیادہ صریح فیصلہ ممانعت ماتم کے متعلق کیا ہو سکتا ہے کہ حضورﷺ اپنی پیاری بیٹی سیدہ فاطمہؓ کو وصیت فرماتے ہیں کہ میری وفات کا تم کو صدمہ عظیم ہوگا لیکن جہاں کی طرح جزع و فزع مت کرنا، نہ سر پیٹنا، نہ گریبان چاک کرنا، نہ واویلا کرنا اور نہ نوحہ کرنا، نہ نوحہ گروں کو گھر میں داخل ہونے دینا اگر یہ امور باعثِ ثواب ہوتے تو حضورﷺ بجائے ممانعت کے سیدہ فاطمہؓ کو اذن عام دیتے کہ اپنے والد سردارِ دو عالمﷺ کا ماتم خوب زور شور سے کرنا خود بھی سر پیٹ کر اور سینہ زنی کر کے قیامت برپا کرنا، اطراف سے نوحہ گروں کو جمع کر کے خوب حق ماتم ادا کرنا جب آپﷺ نے ان امور سے سخت ممانعت فرمادی تو معلوم ہوا کہ یہ جملہ حرکاتِ ممنوع ناجائز داخل معصیت ہیں ان کے کرنے سے بجائے ثواب کے عذاب ہوتا ہے بلکہ میت کو بھی ایذاء ہوتی ہے جلاء العیون: صفحہ، 77 میں ہے کہ آنحضرتﷺ نے جو آخری وصیت اہلِ بیتؓ و اصحاب کو فرمائی اس میں یہ الفاظ بھی تھے:
پس تم لوگ فوج فوج اس گھر میں آنا اور مجھ پر صلوٰت بھیجنا اور سلام کہنا اور
مجھ کو نالہ و فریاد و گریہ وزاری سے ایذاء نہ دینا۔
ایک اور حدیث فروع کافی جلد میں یوں درج ہے: