ثالثا مسلمانوں کی خونریزی کو روکنا
علی محمد الصلابیسیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے: میں اس بات سے ڈر رہا ہوں کہ قیامت کے دن ستر ہزار یا کچھ کم و بیش لوگ اس حال میں آئیں کہ ان کی رگوں سے خون جاری ہو اور سب کے سب خونریزی کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے بدلہ دلانے کا مطالبہ کریں۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 206)
نیز انھی کا قول ہے:
’’بلاشبہ اللہ کا حکم اگرچہ لوگ ناپسند کریں نافذ ہو کر رہے گا، مجھے یہ چیز بالکل پسند نہیں کہ میں امت محمدیہ کی کوئی ایسی ادنیٰ ذمہ داری لوں جس میں معمولی بھی خونریزی ہو، میں اپنا فائدہ اور نقصان سمجھتا ہوں تم سب اپنا راستہ لو۔‘‘
(تاریخ دمشق: جلد 14 صفحہ 89)
آپ نے اپنی اس تقریر میں جس میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت سے دست برداری کا اعلان کیا تھا فرمایا تھا:
’’حق خلافت اگر میرا تھا تو میں امت کی بھلائی اور خون ریزی سے بچاؤ کی خاطر اسے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے چھوڑ رہا ہوں۔‘‘
(المعجم الکبیر للطبرانی: جلد 3 صفحہ 26، اس کی سند حسن ہے۔)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی گفتگو اللہ تعالیٰ سے آپ کے شدید خوف پر غماز ہے، اسی خوف نے آپ کو صلح پر آمادہ کیا، اور اللہ تعالیٰ نے خوف الہٰی پر اپنے انبیاء و اولیاء کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:
اِنَّهُمۡ كَانُوۡا يُسٰرِعُوۡنَ فِىۡ الۡخَيۡـرٰتِ وَ يَدۡعُوۡنَـنَا رَغَبًا وَّرَهَبًا وَكَانُوۡا لَنَا خٰشِعِيۡنَ ۞ (سورۃ الانبیاء آیت 90)
ترجمہ: یقیناً یہ لوگ بھلائی کے کاموں میں تیزی دکھاتے تھے، اور ہمیں شوق اور رعب کے عالم میں پکارا کرتے تھے، اور ان کے دل ہمارے آگے جھکے ہوئے تھے۔
وَالَّذِيۡنَ يَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ وَيَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ وَ يَخَافُوۡنَ سُوۡۤءَ الۡحِسَابِ۞ (سورۃ الرعد آیت 21)
ترجمہ: اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے، یہ لوگ انہیں جوڑے رکھتے ہیں، اور اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں، اور حساب کے برے انجام سے خوف کھاتے ہیں۔
اللہ کا خوف ہی علم پر ابھارتا ہے، تمام نفسانی خواہشات کو مکدر کرتا ہے، دل کو دنیا سے بے رغبت کرتا ہے اور دنیا سے دور رہنے کی دعوت دیتا ہے، نہ وہ نفسیاتی گفتگو، جس کی گناہوں سے روکنے اور اچھے کاموں کو بجا لانے میں کوئی تاثیر نہ ہو اور نہ ہی وہ مایوسی جو ناامیدی کا باعث ہو۔
(جامع العلوم و الحکم: صفحہ 363، الإیمان أولا: صفحہ 117)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے قربتِ الہٰی کی غرض سے مسلمانوں کو خونریزی سے بچانا چاہا، قیامت کے دن خونریزی سے متعلق اللہ کے محاسبہ سے ڈر گئے، چاہے اس کے لیے خلافت چھوڑنا ہی پڑے، چنانچہ اسی چیز نے آپ کو صلح پر آمادہ کیا۔
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو مسلمانوں کی خونریزی کی خطرناکی کا اچھی طرح احساس تھا، اس لیے کہ وہ سب سے خطرناک چیز ہے، جو انسانیت کے وجود کو ہلا کر رکھ دیتی ہے، بنا بریں اس کی حرمت، اس پر وعید اور اس کی سزا کتاب و سنت کے بہت سارے نصوص میں وارد ہے، قیامت کے دن سب سے پہلے خون کے فیصلے کیے جائیں گے، اس سے قتل نفس کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے، امام بخاری رحمۃاللہ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث نقل کی ہے، کہتے ہیں:
قَالَ النَّبِیُّ صلي الله عليه وسلم أَوَّلُ مَا یُقْضَی بَیْنَ النَّاسِ فِی الدِّمَائِ۔
(صحیح البخاری: کتاب الدیات حدیث نمبر 6864)
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے مابین سب سے پہلے خونوں سے متعلق فیصلے کیے جائیں گے۔‘‘
قیامت کے دن خون کا معاملہ بہت عظیم ہوگا، دنیا میں خون کی حفاظت کے لیے کام کرنا شریعت کا ایک اہم مقصد ہے۔اسی لیے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے خون کی حفاظت کے لیے صلح کے حریص تھے۔
اسلامی شریعت (جس کی پوری سمجھ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو حاصل تھی) نے نفس انسانی کو بڑی اہمیت دی ہے، چنانچہ ایسے احکام کو مشروع قرار دیا ہے، جن سے اس کی مصلحتیں حاصل ہوتی ہے اور نقصانات دور ہوتے ہیں، شریعت نے ایسا اس کی حفاظت، بچاؤ اور اس پر ظلم سے روکنے کے لیے کیا ہے، اس لیے کہ انسانی جانوں کے ضائع اور ہلاک ہونے سے اللہ کی عبادت کے مکلف لوگ ہلاک ہوں گے جس کا آخری نتیجہ دین کا ضیاع ہوگا اور جن نفوس کی حفاظت کا شریعت نے اہتمام کیا ہے وہ وہی نفوس ہیں جو اسلام لا کر جزیہ و امان سے محفوظ ہیں۔
(روضۃ الطالبین: جلد 9 صفحہ 148، مقاصد الشریعۃ للیوبی: صفحہ 211)
بنا بریں صلح پر بعض اعتراض کرنے والوں نے جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے ’’یا عار المؤمنین‘‘ (اے مومنوں کے لیے باعث شرم) کہا تو سیدنا حسنؓ نے اس کے جواب میں کہا:’’للعار خیر من النار۔‘‘
(تاریخ دمشق: جلد 14 صفحہ 88)
(باعث شرم ہونا جہنم کی آگ سے بہتر ہے)۔
ابن سعدؒ کی روایت میں ہے:
إِنِّی اخْتَرْتُ الْعَارَ عَلَی النَّارِ۔
(الطبقات تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 329، اس کی سند ضعیف ہے۔)
ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اپنے متبعین سے مناقشہ کرتے، صلح کے اسباب کو بیان کرتے اور اس پر مقتنع کرنے کی کوشش کرتے تھے، آپ ایسے نہیں تھے کہ لوگ جہاں چاہیں آپ کو لے جائیں، اور جس کا وہ مطالبہ کریں وہ آپ کرنے کے لیے تیار ہو جائیں، بلکہ حقائق کی سمجھ اور اپنے خیالات و افکار کے مطابق آپ نے اپنا راستہ متعین کیا، اللہ کی رضا اور مسلمانوں کی مصلحت والے راستوں پر چلتے ہوئے لوگوں کے دباؤ کو قبول نہیں کیا، یہ بہت سارے اسلامی قائدین کے لیے بہت بڑا سبق ہے، کہ قائد ہی کو عام لوگوں کی قیادت کرنی چاہیے اور انھیں ان کے مقاصد تک پہنچانا چاہیے۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ جن حالات سے دوچار تھے ان حالات میں قائدین کے سامنے تین چیزیں ہوتی ہیں:
1۔ جسے عام لوگ چاہیں وہی وہ کریں۔
2۔ یا وہ کسی کا خیال نہ کریں اور نہ ہی کسی کا جواب دیں۔
3۔ حق اور درست بات پر عمل کریں اور عام لوگوں کو اس حق بات کے لیے مقتنع کریں۔
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے تیسرا طریقہ اپنایا تھا، یعنی حق اور درست بات پر عمل کرنا، اور لوگو ں کو اپنے متعین کردہ اعلیٰ مقاصد کی جانب لے جانا، اسی لیے صلح سے متعلق واضح تصور، چند مرحلوں میں عملی تدابیر اور تمہیدات کو پیش کیا، کچھ شرطیں رکھیں، اس سلسلے کی رکاوٹوں کو دور کر لیا اور اپنی رائے پر مخالفین کو قانع کرنے کا اہتمام کیا، یہی درست بات تھی۔ واللہ اعلم