Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

رابعا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا اتحاد امت کے لیے حریص ہونا

  علی محمد الصلابی

صلح کے ایک مرحلے میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا:

’’لوگو! مجھ میں کسی مسلمان کے لیے کوئی حسد و کینہ نہیں، میں تمھیں اپنا سمجھتا ہوں، میری ایک رائے ہے تم میری رائے کو رد نہ کرو، جس اتفاق و اتحاد کو تم ناپسند کرتے ہو، وہ اس اختلاف سے بہتر ہے جسے تم پسند کرتے ہو۔‘‘

(الأخبار الطوال: صفحہ 200)

اللہ کے فضل و کرم پھر اتحاد امت کے لیے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے حریص ہونے کے باعث وہ عظیم مقصد حاصل ہو گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی رائے یہ ٹھہری کہ خلافت سے دست بردار ہو جائیں تاکہ مسلمانوں کی خونریزی روکی جا سکے، اور فتنے کے استمرار، خون بہنے، رشتے داریوں کے ٹوٹنے، باہمی روابط خراب ہونے، سرحدوں کے غیر محفوظ ہونے وغیرہ جیسی عظیم خرابیوں سے بچا جا سکے، اور بحمداللہ ایک ختم ہو جانے والے دنیوی مفاد سے تنازل کے نتیجے میں امت میں اتحاد ہو گیا، اس لیے اس سال کو ’’عام الجماعۃ‘‘ (اتحاد کا سال) کہا جاتا ہے۔

(اعتبار المآلات و مراعاۃ نتائج التصرفات: صفحہ 167)

یہ حسن رضی اللہ عنہ کی بہترین فہم کی دلیل ہے کہ آپ انجام و نتائج کے اعتبار و رعایت کو اچھی طرح جانتے تھے، اور اس طرح کی اچھی سمجھ کے قرآن مجید میں بہت سارے مظاہر و دلائل ہیں، اللہ تعالیٰ نے نتائج کے تقاضوں کے مطابق بعض احکام مرتب کیے ہیں اس کی مثالیں درج ذیل ہیں: