Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت حسینؓ کی آخری وصیت

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

شیعہ کی معتبر کتاب انارۃ البصائر: صفحہ، 297 میں ہے کہ جناب سید الشہداء سیدنا حسینؓ نے کربلائے معلیٰ میں اپنی ہمشیرہ سیدہ زینبؓ کو فرمایا کہ اے بہن جو میرا حق تم پر ہے اس کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ میری مصیبت مفارقت پر صبر کرو پس جب میں مارا جاؤں تو ہرگز منہ نہ پیٹنا اور بال اپنے نہ نوچنا اور گریبان چاک نہ کرنا کہ تم فاطمۃ الزہراءؓ کی بیٹی ہو جیسا انہوں نے پیغمبرِﷺ کی مصیبت میں صبر فرمایا تھا اسی طرح تم بھی میری مصیبت میں صبر کرنا۔

اس سے زیادہ واضح دلیل اس امر کی کہ شہداءِ کربلا کی مصیبت میں منہ پیٹنا سینہ کوبی کرنا ناجائز ہے اور کیا ہو سکتی ہے کہ خود سیدُ الشہداء نے اپنی ہمشیرہ کو آخری وقت میں یہ وصیت فرمادی کہ میری شہادت پر جزع و فزع نہ کرنا، نہ پیٹنا، نہ بال نوچنا، نہ گریبان چاک کرنا، بلکہ ایسا ہی صبر کرنا جیسا کہ سیدہ فاطمہؓ نے وفاتِ رسولﷺ پر صبر کیا پھر جو لوگ اس کے خلاف ماتمِ حسینؓ میں اس قدر طوفان بے تمیزی برپا کرتے ہیں کہ عورتیں مرد جمع ہو کر سینہ کوٹتے، منہ پیٹتے، ہائے وائے کی دوہائی سے زمین ہلا دیتے ہیں یہ سیدُ الشہداء حضرت حسینؓ ہی کے حکم کی نافرمانی کرتے اور خدا اور رسولﷺ کو ناراض کرتے ہیں۔ 

نہ اس پر بھی اگر سمجھو تو پھر تم سے خدا سمجھے!

فی زماننا جو رواج ہو گیا ہے کہ مجلسِ ماتم میں جوان مرد اور جوان عورتیں زرق برق پوشاکیں پہنے آنکھوں میں کاجل لگائے بالوں کو معطر تیل لگا کر کنگھی پٹی کیسے ایک دوسرے کی دید بازی کے لیے جمع ہو جاتے ہیں اور راگ ممنوع میں سر اور تال سے مرثیہ خوانی ہوتی اور سینہ زنی کی جاتی ہے اور تعزیہ پر نذر و نیاز چڑھائے جاتے ہیں سجدے ہوتے اور عرضیاں گزاری جاتی ہیں یہ سب شرک و بدعت ہے جس کی مخالفت نہ صرف کتبِ اہلِ سنت بلکہ کتبِ اہلِ تشیع میں بھی بالتصریح لکھی ہے چنانچہ شیعہ کی ایک نہایت معتبر تفسیر عمدۃ البیان مطبع یوسفی دہلی کے صفحہ 328 میں ذیل آیت وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ یوں لکھا ہے:

یہ آیت حقیقت میں سیدنا حسینؓ کے حق میں نازل ہوئی ہے اس واسطے کہ جو کچھ آیت میں ہے وہ ان کے حال پر صادق آتا ہے اور دوسرے شخص کو ہم ایسا نہیں کہتے ہیں اور یہ معرکہ آنحضرتﷺ کا بڑا معرکہ ہے رونا رلانا ان کی مصیبت پر ثواب عظیم رکھتا ہے لیکن اکثر آدمی محرم میں بدعت کر کے ثواب کو ضائع کرتے ہیں باجے بجاتے اور بجواتے ہیں اور مرثیوں میں جھوٹی حدیثیں اپنی طرف سے ایجاد کر کے داخل کرتے ہیں اور غلو اور تنقیص کی روایتوں کو مجلسوں میں بیان کر کے لوگوں کے ایمانوں کو فاسد کرتے ہیں اور جو راگ کہ شرع میں ممنوع ہیں اس میں مرثیوں کو پڑھتے ہیں اور عورتیں بلند آواز سے مرثیوں کو پڑھتی ہیں اور نامحرم ان کی آواز کو سنتے ہیں ان امور میں مؤمنین کو اجتناب لازم ہے اور تعزیوں پر محتاج آدمی تو اپنی احتیاج کی عرضیاں باندھتے ہیں اور یا کاغذ کی روٹی کتر کر باندھتے ہیں اس مراد سے کہ اگر میری آسودگی اور فراغت ہوئی تو میں چاندی کی روٹی گھڑوا کر تعزیہ پر چڑھاؤں گا اور بے اولاد آدمی کاغذ کا لڑکا کتر کر تعزیہ پر باندھتے ہیں اس ارادہ سے کہ اگر ہمارے بیٹا پیدا ہو گا تو ہم چاندی کا لڑکا گھڑوا کر تعزیہ پر چڑھائیں گے اول یہ کہ تصویرِ انسانی ہے اور تصویر کے بنانے سے اجتناب لازم ہے اور سوال اس کے حاجت کا طلب کرنا پروردگار سے چاہیے کہ وہ قاضی الحاجات ہے نہ غیر اُس کا ہاں حضراتِ ائمہ معصومین سے شفاعت کا چاہنا کہ خدا تعالیٰ ہماری شفاعت کو بر لائے اور ان کے واسطے سے دعا مانگنا موجبِ قضائے حاجت اور موجبِ حصولِ مقصد ہے جیسے کہ حدیث میں وارد ہوا ہے اور بعض جہلاء تعزیہ کو سجدہ کرتے ہیں یہ طریقہ کفار و مشرکین کا ہے اس سے پرہیز کرنا واجب ہے اور تعزیہ و علم پر زیارت کا پڑھنا نہ چاہیے البتہ اگر کربلائے معلیٰ کی طرف منہ کر کے حضرت حسینؓ کے روضہ کی نیت سے زیارت پڑھے تو مضائقہ نہیں ہے۔

دیکھیے سید عماد علی جو ایک غالی شیعہ ہے وہ بھی اپنی کتاب میں بدعاتِ تعزیہ کی سخت مذمت کرتا ہے کیا شیعہ ان بدعات سے باز آئیں گے؟ یہ ماتم بھی عجیب ہے کہ ڈھول بجا کر گتکہ بازی کی جاتی ہے تعزیہ کے ساتھ شاہدانِ بازاری کا اجتماع ہوتا ہے جو سر و پا برہنہ تعزیہ کے آگے سلامی کرتی جاتی ہیں دید باز لوگ اس دلفریب منظر کو غنیمت سمجھ کر حظ اٹھاتے ہیں کیا یہ یزیدی گروہ کے جشن کی نقالی نہیں ہے جنہوں نے سیدنا حسینؓ کو شہید کرا کے ڈھول و باجے بجائے اور محفل ہائے شادمانی قائم کیں ہاں ہمیں یہ تو بتایا جائے کہ قاتلانِ حسینؓ کون لوگ تھے؟ جس پر کتبِ شیعہ بالاتفاق شاہد ہیں۔