بہت بلند آواز سے یا بالکل پست قرأت سے ممانعت
علی محمد الصلابیارشاد ربانی ہے:
وَلَا تَجۡهَرۡ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتۡ بِهَا وَابۡتَغِ بَيۡنَ ذٰلِكَ سَبِيۡلًا ۞(سورۃ الإسراءآیت 110)
ترجمہ: اور تم اپنی نماز نہ بہت اونچی آواز سے پڑھو، اور نہ بہت پست آواز سے، بلکہ ان دونوں کے درمیان (معتدل) راستہ اختیار کرو۔
اللہ تعالیٰ نے انجام کا لحاظ کرتے ہوئے اپنے نبی کو نماز میں بہت بلند آواز میں قرأت کرنے سے روک دیا، ا س لیے کہ مشرکین جب آپﷺ کی قرأت سنیں گے تو یہ چیز انھیں اللہ کی شان میں گستاخی، اس کی کتاب اور دین کو برا بھلا کہنے پر ابھارے گی۔
(اعتبار المآلات و مراعاۃ نتائج التصرفات: صفحہ 125)
اس آیت کے نزول کے سلسلے میں ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جس زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت خفیہ تھی کفارِ مکہ جب تلاوتِ قرآن سنتے تھے تو قرآن، اس کے نازل کرنے والے، اور اس کے لانے والے (یعنی جبرئیل علیہ السلام ) کو برا بھلا کہتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے نبی کو حکم دیا (وَلَا تَجۡهَرۡ بِصَلَاتِكَ) یعنی نماز میں آپﷺ اپنی تلاوت بہت بلند آواز میں نہ کریں کہ اس کو سن کر مشرکین قرآن کو بر ابھلا کہیں، (وَلَا تُخَافِتۡ بِهَا) اور نہ بہت ہی پست آواز میں کریں کہ آپﷺ کے صحابہ نہ سن سکیں، (وَابۡتَغِ بَيۡنَ ذٰلِكَ سَبِيۡلًا)
(أسباب النزول للواحدی: صفحہ 223، 224)
اس کے درمیان کا راستہ تلاش کر لیں۔