شیعیان کوفہ کی خط و کتابت
قاضی مظہر حسینشیعہ کی مستند کتاب اخبارِ ماتم مطبوعہ رام پور صفحہ 257 میں لکھا ہے:
بَلَغَ اهْلَ الْكُوفَةِ هِلَاكُ مُعَاوِيَةَ وَعَرَفُوا خَبرَ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَاجْتَمَعُتِ الشَّيْعَةُ فَكَتَبُوا الَيْهِ ثُمَّ سَرَحُوا بِالْكِتبِ مَعَ عَبْدِ اللّٰهِ ابْنِ مِسْمَعَ وَعَبْدِ اللّٰهِ ابْنِ وَالٍ فَخَرَجًا مُسْرِعِيْنَ حَتّٰى قَدِمَا عَلَى الْحُسَيْنِ بِمَائَةَ مِنْ عَشْرِ مَضَيْنَ مِنْ شَهْرٍ رَمَضَانَ۔
ترجمہ: جب سیدنا امیرِ معاویہؓ کی خبر وفات اہلِ کوفہ کو پہنچی اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی ہجرتِ مکہ کا حال معلوم ہوا تو تمام شیعہ نے مجتمع ہو کر بالاتفاق آپ کی طرف خط لکھا اور عبداللہ بن مسمع اور عبداللہ بن دال کے ہاتھ وہ خط روانہ کیا یہ دونوں قاصد دوڑتے ہوئے مکہ معظمہ میں 10 رمضان کو امام صاحب کی خدمت میں پہنچے یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا کہ ایک دن میں 600 خطوط آپ کی خدمت میں پہنچے اور بالآخر ان کی تعداد بارہ ہزار تک پہنچ گی چنانچہ کتاب مذکور کے صفحہ مذکورہ میں ہے: فَوَرَدَ عَلَيْهِ فِی يَوْمٍ وَاحِدٍ سِتَّةُ مِائَةٍ كِتَابِ وَتَوَاتَرَاتِ الْكِتبُ حَتّٰى اجْتَمَعَ عِندَهُ اثْنَا عَشَرَ الْفَ كِتَابٍ۔
ترجمہ: یعنی امام صاحب کے پاس متواتر خط شیعوں کے مختلف جگہ سے بارہ ہزار جمع ہو گئے اور شعمی نے روایت کی ہے:
وَبَايَعَ الْحُسَيْنُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ارْبَعُونَ الْفًا مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ عَلٰى أَنْ يُحَارِبُوا مَنْ حَارَبَ وَيُسَالِمُوا مَنْ سَالَمْ۔
ترجمہ: یعنی چالیس ہزار کوفہ کے شیعیان نے امام صاحب کی بیعت اس بات پر کی کہ اگر وہ لڑیں گے تو ہم لڑیں گے اگر وہ صلح کریں تو ہم ہر حال میں اُن کے تابعدار اور مطیع ہیں آخر الامر امام صاحب نے مجبور ہو کر ان کی آرزو کے مطابق خط روانہ کیا۔
فَعِنْدَ ذَالِكَ رَدَّ جَوَابَ كُتبِهِمْ بِمَنِيْهِمْ بِالْقُبُولِ بَعْدِهِمْ بِسُرْعَةِ الْقُبُولِ۔
ترجمہ: یعنی امام صاحب کے ان کے خطوط کا جواب مطابق ان کی دلی خواہش کے روانہ فرمایا اور وعدہ بہت جلدی کوفہ میں تشریف فرمانے کا دیا اور سفرِ کوفہ کا قصد معصم امام صاحب کا ہوا۔
شیعہ کی معتبر کتاب خلاصۃ المصائب: صفحہ 41 میں ہے کہ جب حضرت حسینؓ، ظلمِ اعداء سے تنگ آکر مرقد مطہر رسول اللہﷺ سے جدا ہوئے تیسری تاریخ شعبان کو مکہ معظمہ میں کوفیان پر دغانے نامے علی الاتصال حضرت کی خدمت میں بھیجے بعض ناموں کا مضمون یہ تھا: لَيْسَ عَلَيْنَا امَامٌ فَاقْبِلُ لَعَلَّ اللّٰهَ اِنْ يَجْمَعُنَا بِكَ عَلَى الْحَقِّ۔
ترجمہ: یعنی اے حضرت ہم امام و پیشوا نہیں رکھتے جلدی تشریف لائیے شاید خدا حق کو ہمارے ہاتھ جاری کر دے اور شیث بن ربعی وغیرہ شیعہ نے بایں طور خط لکھ کر روانہ کیا: اَمَّا بَعْدُ فَقَدِ اخْضَرَّتِ الْجَنَّاتُ وَانْبَعَثَ الشِّمَارُ فَاَقْدَمُ عَلَيْنَا لَکَ علیٰ جُندٍ وَالسَّلَامُ۔
ترجمہ: بعد حمد وصلوٰۃ کے تحقیق صحراء و بیابان سبز و خزمی میں ہیں اور درخت میوہ جات بار آور ہیں پس آپ ہماری طرف تشریف لائیے کہ فوج کثیر آپ کی نصرت وامداد کے لیے تیار ہے اور شب و روز انتظار کرتے ہیں۔
نیز کتاب مذکور صفحہ 56 میں ہے کہ جب سیدنا حسینؓ کو راستہ میں خبر شہادتِ امام کی ہوئی تو آپ نے تمام لشکر کو جمع کیا اور فرمایا: وَقَدْ خَذَلَنَا شِيعَتُنَا فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمُ الْاِنْصَرَافَ فِي غَيْرِ حَرَجٍ لَيْسَ عَلَيْهِ زَمَامٌ۔
اس عبارت سے صاف معلوم ہوا کہ آپ کو ذلیل وخوار کرنے والے شیعہ ہی لوگ تھے کیونکہ آپ نے فرمایا بیشک ہمیں ہمارے شیعہ نے بلا کر خوار کیا اور نصرت سے ہاتھ اٹھالیا پس اب جو چاہے چلا جائے جو چاہے ہمارے ساتھ رہے جو چلا جائے اُسے کچھ حرج نہیں ہو گا اُس کے آگے لکھا ہے کہ سیدنا حسینؓ سے یہ بات سن کر بہت سے دنیا پرست لوگ آپ سے علیحدہ ہو گئے جو مدینہ سے آپ کے ساتھ آئے انہوں نےشہادت پائی حضرت حسینؓ نے بعد نماز جو خطبہ پڑھا اس میں یہ الفاظ تھے:
يَا اَيُّهَا النَّاسُ اِنِّی لَمُ اتِكُمْ حَتّٰى التَتنِی كُتُبُكُمْ وَإِنْ كُنتُمْ كَارِهِينَ لِمَقْدِمْی انْصَبرَفت عَنكُمْ۔
ترجمہ: اے اہلِ کوفہ میں نہیں آیا مگر جب تمہارے بہت نامے میری طلب کو پہنچے اگر تم عہد و پیمان پر ثابت ہو تو تازہ عہد کرو تاکہ مجھے اطمینان ہو اور اگر تم میرے آنے کو نا پسند کرتے ہو تو میں جہاں سے آیا ہوں وہاں پھر جاؤں۔