حضرت خضر علیہ السلام کا کشتی میں سوراخ کرنا
علی محمد الصلابیاللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اَمَّا السَّفِيۡنَةُ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِى الۡبَحۡرِ فَاَرَدْتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَكَانَ وَرَآءَهُمۡ مَّلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ۞( سورۃ الكهف آیت 79)
ترجمہ: جہاں تک کشتی کا تعلق ہے وہ کچھ غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں مزدوری کرتے تھے، میں نے چاہا کہ اس میں کوئی عیب پیدا کردوں، (کیونکہ) ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر (اچھی) کشتی کو زبردستی چھین کر رکھ لیا کرتا تھا۔
کسی دوسرے کی ملکیت میں ناحق تصرف کرنا شرعاً قطعی طور پر ممنوع ہے، لیکن خضر علیہ السلام نے کشتی میں سوراخ کر دیا جو بظاہر عیب دار کرنا اور کشتی والوں کو نقصان پہنچانا ہے، جب موسیٰ علیہ السلام نے ان کے اس فعل پر اعتراض کیا، اور اہل سفینہ کی بھلائی یاد دلائی کہ انھوں نے بغیر اجرت سوار کیا تھا تو ان سے اس بات کی وضاحت کی کہ اس چھوٹی خرابی کا ارتکاب ایک بڑی خرابی کو دور کرنے کے لیے کیا گیا ہے، اور وہ بڑی خرابی کشتی کا زبردستی چھن جانا تھا، اس لیے کہ ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر صحیح و سالم کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ فوری طور سے کسی چھوٹے نقصان کا ارتکاب مستقبل کی کسی بڑی خرابی کو روک دے تو یہ قابل تعریف چیز ہے، شریعت نے نتائج کی رعایت کرتے ہوئے متوقع بڑی خرابیوں کو روکنے کا اہتمام کیا ہے، چاہے انھیں فوری طور پر چھوٹی خرابیوں کے ارتکاب سے روکا جائے، کشتی میں سوراخ کرنے اور اسے عیب دار کرنے کی خرابی کو اس کی اصلاح کر کے ٹھیک کیا جاسکتا تھا، جب کہ کشتی ہاتھ سے چلے جانے کے بعد اس کی واپسی کی کوئی امید نہیں رہ جاتی۔
(اعتبار المآلات و مراعاۃ نتائج التصرفات: صفحہ 126)