زکوٰۃ سے بچنے کے لئے آپ کو شیعہ لکھوانے والوں سے کیا تعلق رکھیں
سوال: عرض یہ ہے کہ میرے بڑے سالے نے فِکس ڈپوزٹ میں کچھ رقم جمع کرائی، اس رقم پر نفع حاصل کرنے کے لیے، اور انہوں نے اس رقم کی جو نفع تھی زکوٰۃ کٹوانے کے لئے اپنے آپ کو شیعہ بنایا اور حلف نامہ جمع کرایا جس کی وجہ سے اب ان کی زکوٰۃ نہیں کٹتی۔ انہوں نے اپنے والد اور والدہ کو بھی اس چیز پر مجبور کرکے حلف نامہ جمع کرایا کہ ہم شیعہ ہیں ہم زکوٰۃ نہیں کٹوائیں گے۔ لہٰذا یہ تمام لوگ اگر حکومت کے سامنے حلف نامے کی روح سے شیعہ ہو گئے ہیں تو میری بیوی جو کہ ان کی بیٹی ہے اور وہ اس چیز سے الگ ہے، اور میرے کہنے پر عمل کرتی ہے۔ آپ بتائیں کہ میں ان کے گھر والوں سے اپنا ملنا جلنا کیسا رکھوں؟
جواب: فِکس ڈپازٹ میں جو رقم جمع کرائی جاتی ہے اس کا منافع سود ہے اس کے لئے اور استعمال کرنے سے توبہ کرنی چاہیے۔
اور زکوٰۃ سے بچنے کے لئے اپنے آپ کو شیعہ لکھوانا سخت گناہ ہے جس سے کفر کا اندیشہ ہے ان کو اس سے توبہ کرنا لازم ہے ایسا نہ ہو کہ ایمان جاتا رہے۔
آپ ان لوگوں کو محبت پیار سے سمجھائیں کہ معمولی فائدے کے لئے اس گناہ کے ارتکاب سے ایک فرقہ خطرہ ہے اگر وہ نہ مانے تو ان سے تعلقات نہ رکھیں۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل: جلد، 2 صفحہ، 74)