احادیث نبویہ میں نتائج کے اعتبار کے مظاہر اور دلائل میں سے بڑی خرابی کو چھوٹی خرابی سے دور کرنا ہے
علی محمد الصلابیاسی کے قبیل سے منافقوں کے قتل سے رک جانا ہے، چنانچہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں: ہم ایک جنگ میں تھے، ایک مہاجر نے دوسرے انصاری کو لات سے مار دیا، پھر تو انصاری انصار کو اور مہاجر مہاجرین کو اپنی مدد کے لیے پکارنے لگا، اسے سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے؟ لوگوں نے بتایا: ایک مہاجر نے دوسرے انصاری کو لات مار دی، جس پر انصاری، انصار کو اور مہاجر مہاجرین کو اپنی مدد کے لیے پکار رہا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دعوہا فانہا منتنۃ‘‘ اس جاہلی عصبیت کو چھوڑ دو، یہ بدبودار چیز ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو انصار زیادہ تھے، بعد میں مہاجرین بھی زیادہ ہو گئے، عبداللہ بن ابی نے (فتنے کی غرض سے) کہا: انھوں نے ایسا کیا ہے؟ اللہ کی قسم مدینہ پہنچ کر عزت والا وہاں سے ذلت والے کو نکال دے گا، اس پر سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے اجازت دے دیں کہ میں اس منافق کی گردن مار دوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
دَعْہُ لَا یَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا یَقْتُلُ أَصْحَابَہُ۔
(صحیح البخاری: کتاب التفسیر حدیث نمبر 4905)
’’اسے چھوڑ دو تاکہ وہ لوگوں سے یہ بتاتا نہ پھرے کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کراتے ہیں۔‘‘
بلاشبہ منافقین کے قتل اور ان کی بیخ کنی میں مسلمانوں کی ظاہری مصلحت تھی، اس سے ان کا معاشرہ فسادی عناصر سے پاک و صاف ہو جاتا، لیکن ایسا کرنے سے مسلمانوں پر لوگوں کا اعتماد متزلزل ہوجاتا، ان سے متعلق لوگوں میں یہ بری بات پھیل جاتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مذہبِ اسلام میں داخل ہونے والوں کا قتل کراتے ہیں، اس بناء پر ان کے قتل سے چشم پوشی، ان کی بیخ کنی کی مصلحتوں سے زیادہ اہم اور اعلیٰ مصلحت ٹھہری، منافقین کے باقی رہنے میں بہت ساری خرابیاں تھیں، جن کاکوئی بھی عاقل انکار نہیں کر سکتا تھا، لیکن انھیں ختم کرنے میں ان سے بھی بڑی خرابی تھی، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکیمانہ نظریہ یہ تھا کہ بڑی خرابی کو چھوٹی خرابی سے دور کیا جائے۔
(اعتبار المآلات ومرعاۃ نتائج التصرفات: صفحہ 138، 139)
نتائج و انجام کی رعایت اور اعتبار کے قبیل سے قواعد ابراہیم علیہ السلام پر تجدید کعبہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ترک کردینا تھا، جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کردہ حدیث نبوی میں ہے کہتی ہیں:
لَوْلَا حَدَاثَۃَ عَہْدِ قَوْمِکِ بِالْکُفْرِ لَنَقَضْتُ الْکَعْبَۃَ وَلَجَعَلْتُہَا عَلَی أَسَاسِ
اِبْرَاہِیْمَ، فَاِنَّ قُرَیْشًا حِیْنَ بَنَتِ الْبَیْتَ اسْتَقْصَرَتْ، وَ لَجَعَلَتْ لَہَا خَلَفًا
(صحیح البخاری: کتاب الحج حدیث نمبر 1585)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: اگر لوگ تازہ تازہ کفر چھوڑ کر اسلام میں داخل نہ ہوئے ہوتے تو میں خانۂ کعبہ کو گرا کر ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر تعمیر کرتا، قریش جب خانۂ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے تو پوری تعمیر سے قاصر رہ گئے اور اس کا ایک حصہ چھوڑ دیا، اس میں ایک دروازہ اور اسی دروازے کے مقابل رکھتا۔‘‘
کعبۂ مشرفہ چوں کہ مؤمنوں کے دلوں کی پرکشش جگہ اور انبیائے سابقین کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے، اس لیے اصل یہی ہے کہ وہ اسی حالت پر باقی رہے، جس پر انبیائے سابقین نے اسے چھوڑا تھا، لیکن زمانۂ جاہلیت میں جب قریش نے اس کی تجدید کرنی چاہی تو ان کے پاس اتنا حلال مال نہیں تھا جو اصلی حالت پر اس کی تعمیر جدید کے لیے کافی ہوتا، چنانچہ اس کی تعمیر ویسی ہی کر سکے جیسی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چاہت تھی کہ قریش جس حصے کی تعمیر نہیں کر سکے تھے اسے پورا کر دیں، لیکن قواعدِ ابراہیم پر خانۂ کعبہ کی تعمیر جدید میں جو مصلحت تھی اسے اس ڈر سے ترک کر دیا کہ خانۂ کعبہ کا احترام دلوں سے جاتا رہے گا، اور اس بات کا بھی خوف تھا کہ لوگ یہ سوچ کر کہ یہ خانۂ کعبہ کے خلاف جرأت اور اس کی حرمت کی پامالی ہے اسلام سے متنفر نہ ہو جائیں۔
(اعتبار المآلات ومرعاۃ نتائج التصرفات: صفحہ 148،149)
انجام و نتائج کی رعایت سے متعلق سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو جو گہرا تفقہ حاصل تھا وہ کتاب و سنت کی روشنی میں آپ کی تربیت کا طبعی نتیجہ تھا، آپ شریعت کے مقاصد سے پوری طرح واقف، شرعی حکم اور امر واقع کے مابین تطبیق پر قادر تھے، سیاست شرعیہ میں آپ کے اجتہادات انوکھے تھے جس نے امت کے اتحاد و اتفاق اور دبدبہ، نیز اس کے تہذیبی و تمدنی کردار کی واپسی کے سلسلے میں وسیع آفاق کھول دیے تھے، ہمیں شدید ضرورت ہے کہ ہم اپنی موجودہ زندگی میں اس گہرے تفقہ کو سمجھیں اور اسی کے مطابق عمل کریں، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ہمیں اتحاد و اجتماعیت یعنی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے اور اختلاف نہ کرنے کی تعلیم دی ہے، جو اسلام کے عظیم ترین اصولوں میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کی سخت تاکید کی ہے، اس کو ترک کرنے والے اہل کتاب وغیرہ کی شدید مذمت کی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بہت سارے عام و خاص موقعوں پر اس کی تاکید ہے۔
(رسالۃ الألفۃ بین المسلمین لابن تیمیۃ: صفحہ 27)
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے اختلاف و گروہ بندی کی سخت مخالفت کی ہے اور اتحاد امت سے متعلق قرآنی تعلیمات پر عمل کیا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَ لَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًاوَكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَكُمۡ مِّنۡهَا كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ۞ وَلۡتَكُنۡ مِّنۡكُمۡ اُمَّةٌ يَّدۡعُوۡنَ اِلَى الۡخَيۡرِ وَيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِوَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ۞وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ تَفَرَّقُوۡا وَاخۡتَلَفُوۡا مِنۡ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡبَيِّنٰتُ وَاُولٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ۞ يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ ۞(سورۃ آل عمران آیت 103 تا 106)
ترجمہ: اور اللہ کی رسی کو سب ملکر مضبوطی سے تھامے رکھو، اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اسے یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطا فرمائی۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی نشانیاں کھول کھول کر واضح کرتا ہے، تاکہ تم راہ راست پر آجاؤ۔ اور تمہارے درمیان ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جس کے افراد (لوگوں کو) بھلائی کی طرف بلائیں، نیکی کی تلقین کریں، اور برائی سے روکیں۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جن کے پاس کھلے کھلے دلائل آچکے تھے، اس کے بعد بھی انہوں نے آپس میں پھوٹ ڈال لی اور اختلاف میں پڑگئے، ایسے لوگوں کو سخت سزا ہوگی۔اس دن جب کچھ چہرے چمکتے ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ پڑجائیں گے۔