خامسا امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کا قتل
علی محمد الصلابیسیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو صلح پر آمادہ کرنے والے اسباب میں سے ایک سبب وہ گھبراہٹ تھی جو والد کے قتل سے سیدنا حسنؓ کو لاحق ہوئی، اس سے عراقی خیمے میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا، اس قتل کے باعث سیدنا حسن رضی اللہ عنہ شدید رنج و غم میں مبتلا ہو گئے، اس عظیم خلیفہ کا ناحق قتل ہوا، خوارج نے اسلام میں سیدنا علیؓ کی سبقت نیز دیگر عظیم فضائل اور اسلام کی گراں قدر خدمات کا لحاظ نہیں کیا، سیدنا علیؓ کی زندگی اچھے خصائل اور مختلف کارناموں سے بھری پڑی ہے، سیدنا علیؓ قومی اور حکومتی سطح پر شرعی احکام کے نفاذ کے لیے زندگی بھر کام کرتے رہے، اس کا لازمی نتیجہ تھا کہ سیدنا علیؓ کی وفات سے مسلمان متاثر ہوں اور سیدنا علیؓ کی وجہ سے جو خلا پیدا ہوا تھا اس کا احساس کریں، آپ کے قتل کا مسلمانوں پر بڑا اثر تھا، سب غم میں ڈوبے ہوئے تھے، آنکھیں اشکبار تھیں، زبانوں سے مدحیہ و دعائیہ کلمات جاری تھے، اسی قتل کے باعث سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی دلچسپی ان عراقیوں سے باقی نہیں رہی، جن کے ساتھ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے بہت اچھا سلوک کیا تھا، اور انھیں اپنی صحبت کا شرف بخشا تھا، انھیں فتنوں اور طمع نے گمراہ کر دیا، وہ صراط مستقیم سے منحرف ہوگئے، سوائے ان لوگوں کے جو اپنے دین اور جانے والے عظیم خلیفہ کے لیے سچے اور مخلص تھے، سیدنا علیؓ کا قتل عہدِ خلافت راشدہ کے حق میں ایک کاری ضرب تھا، اور بعد میں اس کے اسباب زوال میں سے ایک سبب تھا۔