Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا جواب

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ خط حسین ابنِ علیؓ کا مؤمنوں مسلمانوں شیعیانِ کی طرف ہے امابعد قاصدوں اور بے شمار خطوط آنے کے بعد جو تم نے مجھے خط بانی اور سعید کے ہاتھ بھیجا، مجھے پہنچا تمہارے سب خطوط سے مطلع ہوا تم نے سب خطوط میں مجھے لکھا ہے کہ ہمارا کوئی امام نہیں آپ بہت جلدی تشریف لائے خدا آپ کی برکت سے ہم کو بحقِ ہدایت کرے واضح ہو کہ میں بالفعل تمہارے پاس اپنی برادروں پسر ہم محلِ اعتماد مسلم بن عاقل کو بھیجتا ہوں اگر مسلم مجھے لکھے کہ جو تم نے مجھے خطوط میں لکھا ہے مشورہ عقلاء و اشراف و بزرگانِ قوم لکھا ہے اسی وقت میں ان شاء اللہ بہت جلدی تمہارے پاس چلا آؤں گا میں اپنی جان کی قسم کھاتا ہوں امام وہی ہے جو درمیان مردم بکتابِ خدا حکم اور آیت کا قیام کرے اور قدم جادہ شریعت مقدسہ سے باہر نہ رکھے اور لوگوں کو دین حق پر مستقیم رکھے۔

(جلاء العیون: صفحہ، 431)

اس تمام خط و کتابت کے پڑھنے سے واضح ہوتا ہے کہ شیعیانِ کوفہ نے کس منت و سماجت سے ارادت مندانہ اور مخلصانہ خطوط لکھ کر سیدنا حسینؓ کو بلوایا اور آخر انہی بلانے والے مخلص شیعوں نے آپ کو تیغ جفا سے شہید کیا جیسا کہ جلاءُ العیون: جلد، 1 صفحہ، 279 میں تصریح ہے پس بیس ہزار مردم عراقی نے سیدنا حسینؓ سے بیعت کی تھی خود انہوں نے شمشیرِ سیدنا حسینؓ پر کھینچی اور ہنوز بیعت ہائے حسینؓ ان کی گردنوں میں تھی کہ سیدنا حسینؓ کو شہید کیا۔

اس کتاب کے صفحہ 469 میں لکھا ہے کہ امام نے شیعیانِ کوفہ کو میدانِ کربلا میں کہا کہ تم نے مجھے طلب کیا اور اظہارِ محبت کے دم بھرے اور اب میری جان کو قتل کرنا چاہتے ہو اور حالانکہ میری طرف سے کوئی اب تک بیوفائی کی بات بہ نسبت تمہارے واقعہ نہیں ہوئی۔