ماتم حسین رضی اللہ عنہ کی ابتداء
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہکتبِ شیعہ میں اس امر کی بھی تصریح ہے کہ سیدنا حسینؓ مظلوم کو شہید کر دینے کے بعد ماتمِ حسینؓ کرنے والے بھی وہی آپ کے قاتل شیعہ غدارانِ کوفہ تھے چنانچہ شیعہ کی معتبر کتاب اخبار ماتم صفحہ 809 میں ہے: جب امام شہید ہو گئے تو اہلِ کوفہ وغیرہ نے اس قدر ماتم کیا کہ کسی کو ضبط کرنے کی تاب نہ رہی۔
فَجَعَلَ اهْلُ الْكُوفَةِ يَنودُونَ وَيَبْكُونَ تب ابن حسینؓ نے فرمایا: فَقَالَ عَلِیَ ابْنُ الْحُسَيْنَ بِصَوْتٍ مَثيلٍ اَيَبْكُونَ مِنْ حُبِّنَا فَمَنْ ذَالَّذِی قَتَلَنَا۔
ترجمہ: یعنی جب شیعیانِ کوفہ نے ماتم برپا کیا تو فرمایا زین العابدینؒ نے باریک آواز سے فرمایا اب تم لوگ روتے اور چلاتے ہو ہمارے لیے یہ تو بتاؤ کہ ہمیں ذبح کس نے کیا یعنی تم ہی تو قاتل ہو، پھر رونے چلانے کے کیا معنیٰ؟
اسی کتاب کے صفحہ 717 میں ہے کہ سیدہ امِ کلثومؓ نے اہلِ کوفہ کو مخاطب کر کے فرمایا:
ثُمَّ إِنَّ اُمّ كُلْثُومَ اطَلَعَتْ رَاسَهَا مِنَ الْمَحَلِّ وَقَالَتْ لَهُمْ يَا اهْلَ الْكُوفَةِ يَقْتُلْنَا رِجَالُكُمْ وَتَبْكِيْنَا نِسَاءُكُمْ فَالْحَاكِمُ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ اللّٰهُ يَوْمَ الْفَصْلِ لِلْقَضَايَا۔
ترجمہ: یعنی مائی صاحبہ امِ کلثومؓ نے محل سے اپنا سر باہر نکال کر فرمایا کہ چپ رہو اے کوفیو! تمہارے مردوں نے ہمیں قتل کیا اور تمہاری عورتیں ہم پر روتی ہیں عجب ہے بروز قیامت ہمارے اور تمہارے درمیان خدا خود فیصلہ کرے گا اور بد کرداروں کو جہنم واصل کرے گا۔
اخبار ماتم صفحہ 166 میں ہے کہ حضرت زین العابدینؒ نے فرمایا:
يَاَيُّهَا النَّاسُ فَانْشَدْتُكُمْ بِاللّٰهِ هَلْ تَعْلَمُونَ اَنَّكُمْ كَتَبْتُمْ اِلٰى ابی وَجَدَعْتُمُوهُ۔
ترجمہ: یعنی اے گروہ مرداں قسم ہے پروردگار کی تم کو سچ کہو جو میں کہتا ہوں کہ تم نے کس قدر خط میرے والد بزرگوار کے نام تحریر کیے تھے پھر تم نے میرے باپ کا ساتھ چھوڑ دیا اور ظلم وستم پر کمر باندھ لی۔